28 اکتوبر 2024 - 06:37
صہیونی جارحیت کا مناسب جواب دیں گے، صدر ڈاکٹر پزشکیان

صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے آج کابینہ کے اجلاس میں کہا: ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہے، لیکن اپنی قوم و ملک کے حقوق کا دفاع کرین گے؛ ہم صہیونی ریاست کی جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے آج شام کو منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے عزیز عوام اور اسلامی جمہوریی نظام نے گذشتہ 45 سالہ عرصے میں ثابت کرکے دکھایا ہے کہ کسی صورت میں بھی کسی بھی جارح کے سامنے پسپا نہیں ہؤا ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا:

صہیونی ریاست کے جرائم آج دنیا والوں کے سامنے ثابت ہو چکے ہیں، آج دنیا والے دیکھ رہے ہیں کہ اس غاصب ریاست کے حامی ـ جن میں امریکہ آگے آگے ہے ـ انسانی حقوق اور آزادی کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن اس سفاک ریاست کے ہاتھوں دسوں ہزار بچوں اور خواتین کے قتل عام پر خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں! کیا یہ بچے دہشت گرد ہیں؟ کیا غزہ کے مظلوم عوام پر اشیائے خورد و نوش اور ادویات کا راستہ بند کرنا، جنگی اصولوں کا جزو ہے؟ کیا یہ مہذب دنیا کا حصہ ہے؟

آج دنیا کے بیدار کے بیدار ضمیر صہیونی ریاست اور اس سفاک و خونخوار ریاست کے جرائم سے نفرت کرتے ہیں۔

میں اپنے ملک پر صہیونی جارحیت کے بارے میں پھر بھی کہتا ہوں کہ ہم جنگ پسند نہیں ہیں لیکن ہم اپنی قوم اور ملک کے حقوق کا دفاع کریں گے۔ ہم صہیونیوں کی جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔

اگر صہیونیوں کی جارحیتوں اور جرائم کا سلسلہ جاری رہے تو کشیدگی پھیل جائے گی اور ہم جانتے ہيں کہ امریکہ ہی اسرائیل کو یہ المیئے رقم کرنے پر اکساتا ہن۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ "آپ صبر و تحمل سے کام لیں تو ہم [امریکی اور مغربی] جنگ کو ختم کریں گے، لیکن انہوں نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا"۔

میں مسلح افواج اور ايئر ڈیفنس سسٹم کے چار افسروں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ، مسلح افواج تعزیت پیش کرتا ہوں اور تفتان میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی میں سیکورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کی شہادت پر، اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکورٹی فورسز کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور متعلقہ حکام سے چاہتا ہوں کہ اس جرم کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارا ملک ان بحرانوں اور طوفانوں سے، سلامتی کے ساتھ، گذرے گا۔

صدر پزشکیان نے اس موقع پر وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی کارکردگی کی تعریف کی اور ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110