7 نومبر 2015 - 16:06
نریندر مودی کی کشمیر آمد پر سیاہ غبارے اڑائے گئے

نریندر مودی کے دورے مقبوضہ کشمیر کے پیش نظر امن قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ملین مارچ کال کو ناکام بنانے کیلئے پولیس نے مزاحتمی لیڈران اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ رہا شدہ جنگجوؤں اور مشتبہ سنگبازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کرکے 1200 کے قریب گرفتاریاں عمل میں لائی تھیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے پیش نظر ’’ملین مارچ‘‘ کو ناکام بنانے کیلئے کڑے حفاظتی بندوبست کے دوران شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں سخت ترین ناکہ بندی سے لاکھوں لوگ دن بھر محصور رہے اور سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آئے، تمام طرح کی دکانیں، کاروباری ادارے، بازار، بینک، تعلیمی ادارے اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بند رہے۔ شہر سرینگر کے اطراف و اکناف میں سکیورٹی کا جال بچھایا گیا تھا جس کی وجہ سے شہر ایک چھاونی کی شکل پیش کررہا تھا۔ اس دوران سرینگر کی طرف آنے والی سڑکوں او شہراؤں پر چپے چپے پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور صرف مودی ریلی میں خصوصی پاس رکھنے والوں کو ہی شہر میں آنے کی اجازت دی گئی۔ ریلی میں شامل گاڑیوں پر واپسی کے دوران نارہ بل، پانپور، کرن نگر سرینگر، صدرکوٹ بالا اور اجس بانڈی پورہ میں پتھراؤ کیا گیا جس کے باعث ایک درجن گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور ایک سرپنج سمیت کئی افراد زخمی ہوئے ہیں، ادھر سرینگر میں ایک نوجوان کو قابض فورسز کے ہاتھوں شیل لگنے سے شہید ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

ادھر حبہ کدل، بارہمولہ اور دیگر کئی جگہوں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ سیاہ جھنڈے اور سیاہ غبارے ہوا میں اڑائے گئے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ کے موقعہ پر حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر کے ٹی آر سی گراؤنڈ میں ’’ملین مارچ‘‘ کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک سمیت بیشتر مزاحتمی تنظیموں نے حمایت کی تھی، نریندر مودی کے دورے کے پیش نظر امن قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ملین مارچ کال کو ناکام بنانے کیلئے پولیس نے مزاحتمی لیڈران اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ رہا شدہ جنگجوؤں اور مشتبہ سنگبازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کرکے 1200 کے قریب گرفتاریاں عمل میں لائی تھیں۔ اس سلسلے میں پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں دوران شب ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا اور لالچوک کی طرف آنے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲