اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی نیوز سائٹ واللا نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ صہیونی ریاست کے وزیر جنگ یواو گالانت نے لبنان میں پیجرز کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں شروع ہونے سے پہلے اپنے امریکی ہم منصب سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کی حکومت لبنان میں کارروائیاں انجام دینے جارہی ہے لیکن ان کا رروائیوں کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
یہ بات ایسے حال میں سامنے آئی ہے کہ لبنان میں پیجرزکے دھماکوں کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے دعوی کیا تھا کہ ان دھماکوں میں امریکہ کا کوئی ہاتھ ہے نہ اس کو اس کی اطلاع تھی اور امریکہ اس سلسلے میں معلومات حاصل کررہا ہے۔
اس نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ واشنگٹن لبنان اور صہیونی ریاست کے درمیان لڑائی کے سفارتی حل کی کوشش کررہا ہے۔
صہیونی نیوز سائٹ واللا نے اعلی امریکی عہدیداروں کے حوالے سے اپنی اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی ریاست کو یہ خوف تھا کہ کہیں حزب اللہ کو معلوم نہ ہوجائے کہ پیجرز میں بم لگائے گئے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس کی ساری محنت خاک مل جاتی۔
یاد رہے کہ غاصب صہیونی ریاست نے منگل کو انتہائی گھٹیا اور وحشیانہ ترین دہشت گردانہ کاررروائیوں میں پیجرزکے دھماکے کئے تھے۔
پیجرزکے ان دھماکوں میں گیارہ افراد شہید اور تقریبا چار ہزار افراد زخمی ہوگئے تھے۔
حزب اللہ لبنان نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست کے ان جرائم کی اس کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔
110