6 مئی 2015 - 06:27
سعودی عرب کا ایک بھی مقصد یمن میں پورا نہیں ہوا/  یمنی سعودیہ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے امریکہ کے فریب میں آکریمن پر حملہ کیا اور اس حملے سے سعودی عرب کا چھپا ہوا مکروہ اور بدنما چہرہ نمایاں ہوگیا اور واضح ہوگیا کہ سعودی عرب کے ہمسایہ ممالک کبھی بھی سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے منگل کی رات کو علاقے کے مسائل خاص طور پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی علاقے میں مچائی تباہی کے سلسلے میں تقریر کرتے ہوئے سعودی عرب کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: سعودی عرب کے حکام کو یمن پر حملوں کے آغاز سے اب تک اپنے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ دارالحکومت صنعا سے فرار ہو جانے والا صدر عبد ربہ ہادی منصور دارالحکومت واپس نہیں لوٹا ہے اور یمن کی فوج اور عوامی فورسز جنوبی علاقوں میں اپنی پیشقدمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں-
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے سعودی عرب کے حکام کو امریکہ کا غلام اور نوکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب بڑے شیطان امریکہ کی حمایت کے باوجود، اللہ کے فضل و کرم اور یمنی عوام کی شجاعت اور ثابت قدمی سے شکست سے دوچار ہے اور ۴۰ دن کی وحشیانہ اور ظالمانہ جارحیت میں سعودی عرب اپنے کسی ایک مقصد کو نہیں پہنچ پایا ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے امریکہ کے فریب میں آکریمن پر حملہ کیا اور اس حملے سے سعودی عرب کا چھپا ہوا مکروہ اور بدنما چہرہ نمایاں ہوگیا اور واضح ہوگیا کہ سعودی عرب کے ہمسایہ ممالک کبھی بھی سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یمن کے خلاف عربی اور مغربی اتحاد سے سوال کیا جائے کہ انھوں نے اس جنگ میں اب تک کون سے اہداف حاصل کرلئے ہیں انھوں نے کہا کے بےدفاع شہریوں ، بچوں، ،عورتوں اور بے گناہ افراد کا قتل عام کرنا بہادری نہیں ، سعودی عرب کی بہادری زمین پر ظاہر ہوگی ، سعودی عرب ،یمن پر حملے کے لئے کرائے کے فوجیوں کی بھیک مانگ رہا ہے چند مزدور ملکوں کے علاوہ کوئی کرائے کے فوجی دینے کے لئے تیار نہیں لیکن یمنی عوام تو اپنے ملک کا دفاع کررہے ہیں ۔
 سید حسن نصر اللہ نے امریکہ سے وابستہ عرب حکام کو عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آل سعود مشرق وسطی میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم شام کے عوام کے ساتھ ہیں اور خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔دوسرے ممالک سے آئے ہوئے دہشت گردوں کا صفایا شامی اور لبنانی سکیورٹی دستوں کی ذمہ داری ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ’’امید کی واپسی‘‘ نامی آپریشن بھی ایک فریب ہے اور اس کا مقصد ڈیسائسیو اسٹروم آپریشن نامی فوجی جارحیت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے-
سید حسن نصراللہ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ سعودی امریکی حملے کا مقصد یمن پر تسلط حاصل کرنا ہے، کہا کہ جارحین اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ عام شہریوں کی حمایت کر رہے ہیں لیکن جب سے حملے شروع ہوئے ہیں تب سے صرف رہائشی عمارتوں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے-
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یمن میں سعودی عرب اور القاعدہ کا اتحاد صاف نظر آتا ہے اور یمنی عوام کی حمایت کے دعوے کے معنی ان کے زیادہ سے زیادہ قتل عام کے ہیں اور اس سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ جارحین نے کلسٹر بموں جیسے ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے ہیں-
سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ سعودی اتحاد اشیائے خورد و نوش اور ادویات یمن پہنچائے جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور جن علاقوں میں غذائی اشیا موجود ہیں ان پر بمباری کر رہا ہے - انسانی صورتحال بہت ابتر ہے لیکن یمنی عوام نے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں اور وہ جارحین کے مقابلے کے سلسلے میں پرعزم ہیں-
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے دہشتگردی کے نام نہاد مقابلے سے متعلق امریکی سازش کے بارے میں بھی کہا کہ امریکہ دہشتگرد گروہ داعش کے مقابلے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ خطے میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے داعش کے خطرے سے فائدہ اٹھا رہا ہے-
سید حسن نصراللہ نے تاکید کی کہ امریکہ کا اصل مقصد قبائلی اور نسلی بنیادوں پر ممالک کو تقسیم کرنا ہے تاکہ یہ ممالک کمزور ہو جائیں اور ہمیشہ حالت جنگ میں رہیں-

۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲