27 اگست 2015 - 18:43
مساجد کا انہدام،صہیونیوں کے مسلمانوں کے اتحاد سے خوف وہراس کا نتیجہ ہے

تہران یونیورسٹی کے ایک استاد نے کہا ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ اپنی گہری دشمنی کی بنا پراسرائیل جہاں پرمسلمانوں کے اتحاد کا مشاہدہ کرتا ہے اوران کی سرگرمیوں کی راہ ہموارہوتے دیکھتا ہے،تو وہ فورا وہاں پرتخریبی کاروائیاں انجام دیتا ہے تاکہ مسلمانوں کی وحدت کو نقصان پہنچا سکے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی کے استاد آیت اللہ سید محمد تقی حکیم نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران ایک کامیاب اورمتحرک مسجد کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد مسلمانوں کے اجتماع،دینی اعتقادات کی ترویج اوراسلامی بحثوں اورتفسیرقرآن کریم بیان کرنے کامکان ہے کہ جس سے معاشرے کے افراداستفادہ کرتے ہیں اوروہ متوجہ ہوتےہیں کہ اسلام کیسا دین ہے اورمقام عمل میں مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے؛درحقیقت مساجد کی برکت سے ہی یہ تمام چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔

انہوں نے اس سوال کہ صہیونی حکومت کیوں مساجد کومنہدم کرتی ہےاورمسجد الاقصیٰ پرحملے کرتی ہے؟کے جواب میں کہا ہےکہ بیت المقدس پرقبضے اورامریکہ اوردیگراسلام دشمنوں کی پشت پناہی میں اسرائیل میں اس قسم کے گھٹیا اورپلید اقدامات کرنے کی جرات پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اگرتمام اسلامی ممالک آپس میں متحد ہوجائیں توپھراس قسم کا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہوگا۔
یونیورسٹی کے اس استاد نے اس بات پرزوردے کرکہا ہےکہ اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی، سماجی اورثقافتی مسائل کے تمام پہلووں کومدنظرقراردیں اورہرلمحے اپنے فرائض کوپہچانیں اوراس سلسلے میں سستی اورکاہلی سے کام نہ لیں۔

.......

/169