16 ستمبر 2024 - 07:05
یافا (تل ابیب) پر یمن کے ہائپرسانک بیلسٹک میزائل کے کامیاب حملے کی دلچسب تفصیلات / صہیونیوں پر لرزہ طاری ہے / صہیونیوں کے تزویراتی اہداف کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔ یمن + تصویر

عبرانی ذرائع نے اعتراف کیا کہ یمنی میزائل بحیرہ احمر میں امریکی دفاعی نظامات سے عبور کرکے کئی عرب ممالک کی فضاؤں سے گذرا، ان تمام ممالک کے فضائی دفاعی نظامات اسے نہ روک سکے اور جب یہ میزائل مقبوضہ فلسطین کی فضا میں داخل ہؤا تو غاصب صہیونی ریاست کے تین مختلف دفاعی نظامات نیز امریکی پیٹریاٹ دفاعی سسٹم نے درجنوں میزائل فائر کرکے اسے مار گرانے کی کوشش کی مگر یہ میزائل آخر کار اپنے ہدف "یافا" پر لگ گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق کل [15 ستمبر 2024ع‍ کی] صبح یمن نے ایک ہائپرسانک بیلسٹک میزائل یافا (جسے صہیونی تل ابیب کہتے ہیں) کی طرف داغا گیا جس کی وجہ سے اسرائیل کہلانے والی اراضی کے مرکز میں 20 صہیونی نوآباد شہروں اور قصبوں میں سائرن بجے اور صہیونیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے بعد ـ صہیونی فوجی ذرائع کے دعوے کے مطابق ـ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایک غیر آباد علاقے میں گر کر دھماکے سے پھٹ گیا۔

صہیونی ٹی وی چینل-14 نے صہیونی فضائیہ کی ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی نظامات کے داغے گئے تمام میزائل، یمنی میزائل کو مارگرانے سے میں ناکام رہے۔

صہیونی ذرائع نے کہا کہ ایرو اور ڈیوڈ سلنگ فضائی دفاعی سسٹمز نے 20 سے زائد میزائل فائر کرکے یمنی میزائل کو مارگرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

ان ذرائع کے مطابق، یمنی میزائل کئی عرب ممالک کی فضائی حدود اور بعدازاں صہیونی میزائل دفاعی سسٹمز سے گذر کر یافا (تل ابیب) پر اترا ہے۔ لبنانی ذرائع نے ایک ویڈیو کلپ نشر کرکے بتایا ہے کہ یہ میزائل یمن سے تل ابیب تک کا 2000 کلومیٹر کا فاصلہ چند ہی منٹوں میں طے کرکے، کسی غیر آباد علاقے میں نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم تزویراتی مرکز کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہؤا ہے۔

اسی حوالے سے، صہیونی ویب گاہ حداشوت بزمان (Hadashot Bazman) نے بھی لکھا کہ یمنی میزائل مارگرانے کے لئے بہت سارے میزائل فائر کئے گئے لیکن وہ میزائل کو نہ گرا سکے۔ غاصب بستی نشین اور آبادکار بھی اس میزائل سے مشرقی یافا [تل ابیب] میں لگنے والی آگ کے ویڈیو کلپ ایک دوسرے کے لئے بھیج رہے ہيں۔

ادھر صہیونی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف گڈی آئزن کوٹ (Gadi Eisenkot) نے یمن سے میزائل کے داغے جانے اور مقبوضہ فلسطین کے وسط میں لگنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "صورت حال ڈرامائی انداز سے بدل گئی ہے، ہماری فوج نے پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے ہوئے 9 اسرائیلیوں کے زخمی ہونے وسطی فلسطین میں بہت وسیع و عریض علاقوں میں سائرن بجنے کی اطلاع دی ہے"۔

ماہ جولائی 2024ع‍ میں بھی انصار اللہ نے طویل فاصلے پر مار کرنے والے "یافا" نامی ڈرون مقبوضہ یافا (تل ابیب) کی طرف فائر کیا تھا جس سے صہیونیوں کے دعوے کے مطابق ایک صہیونی مارا گیا تھا اور 4 زخمی ہوئے تھے۔ جس کے بعد صہیونیوں نے الحدیدہ بندرگاہ میں سول ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور تین یمنی شہید اور 87 دیگر، زخمی ہوئے تھے۔

بعد ازاں جولائی میں ہی یمن کی انصار اللہ تحریک نے ایک ڈرون مقبوضہ فلسطین کے مرکز کی طرف روانہ کیا جو مقبوضہ یافا میں امریکی سفارت خانے کے قریب لگا تھا اور پھر بھی صہیونی دعوے کے مطابق ایک صہیونی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

۔۔۔۔

یمن صہیونیوں کے تزویراتی اہداف کی فہرست تیار کر رہا ہے، حزام الاسد

انصار اللہ کے راہنما اور انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے  نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں یمنی مسلح افواج کے یافا (تل ابیب) میں میزائل کا نشانہ بنانے والے کل کے تباہ کن حملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی مسلح افواج مقبوضہ فلسطین میں واقع صہیونی ریاست کے اسٹریٹجک اہداف اور ٹھکانوں کی فہرست تیار کر رہی ہیں۔

انھوں نے صہیونی ٹھکانوں پر یمن کی مسلح افواج کے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل حملے کے بعد عبرانی زبان میں ایک پیغام میں لکھا: کہ تم چاہے زیر زمین پناہ گاہوں میں چلے جاؤ یا ان سے باہر رہو اس سچ بولنے والے دیانتدار اور عظیم رہنما [سید عبدالملک بدرالدین الحوثی] کی باتوں کو ضرور سنو۔

انھوں نے مزید لکھا: غزہ پر جارحیت کے خاتمے تک اسرائیل کے خلاف سرپرائزز دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس حوالے سے انصار اللہ کے ایک رہنما نصرالدین عامر نے بھی کہا کہ اس میزائل نے ایک خاص ہدف کو نشانہ بنایا ہے اور یمنی مسلح افواج کے بیان میں اہم اسٹریٹیجک اہداف کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔

یمن الاسلام نامی اکاؤنٹ نیز یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحیی سریع نے مزید تفصیلات بتائی ہیں، جو کچھ یوں ہیں:

صہیونی ریاست پر داغے جانے والے میزائل کا نام: بیلسٹک - ہائپرسونک میزائل فلسطین-2

میزائل کا روٹ:

یمنی میزائل مقبوضہ فلسطین تک پہنچنے کے لئے سعودی عرب اور یمن سے گذرا

طے کردہ مسافت: 2040کلومیٹر

مدت: یہ میزائل یمن سے 11 منٹ میں اپنے ہدف تک پہنچا

ہدف: قدس_تل ابیب ریلوے لائن، جو کٹ گئی

اثرات: 20 لاکھ صہیونیوں کو بھاگ کر پناہ گاہوں میں چھپنا پڑا

یحیی سریع نے کہا کہ صہیونیوں کو مزید کاروائیوں کا منتظر رہنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔

110