9 نومبر 2023 - 16:26
غاصب صہیونی-اسرائیلی ریاست کا مقابلہ واجب / فرض ہے۔۔۔ مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کے اہم فتاویٰ

ان دنوں مسلم علماء کا بین الاقوامی اتحاد فلسطین کے مسائل کے حوالے سے سرگرم عمل ہے اور اب تک متعدد بیانات اور فتاویٰ بھی جاری کر چکا ہے؛ ان فتاویٰ میں فلسطین کی صورت حال کو اہمیت دی گئی ہے اور غاصب صہیونی-اسرائیلی ریاست کے خلاف جدوجہد کو واجب / فرض قرار دیا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد نے عرب اور مسلم ملکوں سے تقاضا کیا ہے کہ غزہ کے محصور مسلمانوں کو، غاصب صہیونی ریاست کے شدید حملوں اور نسل کُشی سے نجات دلائیں۔

مذکورہ اتحاد نے 7 اکتوبر 2023ع‍ کو یہ فتویٰ جاری کیا:

الف: مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کی اجتہاد و افتاء کمیٹی نے کا فتویٰ مورخہ (21  اکتوبر 2023ع‍)

اجتہاد و افتاء کمیٹی نے غزہ پر صہیونی ریاست کی جارحیت کے سلسلے میں ایک 11 نکاتی فتویٰ جاری کیا جو درج ذیل ہے:

1۔ الف- جو کچھ فلسطینی عوام کر رہے ہیں، جائز و مشروع جہاد اور شرعی فریضہ ہے۔

2۔ الف- ہر مسلمان فرد پر ـ خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو، خواہ بوڑھا ہو خواہ جوان ہو ـ شرعی فرض / واجب شرعی ہے کہ اپنی پوزیشن اور اپنی صلاحیت کے مطابق غزہ اور فلسطین کے عوام کی حمایت کرے۔

3ـ الف-  شرع کا حکم یہ ہے کہ جو بھی کسی ظالم کو مدد بہم پہنچائے، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور جو بھی کسی صاحب حق کو مدد بہم پہنچائے، اس نے صحیح راستے پر قدم اٹھایا ہے۔ اس وقت دنیا والوں کے لئے بالکل واضح و آشکار ہے کہ کچھ عرب ممالک مالی، عسکری، سیاسی، معلوماتی اور لاجسٹک قوتوں سے، غاصب صہیونی ریاست کی حمایت کر رہے ہیں اور اس ریااست کی جارحیت اور ظلم و ستم میں برابر کے شریک ہیں چنانچہ مسلمانوں پر فرض / واجب ہے کہ باہمی اتحاد کا تحفظ کرتے ہوئے، ایک فوجی اتحاد قائم کرکے امن و امان قائم کریں اور ظلم اور جارحیت کو روک دیں تاکہ فساد اور نزاع معرض وجود میں نہ آئے۔

4۔ الف۔ زکوٰۃ کے مصارف آٹھ ہیں جو سورہ توبہ کی آیت 60 میں بیان ہوئے ہیں جن میں اللہ کے راستے کے مجاہدین بھی شامل ہیں۔ جو کچھ ان دنوں غزہ میں واقع ہو رہا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد ہے چنانچہ لازم ہے کہ زکوٰۃ ادا کرکے اس جہاد کی پشت پناہی کی جائے۔ زکوٰۃ کے علاوہ لوگوں سے غزہ سے مالی اعانہ (چندہ) جمع کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے، یہ عمل جہاد بِالمال نت عنوان پاتا ہے اور بہترین لین دین اور تجارت اللہ کے ساتھ تجارت ہے۔

5۔ الف۔ غزہ میں فلسطینی بھائیوں کی ابلاغیاتی حمایت، ہر بات اور ہر بیان اور رپورٹ اور سند و دستاویز کے ذریعے غزہ کے عوام کی حمایت، شرعی فریضہ / واجب شرعی سمجھی جاتی ہے۔

6۔ الف۔ آج عرب اور مسلمان حکمرانوں کا شرعی فریضہ غزہ میں اپنے بھائیوں کی فوج، مالی اور سفارتی امداد کی فراہمی اور دوٹوک سیاسی موقف اختیار کرنے کی صورت میں، ہے، اور ان پر واجب ہے کہ صہیونی دشمن کا بائیکاٹ کریں اور اس کو تنہا کر دیں۔

7ـ  الف- یہ کمیٹی کسی بھی شکل اور کسی بھی صورت میں غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے یا معمول پر لانے اور کسی بھی شکل میں ـ غزہ پر جارحیت میں صہیونی دشمن کی مدد کی ممانعت کا فتویٰ دیتی ہے اور اسے شرعی حرام قرار دیتی ہے۔

8ـ الف۔ مسلمین، خواہ حکمران خواہ مسلم اقوام، پر فرض / واجب ہے کہ صہیونی ریاست اور غزہ کی جنگ میں اس کے حامی اور مدد رساں ممالک کا بائیکاٹ کریں، مسلمانوں کو اقتصادی لحاظ سے بھی، ثقافتی اور علمی و سائنسی لحاظ سے، ان ہر ہمہ جہت مقاطعہ کرنا چاہتے ہیں، یہ مقاطعہ (بائیکاٹ) شرعاً واجب ہے۔

9۔ الف۔ نماز جماعت اور نماز فرادیٰ میں قنوت کے مستحب (سنت) ہونے، اور مجاہدین کی کامیابی اور غاصب جارحوں کی تباہی و بربادی کے لئے دعا، پر زور دیا جاتا ہے۔

10۔ الف۔ یہ کمیٹی غزہ کے عوام کے ان کے گھر اور سرزمین سے نکال باہر کرنے کے بارے میں خبردار کرتی ہے کہ یہ اسلامی شرع اور بین الاقوامی قوانین اور کنونشنوں کی بنیاد پر ایک جرم عظیم ہے، اور اس بھونڈے جرم میں شراکت ہر صورت میں، کسی بھی پرچم کے نیچے، ممنوع ہے۔ اس منحوس سازش کا مقابلہ اسلامی ممالک کے حکمران پر فرض / واجب ہے اور اگر کوتاہی کریں تو اس جرم عظیم کی ذمہ داری دنیا اور آخرت میں ان کے ساتھ رہے گی۔

11۔ الف۔ اجتہاد و افتاء کمیٹی آخر میں ان علمی اور مذہبی اداروں کا خالصانہ شکریہ ادا کرتی ہے، جنہوں نے غزہ میں مسلم برادران کی حمایت کے حوالے سے اپنی شرعی ذمہ داریوں پر عمل کیا۔ نیز دنیا کے احرار کے صہیونیت مخالف موقف ـ منجملہ ان اعتدال پسند یہودیوں کے جنہوں نے غزہ کے عوام پر وحشیانہ جارحیت کی مذمت کی اور اپنے غیظ و غضب کا اظہار کیا ـ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

 

ب- فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے امت اسلامیہ کے رہنماؤں کے نام، مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کا پیغام (مورخہ 24 اکتوبر 2023ع‍) کے اہم ترین محور:

امت اسلامیہ کے راہنماؤں سے مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کے تقاضے:

1۔ ب۔ جنگ کی المناک جہتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، فوری جنگ بندی کی خاطر عملی دباؤ معرض وجود میں لانے کے لئے، مناسب عملی اقدامات کا آغاز؛ اس حوالے سے اہم ترین اقدامات میں سے ایک یہ ہے کہ جن ممالک نے اس ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں، وہ فوری طور پر غاصب ریاست کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات خاتم کریں۔ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو ممالک کے دوسرے اقدامات اٹھانا پڑیں گے، جیسے جنگ کا دائرہ وسیع کرنا، غصب اور قبضے کے حامی ممالک کا بائیکاٹ کرنا، اور وہ تمام اقدامات جو امت کے حکام کر سکتے ہیں۔

2۔ ب۔ اس حوالے سے محترم راہنماؤں سے چاہتے ہیں کہ ایشیا، یورپ، جنوبی امریکہ اور افریقہ میں فلسطین کے حقوق کے حامی ممالک کا ـ انسانی بنیادوں پر ـ اتحاد قائم کریں، نیز قانونی اور انسانی ادارے قائم کریں۔ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف نیا (Moderm) جرم، نازیت، اور ہالوکاسٹ ہے۔

3۔ ب۔ غزہ کو اس وقت ان تمام اشیاء کی ترسیل کے ایک ہوائی پل اور زمینی پل بنایا جائے، جن کی انہیں ضرورت ہے، اگر غاصب بین اس راستے میں رکاوٹ ڈالیں تو (شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے بائیکاٹ کی مانند) ہمہ جہت بائیکاٹ کا اعلان کریں اور وہ تمام ممالک تیل اور گیس کی ترسیل پر پابندی کا اعلان کریں جو ناانصافی اور جارحیت کے مقابلے میں جمے ہوئے ہیں۔  

4۔ ب۔ جبری نقل مکانی روکنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں؛ اگر اس منحوس سازش کو عملی جامہ پہنایا جائے تو غزہ کے بعد دریائے اردن کے مغربی کنارے کی باری آئے گی، تاکہ دائیں بازو کے انتہاپسند صہیونی پوری سرزمین فلسطین میں ایک یہودی ریاست قائم کرنے کے سپنے کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔

5۔  ب۔ غزہ کے عوام کے لئے فیاضانہ مدد اور باضابطہ انجمنوں کے ذریعے چندہ اور نقد رقم جمع کرنے کی اجازت دینا۔

6۔ ب۔ ان مظلوموں کی جان اور ناموس آپ کی سپرد کی گئی ہے؛ ان کی حمایت اور حفاظت ایک شرعی فریضہ اور قومی اور انسانی ضرورت ہے اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ ہمارے قبلۂ اول اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقام معراج کے قابضین کی حمایت کرنا اور ان کے دوش بہ دوش کھڑا ہونا، بلا شبہہ حرام ہے، مسلمانوں کے ساتھ غداری اور خیانت ہے اور انسان کی فطرت سلیم اور جوانمردی اور شجاعت کے اصولوں سے متصادم ہے۔

7۔ ب۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ مسلمان کامیاب ہوں گے اور غلبہ پائیں گے، اور اللہ کا وعدہ مجرموں اور غاصبوں کے بارے میں یہ ہے کہ مٹ کر رہیں گے۔ (

7 ـ ب ـ وعده خداوند پیروزی مسلمانان است؛ وعده خداوند متعال در مورد جنایتکاران اشغالگر این است که آنها محو می‌شوند (اشاره به آیات 171 تا 173 سوره صافات)

"وَلَقَد سَبَقَت كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا المُرسَلِينَ * إِنَّهُم لَهُمُ الْمَنصُورُونَ * َوَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبونَ؛

اور ہمارا قول پہلے ہو چکا ہے اپنے بندوں کے لئے جو پیغمبر بنائے گئے ہیں * کہ فتح و ظفر ان ہی کی ہوگی * اور بلاشبہ ہماری ہی فوج وہ ہے جو غالب آئے گی"۔ (سورہ صافات، آیات 171 تا 173)

ح- مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کا تکمیلی فتویٰ نیز مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کا فتویٰ مسلمانوں میں سے ان لوگوں کے بارے میں جو صہیونی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، یہ فتویٰ مورخہ 28 اکتوبر 2023ع‍ کو جاری کیا گیا۔

1۔ ج۔ مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ ہمراہ ہوجانا، اور ان کی مدد و معاونت اور ان کے ساتھ تعاون کرنا، مالی حوالے سے، ہتھیاروں کے حوالے سے، سیاسی موقف کے ذریعے سے، شرعاً گناہ کبیرہ ہے اور اہل الملہ کے اجماع کی رو سے ، کبائر میں سے بڑا گناہ ہے۔

2۔ ج۔ غاصب صہیونی ریاست کی حمایت، خواہ وہ بالواسطہ طور پر ہی کیوں نہ ہو، حرام ہے؛ جیسے اخباری رپورٹ تیار کرنا، ان کے لئے ترجمہ کرنا اور ان کے حق میں من گھڑت جعلیات وضع کرنے کی کوشش کرنا۔

3۔ ج۔ سرحدیں بند کرنے اور امداد کی ترسیل کا راستہ بند کرنے کی غرض سے غزہ اور فلسطین میں مسلمان برادران کے محاصرے میں صہیونیوں کی معاونت کرنا، خیانت، ظلم اور گناہ اور جارحیت میں تعاون ہے، اور ایسے ممالک ہر بے گناہ لوگوں کو قتل اور زخم جیسے نقصانات پہنچنے، میں برابر کے شریک ہیں۔

4ـ دـ اگر مسلمان راہ حق کی حمایت کریں، تو خدائے متعال نے ان کے لئے کامیابی اور عزت مقدر فرمائی ہے۔

واضح رہے کہ دوحہ ـ قطر میں تعینات مسلم علماء کا بین الاقوامی اتحاد علماء کا ایک خودمختار ادارہ ہے، گوکہ اس کو قطر کی حکومت کی مالی اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔

مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد کے سیکریٹری جنرل سنی عالم دین ڈاکٹر علی محیی الدین قرہ داغی، ہیں، جو عراقی کردوں میں سے ہیں جو عراقی شہر سلیمانیہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ایسوسی ایشن فکری لحاظ سے اخوان المسلمین سے قربت رکھتی ہے لیکن اس مسئلے کی طرف کوئی براہ راست اشارہ نہیں کرتی۔ چنانچہ یہ ایسوسی ایشن تمام اخوانی دھڑوں نیز پوری دنیا میں ان سنی علماء سے رابطے کے ساتھ رابطے میں ہے، جو سیاسی اسلام کے قائل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110