اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیر کو تہران میں ایک قومی سمینار سے خطاب میں کہا کہ سانحہ منیٰ بہت ہی دردناک اور غم انگیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ حجاج کرام اپنی شہادت سے پہلے عرفات میں اپنے خدا سے رازونیاز کرچکے تھے اور مشعرالحرام میں رات گزارنے کے بعد منیٰ پہنچے تھے جہاں ان کے لئے دردناک حالات پیدا کئے گئے اور ان کی شہادت واقع ہوگئی۔
صدر مملکت نے کہا کہ سانحے کے آغاز اور اس کے آخر تک بدانتظامی اور بے تدبیری بہت سے سوالات کھڑے کرتی ہے - انھوں نے ایک بار پھر سانحہ منیٰ کے تعلق سے تمام حقائق سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدرمملکت نے کہا کہ خوش قسمتی سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ملکوں کے سربراہوں کی موجودگی میں ایرانی قوم کی فریاد مظلومیت دنیا والوں کے کانوں تک پہنچائی گئی۔
انھوں نے کہا کہ سانحہ منیٰ میں بیس ملکوں کے حجاج کرام شہید اور زخمی ہوئے ہیں لیکن اس سلسلے میں سب زیادہ آواز اور احتجاج ایران نے کیا ہے اور اب بھی تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایران ایسا ملک ہے جو اپنے شہیدوں کے جنازوں کو اپنے وطن واپس لوٹانے میں کامیاب ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲