10 نومبر 2024 - 08:04
ایران کے وسطی صحرا میں ایک چمکیلی شیئے کی نمائش کے پیغامات / کیا یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ تھا؟ + ویڈیو

ایران کے وسطی صحرا میں ایک چمکیلی شیئے کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ ان تصاویر نے بہت سے ماہرین اور سوشل میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ ابتدائی شواہد ایک میزائل تجربے کی گواہی دیتے ہیں گوکہ ابھی تک کوئی تفصیلی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ گذشتہ ہفتے رہبر معظم کے مشیر اور خارجہ تعلقات کی اسٹراٹیجک کونسل کے سربراہ نے میزائل منصوبوں کی توسیع اور ان کی رینج 2000 کلومیٹر سے بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کے مطابق، گذشتہ ہفتے رہبر معظم کے مشیر اور خارجہ تعلقات کی اسٹراٹیجک کونسل کے سربراہ سید کمال خرازی نے المیادین چینل سے المیادین چینل سے بات چیت کرتے ہوئے میزائل منصوبوں کی توسیع اور ان کی رینج 2000 کلومیٹر سے بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ ایران کی تسدیدی ڈاکٹرائن (Deterrence Doctrine) بدل رہی ہے۔ دنیا نے ایران کی میزائل قوت کو تسلیم کیا ہے صرف میزائلوں کی رینج کا مسئلہ ہے جو مغربیوں اور اس حوالے سے یورپیوں کے کچھ تحفظات کی وجہ سے کچھ حدود کو ملحوظ رکھا جاتا تھا۔ لیکن جب وہ ہماری حساسیتوں کا لحاظ نہیں رکھتے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ان کے تحفظات کا لحاظ رکھیں۔ چنانچہ میزائلوں کی رینج میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

کمال خرازی کا یہی ایک جملہ کافی تھا کہ ایران کی فضاؤں میں ایک میزائل تجربہ دنیا بھر کے ذرائع ـ بالخصوص صہیونی سائبر نیٹ ورک ـ کی توجہ کا مرکز بن جائے، اور کچھ لوگ دعوی کر دیں کہ یہ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) تھا اور اس میزائل نے خاص قسم کے پیغامات نشر کئے ہیں، حالانکہ یہ بھی صرف ایک دعوی ہے اور اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:

ایران کے وجود کو خطرہ ہؤا تو جوہری ڈاکٹرائن بدل دیں گے، سید کمال خرازی


ایرانی میزائل اور سلامتی کی صورت حال میں تبدیلی

یہ بھی ممکن ہے کہ صہیونیوں کی طرف سے شاہرود کے علاقے میں بین البراعظمی میزائل کے تجربے کی خبر اس لئے ہو کہ ایران کی میزائل سرگرمیوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا جائے لیکن چاہے یہ بات درست ہو یا نہ ہو، یہ بات صحیح ہے کہ نئے میزائل کا تجربہ اور میزائل صلاحیت کو متنوع کرنے  (Diversification) کے اس اقدام کو تسدیدی سمت میں پیشرفت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تسدیدی صلاحیت امریکیوں کے لئے بھی قابل توجہ ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت ناقابل واپسی ترقی کی سمت میں آگے بڑ رہی ہے اور اس ترقی کا ایک پہلو بین البرا‏عظمی بیلسٹک میزائل کی تیاری ہے جو کہ ایران کے دشمنوں کی سرزمین پر براہ راست حملے کے ممکن بناتا ہے وہی دشمن جو اب تک خود کو ایرانی میزائلوں سے محفوظ سمجھتے تھے۔

اگرچہ ابھی بین البراعظمی میزائل ٹیکنالوجی تک ایران کی رسائی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر اطلاعات منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں کوئی چیز بھی اس ملک کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔ امریکی جرید "1945" نے حال ہی میں لکھا تھا کہ "کہا جاتا ہے کہ ایران بین البرا‏عظمی بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مصروف ہے تاکہ میسوامریکا (Mesoamerica یعنی وسطی امریکہ اور شمالی امریکہ کے کچھ حصوں) کو نشانہ بنا سکے۔

آج کے پرآشوب دور میں جبکہ دشمن مستقل ہیں اور دوست غیر مستقل، قومی سلامتی کو درپیش خطروں کا تحفظ دو حالتوں سے خارج نہیں ہے: یا تو بڑی طاقتوں کا دوست بنو اور اپنی غیر مستحکم وجود کو ان کی فوجی طاقت کے ذریعے [خوف و رجا کے ساتھ] محفوظ بنا دو یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح اپنی صلاحیتوں کا سہارا لے کر خودمختار اور غیر وابستہ دفاعی اور تسدیدی صلاحیت کے ذریعے اپنے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کا اہتمام کرو۔

 

ہر ملک کی تسدیدی صلاحیت اس کو درپیش خطروں اور اندرونی صلاحیتوں اور قوتوں کے تناسب سے مرتب ہوتی ہے اور اس وقت کے ماوراء البحار خطروں اور خطے میں مختلف بلاکوں کی تشکیل کے بموجب، ایران نے بھی جدید تسدیدی نظریات پر کام شروع کیا ہے۔

وزیر خارجہ، سید عباس عراقچی نے کل "مکتب نصر اللہ سیمینار" سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا دائرہ پھیلنے کی صورت میں اس کے شعلے دور افتادہ علاقوں تک بھی پہنچیں کے اور یہ جنگ دور دور تک پھیل جائے گی!!

البتہ شاہرود میں ایک چمکیلی شیئے کی نمائش اور اس کی تصاویر کی وسیع پیمانے پر اشاعت کا ایک پیغام اور بھی ہے۔ اور وہ یہ صہیونیوں نے اپنے غلط اندازوں کی بنیاد پر، ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا تو کچھ مغربی ممالک غلط حساب و کتاب سے دوچار ہو کر کہہ بیٹھے کہ ایران کا آئی سی بی ایم کا تجربہ اور ٹھوس ایندھن تک رسائی تقریبا ایک سال تک مؤخر ہو چکی ہے لیکن اس چمکیلی شیئے نے ان کے جعلی منظرناموں کو مشکوک بنایا اور واضح ہؤا کہ ایران کا آئی سی ایم بہت زیادہ توانائی کے ساتھ فضاؤں میں دکھائی دینے لگا ہے۔

نیز اس کا چمکیلی شیئے کی رونمائی مستقبل قریب کے حالات کے لئے بھی پیغام رکھتی ہے۔ ایران کے ہر میزائل کا وار ہیڈ موجودہ ضروریات کے تناسب سے ڈیزائن کیا گیا ہے، وعدہ صادق-1 آپریشن میں تعداد تیزرفتاری پر مقدم تھی، اور وعدہ صادق-2 میں تیز رفتاری کو تعداد پر ترجیح حاصل تھی، تاکہ ایران کی جنگی انجینئرنگ اپنے اہداف سے قریب تر ہوجائے۔ لگتا ہے کہ اب دشمن کو ایسے وارہیڈز کا دیدار کرنا پڑے گا جن کی تعداد اور رفتار سابقہ دو تابناک کاروائیوں میں استعمال ہونے والے میزائلوں سے مختلف ہوگی۔

جس حقیقت کو دشمن کی توجہ کی زیادہ ضرورت ہے وہ یہ سنہری جملہ ہے کہ "آج جس چیز نے اسلامی جموریہ ایران کو خطے میں مصروف عمل کھلاڑیوں سے ممتاز کر دیا ہے وہ ہرمسئلے کے مقابلے میں ٹیکٹیکل تخلیقی جدت، اور مختلف صلاحیتوں کا تزویراتی امتزاج ہے"۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ تہران اس وقت صہیونیوں کو ناقص یا مکمل جواب دینے اور ایک حملہ کرنے کے درپے نہیں ہے بلکہ ہدف کے تعین اور دشمن کے اندازوں میں بنیادی تبدیلی لانے کے درپے ہے۔

ایسے حال میں کہ صہیونی ملک کی گہرائیوں میں ایران کی صلاحیتوں کو ناکارہ بنانے یا قبل از وقت حملہ کرنے کی سوچ رہے ہیں، ایران اس کو اسے گھٹن اور بے بسی میں ڈالنا چاہتا ہے جیسا کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ "اگر مغربی بلاک کو مغربی ایشیا میں امن چاہئے تو اسے اپنے چوکیدار کتے [یعنی یہودی ریاست] کو لگام دینا پڑے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110