4 دسمبر 2024 - 09:50
ترکیہ کے گرین سگنل کے بغیر، شام پر دہشت گردوں کا حملہ ناممکن تھا، اقوام متحدہ میں شامی مندوب

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے آج صبح، سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: شام پر دہشت گردوں کا حملہ غیر ملکی ـ بالخصوص ترکیہ کی ـ حمایت اور ان کے فراہم کردہ بھاری ہتھیاروں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ ےک مطابق، اقوام متحدہ میں شام کے مستقبل مندوب قُصَیّ الضحاک (Qusay al-Dahhak) نے آج (بدھ 4 دسمبر 2024ع‍ کو) سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور عارضی صہیونی ریاست شمال مغربی شام پر دہشت گردوں کے حملے میں برابر کے شریک ہیں۔

الضحاک نے کہا: دہشت گردوں نے بیرونی امداد کے بدولت جدید ترین معیاری ہتھیاروں اور عسکری وسائل کے ساتھ، شام پر حملہ کیا اور ان ہی ہتھیاروں کی مدد سے وہ حلب کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔

الجزیرہ نے الضحاک کے حوالے سے لکھا: شام پر دہشت گردوں کا حملہ ترکیہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن روم کی ہدایات اور گرین سگنل کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ـ حمایت اور ان کے فراہم کردہ بھاری ہتھیاروں کے بغیر ممکن نہیں تھا اور دہشت گردوں کو مسلسل حملوں کا امکان اسرائیل نے فراہم کیا۔

اس شامی سفارت کار نے کہا: دہشت گردوں کا حملہ بہت بڑا اور وسیع تھا جس سے ویسے بھی بین الاقوامی اور علاقائی فریقوں کی حمایت اور مداخلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جنہوں نے دہشت گردی کو ایک بار پھر اپنی خارجہ پالیسیوں کے نفاذ کے لئے اوزار بنایا ہے۔

الضحاک کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کو حلب میں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور وہ حکومت شام کی عملداری میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اور جو اس شہر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں انسانی حوالے سے انتہائی ناقابل برداشت صورت حال کا سامنا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپلی کی کہ تکفیری ـ صہیونی دہشت گردوں کے اس حملے کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے حامی اور مُحَرِّک ممالک کو پابند بنا دے کہ اپنی پالیسیاں بدل دیں اور "دہشت گردی" کو ایک [ناقابل انکار] حقیقت" نہ بننے دیں۔

عربی جمہوریہ شام کے مستقل مندوب نے کہا: شام ہیئت تحریر الشام" نام دہشت گرد ٹولے اور اس کے ذیلی اجزاء کے حامی ممالک کو اس حملے اور اس کے منفی اثرات کا ذمہ دار سممجھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110