1 مئی 2024 - 20:47
دین اسلام حقوقِ خواتین کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ آیت اللہ رمضانی

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: خدائے متعال خواتین کے تشخص اور وقار کو اس قدر بڑھاتا ہے کہ بعض خواتین کو قرآن کریم میں نمونۂ عمل کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، آیت اللہ رضا رمضانی ـ جو بین الاقوامی سیمینار "اسلام؛ مکالمے اور زندگی کا مذہب" میں شرکت کے لئے، برازیل کے مسلمانوں کی دعوت پر، اس لاطینی امریکی ملک کے دورے پر ہیں، نے لاطینی امریکہ کی مسلم خواتین سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی انفرادی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: خواتین ذاتی اور اجتماعی صلاحیتوں کی حامل ہیں جن میں ایک ذاتی خصوصیت تربیت کے مسئلے سے تعلق رکھتی ہے۔ جو ممتا کا جذبہ ہے؛ وہ جذبہ جو اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے، گوکہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ماں کی ممتا سے ہزاروں گنا عظیم تر ہے۔ خاندان میں تربیت کی ذمہ داری عورت کو سونپا گیا ہے اور ماں کا تربیتی کردار بہت نمایاں ہے اور ان کرداروں خواتین کی ذاتی اور فردی صلاحیتوں میں شامل ہے۔

سلوک الی اللہ اور تلطیف کے میں بھی عورت بہت زیادہ نشوونما پا سکتی سکتی ہے۔ خواتین کی سماجی اور معاشرتی صلاحیت کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر خواتین سے متعلق صلاحیتیں یکجا ہو کر سماجی سرگرمیوں کے میدان میں آ جائیں، تو ایک ناقابل تسخیر طاقت کو تشکیل دیتی ہیں۔

دین اسلام حقوقِ خواتین کا سب سے بڑا محافظ

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے مزید کہا: حالیہ چند صدیوں میں، مغربی دنیا میں، خواتین کا آخری دفاع، نسائیت (Feminism) کے سلسلے میں تھی، اور آج بھی مغرب میں خواتین کا آلاتی استعمال (Instrumental use) جاری ہے۔ مغرب والے کہتے ہیں کہ "انسانی حقوق" کی بنیاد انہوں نے رکھی ہے، جبکہ ان کے اس دعوے کا پس منظر صرف ایک صدی پرانا ہے؛ حالانکہ امام زین العابدین (علیہ السلام) نے تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال قبل [پہلی صدی ہجری میں] رسالۂ حقوق تحریر فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)، امیرالمؤمنین اور ائمۂ طاہرین (علیہم السلام) کا کلام موجود ہے، اور یہ سارے متون "اسلام میں خواتین کے حقوق" میں شامل ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ ہم اسلام کے اس پہلو کو اجاگر کریں اور خواتین کو اسلام کے دیئے ہوئے تشخص کو مغربی معاشرے اور عالمی برادری سے متعارف کرا دیں۔

انھوں نے کہا: خواتین عظیم معاشرتی سرمایہ ہیں، البتہ تاریخ میں خواتین کو مختلف ادوار سے گذرنا پڑا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب خواتین کے تشخص کا یکسر انکار کیا جاتا تھا۔ حتی کہ ثقافتی لحاظ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ لڑکی کا باپ ہونا، باعث شرم سمجھا جانا لگا! تشخص سے محرومیت اور ان کا آلاتی استعمال خواتین کو درپیش بدترین چیلنج رہا ہے اور یہ مسئلہ قدیم جاہلیت میں بہت وسیع پیمانے پر موجود تھا۔ ایسے ہی دور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنے آپ کو خواتین کے تشخص اور وقار کا حامی جانا اور خواتین کے حقوق کے حامی اور مدافع تھے، اور ایک لحاظ سے عورتوں کے حقوق پر قربان ہو گئے کیونکہ اسی وجہ سے ـ کہ آپ کا کوئی بیٹا نہیں تھا ـ مشرکین نے آپ کو ابتر اور مقطوع النسل کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) خواتین کے اس تشخص و احترام کی خاطر اپنی بیٹی سیدہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کا ہاتھ چوم لیتے تھے اور یوں آپ نے عورت کے کی نئی، گہری اور درست تصویر معاشرے کے سامنے رکھی۔

معنوی اور روحانی مدارج تک پہنچنے میں مرد و زن کی برابری

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے مزید کہا: عورت معاشرے اور خاندان کے لئے سرمایہ سکون و آسائش ہے اور نسل انسانی کی تربیت میں تکمیلی (complementary) کردار ادا کرتی ہے۔ وہ گھر میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ گوکہ عورت کی ذمہ داری گھر میں رہنا نہیں ہے، بلکہ عورت سماجی کارکن بھی ہو سکتی ہے اور حتی کہ ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں بھی کردار ساز بن سکتی ہے۔ یوں عورت اعلیٰ تشخص حاصل کرتی ہے اور مردوں کو دوش بدوش مطلوبہ کمال تک پہنچ سکتی ہے۔ کچھ خواتین کا ارتقاء ان شعبوں میں مردوں سے بھی زیادہ ہے، یہاں تک کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: "عورتوں کو مارنا پیٹنا پست مردوں اور پست شوہروں کا کام ہے۔ وہ تمام تمہیدات جو مردوں کے لئے "حیات طیبہ" تک پہنچنے کے لئے فراہم ہیں، خواتین کے لئے بھی فراہم ہیں؛ انسانیت کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے؛ بلکہ انسانیت کا تعلق کرامت اور وقار سے ہے۔ احادیث میں منقول ہے کہ "امام زمانہ (علیہ السلام) کے اصحاب میں ایک گروہ خواتین کا ہے"۔ خدائے متعال خواتین کے تشخص اور وقار کو اس قدر بڑھاتا ہے کہ بعض خواتین کو قرآن کریم میں نمونۂ عمل کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

انھوں نے خواتین کارکنوں کے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں تنظیم سازی کی طرف آگے بڑھنا چاہئے۔ اہل بیت (علیہم السلام) کی پیروکار خواتین کی تنظیم سازی اور منظم انداز سے فعالیت اس عظیم خطے کی خواتین کے لئے بے پناہ برکتوں کا باعث بن سکتی ہے۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی نے آخر میں کہا: آپ خواتین سے سفارش کرتا ہوں کہ خواتین کے سلسلے میں امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) اور امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کے نظریات کا مطالعہ کریں۔ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے فرمایا: ہم فرائض، واجبات اور ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر مامور ہیں۔ ہمیں اپنے فرائض کو احسن طریقے سے نبھانا چاہئے، کیونکہ تاریخ ہمارے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110