اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک کے مقامی
وقت کے مطابق بدھ کے روز منعقد ہؤا اور 15 مستقل اور غیر مستقبل ارکان میں سے 14
ارکان نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا لیکن امریکہ نے اس
قرارداد کو ویٹو کرکے ایک بار انسان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے صہیونیوں کو نسل کشی
اور تباہ کاری جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا۔
یاد رہے کہ اس
قرارداد پر رائے دہی کے وقت کسی بھی رکن ملک نے غیرجانبداری کا اظہار نہیں کیا۔
اس مسودے کے تحت
غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سلامتی کونسل کے
رکن گویان کے مستقل مندوب نےاس موقع پر کہا کہ اس مسودے میں غزہ کی جنگ کے بارے میں
گذشتہ 4 قراردادوں کے نفاذ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ
نے سابقہ تمام قراردادوں کو بھی ویٹو کر دیا تھا۔
امریکہ نے بدھ
کے روز جس مسودے کو ویٹو کیا اس میں غزہ کے عوام کے لئے اشیائے خورد و نوش کی ترسیل
کی ضمانت بھی شامل تھی اور غزہ میں امدادی کاروائیوں نیز UNRWA کی بحالی بھی قرار دیا کا
حصہ تھی۔
ادھر ووٹنگ سے
قبل ایک اعلی امریکی عہدیدار نے سلامتی کونسل کے ارکان پر الزام عائد کرتے ہوئے
دعویٰ کیا تھا کہ اس ان کے بقول یہ ممالک معقول معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بن رہے
ہیں اور اگر مسودے میں تبدیلی نہ لائی گئی تو امریکہ اسے ویٹو کردے گا۔
امریکی عہدیدار
نے کہا تھا کہ واشنگٹن صرف ایسے امن مسودے کی حمایت کرے گا جس میں اس کے بقول غزہ
سے اسرائیلی قیدیوں کی غیرمشروط رہائی کی ضمانت فراہم کی گئی ہو۔
ووٹنگ کے بعد اس
امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ ووٹنگ سلامتی کونسل کے ارکان کی حقیقی رائے نہیں
تھی اور قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ارکان پر مبینہ طور پر، دباؤ ڈالا گیا
تھا!
امریکی عہدیدار
نے یہ نہیں بتایا کہ سلامتی کونسل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اثر و رسوخ کے
باوجود، کون سے ملک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ارکان پر دباؤ ڈالا ہوگا۔
گویا بڑا شیطان "ضمیر کی آواز" کو "بیرونی دباؤ" کا نام دیتا
ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
