اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین پریس سینٹر کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب کی یونیورسٹی نے جنوبی لبنان سے اسرائیل کی پسپائی کے پندرہ برس پورے ہونے کے موقع پر ایک نشست منعقد کی- اس نشست میں سابق صیہونی وزیر جنگ ایہود باراک نے جنوبی لبنان سے پسپائی اختیار کرنے کے اپنے فیصلے کی وجوہات کی وضاحت کی- ایہود بارک نے حزب اللہ کی فوجی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو ٹھیک طرح سے اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں-
صہیونی ریاست کے سابق وزیر جنگ نے کہا کہ حزب اللہ کے میزائیلوں کی بڑھتی توانائیوں سے اسرائیل شدید تشویش میں مبتلا ہے- انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا اینٹی میزائل سسٹم نہایت مہنگا ہے اور اس کے باوجود یہ اینٹی میزائل سسٹم تل ابیب کو حزب اللہ کے میزائلوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتا- قابل ذکر ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے جانبازوں کے مقابلے میں بے بس ہوکر صیہونی فوجیوں کو نہایت ہی ذلت کے ساتھ اس علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا اور حزب اللہ نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر عالم اسلام سمیت پوری دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا-
۔۔۔۔۔۔۔
/169