اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، "اقوام متحدہ کے
اہداف کی تقویت" کے زیر عنوان منعقدہ نشست سے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کے
خطاب کے اہم ترین نکات حسب ذیل ہیں:
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا:
- ہم ایٹمی اسلحے سے پاک دنیا اور مشرق وسطی کو غیر مشروط طور پر
اجتماعی قتل عام اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ دیکھنا
چاہتے ہیں۔
- ہم دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ملک کے عنوان سے، اس لعنت کے
خلاف جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں اور ان ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں
جو حقیقی معنوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
- ایران اپنے خطے کو
مضبوط، متحد، پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے جس میں علاقے کے سب ہی ملکوں کے
وسائل سے باہمی اقتصادی وسماجی پیشرفت
اور مشترکہ مشکلات دور کرنے کے لئے کام لیا جائے۔
- جس دنیا میں غزہ کے غیر فوجی عام شہری بے دردی کے ساتھ قتل کئے
جارہے ہیں، اندھی ریاستی دہشت گردی میں بچوں اور خواتین کو خاک و خون میں تڑپایا
جا رہا ہو اور نسل کشی نیز دہشت گردی کی حمایت کی جارہی ہے، اس دنیا میں کوئی بھی
دستاویز امن و ترقی کی ضامن نہیں ہوسکتی۔
- فلسطین پر ناجائز قبضے اور اپارتھائیڈ کا خاتمہ نیز غزہ میں فوری
جنگ بندی عالمی امن و ترقی کے لئے لازمی ہے۔
- امن و ترقی کے حصول کے لئے ملکوں کی ترقی کا حق تسلیم کرنا اور
ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کے تعلق سے عدل و انصاف کی
اصولوں کی پابندی ضروری ہے اور ان کے ہاں کی ترقی کی ترجیحات اور ثقافتی خصوصیات
پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
- من مانی پابندیوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو ناممکن
بنا دیا ہے۔ اس حقیقت کو ہر اس دستاویز میں
شامل ہونا چاہئے جو مستقبل کے لئے تیار کی جاتی ہے۔
- میری تجویز یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پابندیوں کی
بھینٹ چڑھنے والے ملکوں کے تعاون سے ایک جامع رپورٹ تیار کریں اور اس کو جنرل
اسمبلی میں پیش کریں۔
- ہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر حکمرانی کے ڈھانچے میں فوری
طور پر ایسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جس سے منصفانہ ڈھانچہ تیار ہو اور اس
کے فیصلوں میں ترقی پذیر ممالک بھی شریک ہوں اور
یہ ادارہ ان ملکوں کی مالی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
- انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت (artificial
intelligence) کی انتظامیہ میں جنوب کے
ملکوں کی رکنیت ضروری ہے اور اسی کے ساتھ ملکوں کے قومی قوانین کا احترام نیز
اجارہ داری کا مقابلہ نا قابل انکار ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110