اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل ڈاکٹر
حسین سلامی نے تہران کے سپہر ایئرپورٹ میں منعقدہ نصر اللہ جنگی-سیکورٹی مشقوں کے
موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم نے "بسیج" کے ذریعے امت مسلمہ کے لئے تابندہ
تاریخ رقم کی ہے، اور ہم نے بسیج کے ذریعے ایک سخت اور آٹھ سالہ طویل جنگ کی
دشوارگذار گھاٹیوں کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا حالانکہ اس وقت کی تمام مسلط
طاقتیں یکجا ہوکر ملت ایران کے مد مقابل کھڑے ہوئے تھے۔
سپاہ پاسداران
انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل ڈاکٹر حسین سلامی نے کہا: ہم نے ملت ایران کے
عزم اور جہادی اقدامات سے اقتصادی پابندیوں کے سخت اور خطرناک مرحلے کو پیچھے چھوڑ
دیا۔ دشمن اسلامی انقلاب اور ملت ایران کی عظمت اور تشخص کے حوالے سے دلوں اور
ذہنوں میں شک و تذبذب بھرنا چاہتا ہے لیکن ہم اس مرحلے سے بھی عبور کریں گے۔
ہم نے خطروں اور
فتنوں سے بھی بسیج کی مدد سے آگے بڑھ گئے، بسیج ایک عدیم المثال جماعت ہے اور جب
تک کہ لا متناہی جماعت اسلام، ایران کے مفادات، سلامتی، عزت اور امت مسلمہ کے امن
و سکون کا تحفظ کر رہی ہے، آج کی دنیا کی بڑی طاقتوں جتنی کوئی بھی طاقت، اس بے
انتہا لشکر، اور ایمان وجہاد و شہادت کے سرجشمے سے ابلنے والے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے
دریا اور روئے زمین پر جاری اس بے انتہا عظمت کے سامنے ڈٹ نہیں سکےگی۔
آج ایک تاریخی
مقابلہ ہے، اور باطل کی تمام طاقتیں اس تاریخی تقابل میں اسلام اور مسلمانوں کے
آمنے سامنے کھڑی ہیں، دنیا کی جدیدترین افواج غاصب صہیونی ریاست کی مدد کو آئی ہیں۔
صف بندی، طاقت کی عالمی صف بندی ہے، اور دشمنان اسلام ہمیں اپنے ارادے کے سامنے سر
تسلیم جھکانے پر مجبور کرنا اور ہمارے مقدرات پر مسلط ہونا چاہتے ہیں، ہماری
سرزمینوں پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور ہمارے دینی تشخص کو غارت کرنا چاہتے ہیں۔
ایک تاریخی اور حقیقی
تقابل معرض وجود میں آ رہا ہے۔ تاریخ ان انسانوں کی مقاومت و مزاحمت کے عدیم
المثال کارنامے ثبت کر رہی ہے جو ایمان اور اسلام کے نام پر ان دشمنوں کے سامنے
کھڑے ہیں۔ البتہ، ہم ان سے کہتے ہیں کہ جاؤ، تاریخ کا مطالعہ کرو، تمہیں کہیں بھی
ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی جہاں مسلمین نے کفار، مشرکین اور مناققین کے سامنے سرتسلیم
خم کرکے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔ صدر اول میں فتح خیبر کے واقعے سے رجوع کرو، یقینا
تمہارا آج کا انجام معرکۂ خیبر کے انجام جیسا ہوگا۔
میں دشمنوں سے
کہنا چاہتا ہوں کہ تم توڑ دیئے جاؤگے، اور مسلمانوں کے سامنے پامردی نہیں دکھا سکو
گے۔ گوکہ آج تم گھروں کو تباہ کر رہے ہو، شہروں اور بستیوں کو منہدم کر رہے ہو،
مظلوم مسلمانوں کو ملبے تلے دفن کر رہے ہو؛ لیکن جان لو کہ اگر تم نے غزہ کی پٹی
میں 40 ہزار مظلوموں کو گھیر کے شہید کر دیا ہے، تو اسی عرصے میں ایک لاکھ فلسطینی
بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔
یہ وہ بچے ہیں
جو جہاد کا سبق اپنی ولادت کے لمحے سے سیکھیں گے اور چلنے کی صلاحیت پاتے ہی جہاد
کا پرچم سنبھالین گے، کیا تم [دشمنان اسلام] حزب اللہ کے جوانوں کی عظمت دیکھ رہے
ہو؛ جن پر تم نے حالیہ مہینوں میں شدید ضربیں لگائیں، لیکن آج پرعزم اور ثابت قدم،
مربوط ارادے کے ساتھ میدان میں کھڑے ہیں اور ہر روز تمہارے وجود پر ناقابل تلافی
ضربیں لگا رہے ہیں؟
وہ تم سے ان
ضربوں کا انتقام لے رہے ہیں جو تم نے ان پر لگائیں اور تم نے سوچا کہ حزب اللہ
اپنے قائد کی شہادت اور اپنے کمانڈروں کی شہادت، اور پیجرز دہشت گردی کے دوران اپنے
کچھ جوانوں کی شہادت کی بنا پر میدان چھوڑ کر چلی جائے گی، لیکن شاید تم نہیں
جانتے تھے کہ یہ باعظمت تحریک خاموش ہونے والی نہیں ہے اور ختم ہونے والی نہیں ہے۔
میں دشمنوں سے
کہتا ہوں کہ ہم تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آخر تک لڑیں گے، اور تمہیں
مسلمانوں کے مقدرات پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ تم کو دردناک ضربیں برداشت کرنا
پڑیں گے، صرف انتظار کرو۔
جنرل سلامی نے
نصر اللہ سیکیورٹی ـ جنگی مشقوں کے شرکاء سے مخاطب ہو کر کہا:
جب آپ میں میدان
میں ہیں، تو دشمن میدان چھوڑنے پر مجبور ہے۔ دشمن کے ساتھ ہمارے تقابل اور تصادم
کی مثال نور اور ظلمت کے تقابل کی مثال ہے، یعنی جہاں بھی نور چمکتا ہے، ظلمت برباد ہو جاتی ہے۔
ہمارے دشمنوں کا
سرچشمہ ظلمت، تیرگی اور باطل ہے اور اسے بہر صورت مٹنا اور فنا ہوجانا ہے، اللہ
وعدہ ہے کہ باطل آپ کے ہاتھوں نابود ہوگا، البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ آج کی طرح
شاداب، باوقار، مطمئن با عظمت، باشکوہ میدان میں رہیں گے، کیونکہ آپ مطمئن قلبوں
کے مالک ہیں۔
آپ نے فتح و ظفر
کا پرچم سنبھالا ہؤا ہے، آپ کبھی نہ حتم نہیں ہونگے، آپ کبھی بھی
جھکنے والے نہیں ہیں، آپ کبھی بھی ہار ماننے والے نہیں ہیں، آپ اصحاب فتح ہیں،
چنانچہ اللہ کی نصرت دشوار گھڑیں میں آپ کی مدد کو آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110