اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سووورو انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ الیگزینڈر مارکووچ نے ویانا میں روسی نیوز چینل رشیا ٹو ڈے پر امریکی پابندی کو، عالمی میڈیا کے میدان میں مغربی بیانئے کے غلبے کی وجہ سے، ایک خوفناک رد عمل قرار دیا۔
آسٹریا کے اس صحافی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ روس پر ایک ایسے کام کا الزام لگاتا ہے جس کا خود واشنگٹن مرتکب ہو رہا ہے، یعنی عالمی سطح پر جھوٹا پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ یوکرین کی جنگ کے بارے میں یورپ اور امریکہ کی پھیلائی ہوئی خبریں سنیں گے تو آپ یقین کریں گے کہ یوکرین فاتح ہو چکا ہے اور روس جلدی یا بدیر مغربی پابندیوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔
مارکووکس کا خیال ہے کہ اس روسی نیوز چینل پر تازہ ترین امریکی پابندی انٹیلی جنس گیم میں مغرب کی ناکامی کا گھسا پٹا اور شکست خوردہ رد عمل ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے کاسہ لیس یورپی ممالک پروپیگنڈا وار کے ذرائع سے دنیا پر یکطرفہ بیانیہ مسلط کرکے ڈس انفارمیشن کے مرتکب ہو رہے ہیں اور وہ اپنے انتہاپسندانہ بیانئے کو چیلنج کرنے والے ذرائع ابلاغ پر نہایت بے شرمی سے پابندیاں لگاتے ہیں۔ تاہم انہیں دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا ہے جس سے نجات کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110