2 دسمبر 2024 - 21:36
شام پر مغربی- یہودی-ترکی دہشت گردی کی یلغار / لبنان میں صہیونیوں کی شکست کا بدلہ!

لبنان میں جنگ بندی اور صہیونیوں کی شکست کا اعلان ہوتے ہی مغربی- یہودی-ترکی دہشت گردی کی یلغار شروع ہوئی اور حلب شہر ایک بار پھر غیر ملکی دہشت گردوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ پراجیکٹ در حقیقت خطے میں بدامنی پھیلانے اور صہیونیوں کو غزہ پر مکمل قبضے کے لئے موقع فراہم کرنے کے لئے شروع کیا گیا۔ [---]

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، لبنان میں جنگ بندی اور صہیونیوں کی شکست کا اعلان ہوتے ہی مغربی- یہودی-ترکی دہشت گردی کی یلغار شروع ہوئی اور حلب شہر ایک بار پھر غیر ملکی دہشت گردوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ پراجیکٹ در حقیقت خطے میں بدامنی پھیلانے اور صہیونیوں کو غزہ پر مکمل قبضے کے لئے موقع فراہم کرنے کے لئے شروع کیا گیا۔ یہ پراجیکٹ یہودی ریاست اور ترکیہ سمیت بعض دوسرے علاقائی اور بین الاقوامی بازیگروں کی مدد سے شروع کیا گیا۔ ترکیہ اور صہیونی ریاست کے ساتھ اس نئی یلغار کے رابطے مستند ہیں اور اس حوالے سے قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں۔ یہ اقدام ایک طرف سے شام کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (4) کے تحت بنیادی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے، اور دوسری طرف سے اس سے ترکیہ اور بعض دوسرے ممالک اور یہودی ریاست (اسرائیل) کے درمیان قریبی تعاون اور فلسطینی اور لبنانی عوام کے قتل عام میں ان کی شراکت کا عملی ثبوت بھی ہے۔

ادھر صہیونی ریاست لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیان کر رہی ہے اور بین الاقوامی حمایت کے سائے میں، غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں عام شہریوں کے خلاف اپنے گھناؤنے جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

لبنان میں جنگ بندی کی درخواست "اسرائیل" نے دی تھی اور جنگ بندی کا مسودہ امریکہ اور فرانس نے پیش کیا تھا جس کا ظاہری مقصد خطے کی صورت حال کے استحکام تھا مگر یہ بھی صہیونی جنگی جرائم کا وسیلہ قرار پایا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے، ان صہیونی جرائم کے لئے بین الاقوامی بازیگروں کی حمایت ہی نہیں بلکہ ان کی خاموشی بھی، جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہے۔ دوسری طرف سے شام میں دہشت گرد ٹولوں کی کاروائیوں کے لئے مغربی ممالک کی ابلاغیاتی ماحول سازی اور خطے کے عوام کے درمیان افواہیں پھیلانے اور نفسیاتی جنگ میں شراکت، اس دہشت گردانہ فتنے میں ان کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے اور اس فتنے کا اہم ترین مقصد غزہ اور فلسطینی مقاومت کو تنہا کرنا اور فلسطینیوں کے قتل عام کو آسان بنانا ہے۔

جیسا کہ صہیونیوں نے خود اعتراف کیا، لبنان کے ساتھ جنگ بندی کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ صہیونی تھک ہار کر اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ اور عجب یہ کہ نیتن یاہو نے جنگ بندی کے سلسلے میں اپنے خطاب کے دوران شام کو دھمکی دی تھی کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے اور اگلے دنوں میں شام میں حیرت انگیز واقعات رونما ہونگے۔ جس کے بعد تکفیری دہشت گردی ترکیہ کی براہ راست مداخلت سے، شروع ہوئی۔ غیر ملکی (ازبک، اویغور، چیچن، تاجیک اور بظاہر پاکستانی) دہشت گردوں کے مختلف گروپ ترکیہ سے ٹینکوں کے ساتھ شام میں داخل ہوئے اور اردوگان نے اعلان کیا کہ "ہم مجبور ہو کر شام میں واپس جا رہے ہیں!!!" جس سے ثابت ہؤا کہ ترک صدر کے تند و تیز الفاظ میں صہیونیوں کی مذمت پر مبنی بیانات نورا کشتی کے سوا کچھ بھی نہیں تھے اور ان کے درمیان تعاون کی جڑی بہت گہری ہیں اور ترکیہ کی حکومت بھی امریکیوں اور یورپیوں کی طرح،  غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام میں برابر کی شریک ہے؛ اور دہشت گردوں کو حلب پر چڑھانا بھی مشترکہ مغربی- یہودی-ترکی پراجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد لبنان کے مقابلے میں صہیونیوں کی شکست کا بدلہ لینا، ڈوبتی ہوئی صہیونی ریاست کو محفوظ بنانا ہے۔

گوکہ 2011 اور 2024 میں بڑا فرق ہے، دہشت گرد اس بار ایک باقاعدہ فوج کی طرح میدان میں آئے ہیں، چنانچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اس جنگی روش سے نمٹنا بہت آسان ہے اور انہیں بہت جلد مار بھگایا جائے گا۔ ان کا خیال ہے کہ گو کہ صہیونیوں اور امریکیوں نے خطے میں اپنے گماشتوں کی مدد سے محفوظ ٹھکانوں میں محبوس دہشت گردوں کو جنگ میں دھکیل کر عارضی طور پر صہیونیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے دہشت گردوں کو قربانگاہ میں بھیج دیا ہے اور اب کوئی بھی ترکیہ کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں تحفظ دینے کا کوئی جواز نہیں رہا ہے چنانچہ انہیں تحفظات کے بغیر کچل دیا جائے گا۔

ادھر مغرب نے ایک بار پھر بھی سلطان محمد فاتح بننے کے شوقین رجب طیب اردوگان کو دھوکہ دے کر شام میں بھیج دیا ہے اور وہ براہ راست طور پر دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں، لیکن جیسا کہ شہید سید حسن نصراللہ نے صہیونیوں سے کہا تھا کہ "تھوڑے عرصے کے لئے خوشیاں مناؤ، یقینا طویل عرصے تک آنسو بہاؤگے"۔ لگتا ہے کہ جناب اردوگان کو بھی بہت جلد طویل عرصے تک رونے کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔

نکتہ: بعض مبصرین نے ـ دہشت گردی کے اس فتنے کے اثرات و عواقب سے قطع نظر ـ ترکیہ کے بوڑھے صدر کے لئے ایک دہشت گرد لڑکے کی پیروی کرنے کو باعث شرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نجم الدین اربکان مرحوم کے منحرف شاگرد کا انجام اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔

110