عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سید حسن نصر اللہ نے 33 روزہ جنگ میں محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سویڈن میں قرآن سوزی اور اس آسمانی کتاب کی کھلی اور سرکاری سطح پر توہین کی مذمت کرتے ہوئے کہا: جس شخص نے قرآن کو نذر آتش کیا وہ عراق کا عیسائی باشندہ ہے جو صہیونیوں کے بدنام زمانہ جاسوسی ادارے "موساد" کے ساتھ رابطے میں ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے خطاب کے اہم ترین نکات؛ انھوں نے کہا:
- صہیونیوں نے قرآن سوزی کے لئے ایک عیسائی کو منتخب کرکے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فتنہ انگیزی کی کوشش کی ہے؛ لیکن ویٹکن کا اقدام قابل توجہ تھا اور عراقی کلیساؤں اور گرجاگھروں نے بیان جاری کرکے اس واقعے کی مذمت کی۔
- مسلمانوں اور عیسائیوں کو مقدسات کی بے حرمتی کا سد باب اور باہمی فتنوں کے بھڑکنے کا راستہ روکنے کے لئے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ عرب اور اسلامی ممالک نیز عرب لیگ کے موقف نے مغرب کو مؤثر انداز سے خبردار کیا اور یورپی اتحاد اور امریکہ کو اس کے خلاف موقف اپنانا پڑا اور سویڈن کو اپنے موقف سے پسپا ہونا پڑا۔
ہم ممالک اور حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ مل کر یورپی اتحاد سے مطالبہ کریں کہ وہ اس قسم کے جرائم کی تکرار کر روک لے۔
- جولائی 2006ع کی جنگ فیصلہ کن تھی، کیونکہ اس نے لبنان کی قسمت کا فیصلہ کر لیا۔ نئے مشرق وسطیٰ کا منصوبہ لبنان، فلسطین، عراق اور شام کی مقاومت و مزاحمت کے نتیجے میں ناکام ہو گیا۔ یہ سب کا اعتراف ہے کہ صہیونی ریاست جولائی کی جنگ میں کسی بھی میدانی اور عسکری مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
- جولائی کی جنگ کا بنیادی مقصد لبنانی مقاومت کا خاتمہ اور لبنان کو ہتھیار ڈال کر اسرائیلی اور امریکی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا؛ وہ خطے میں نیا ڈھانچہ متعارف کرانا چاہتے تھے، جس مں انہیں ناکامی ہوئی۔ مقاومت کی تسدیدی طاقت ہر روز فعال تر اور قوی تر ہوتی جا رہی ہے اور اس کے مقابلے میں دشمن کی تسدیدی صلاحیت ہر روز کمزور تر اور فرسودہ تر ہوتی جا رہی ہے۔
- آج محور مقاومت تسدیدی قوت حاصل کر چکی ہے اور دشمن اس کے خلاف اقدام کرنے سے عاجز ہے، اور لوگ اس صلاحیت سے مطمئن ہیں جبکہ صہیونیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے غاصب باشندوں کو خوف و دہشت کی حالت میں جینا پڑ رہا ہے۔ مسلسل سازشوں اور حادثات کے باوجود، محور مقاومت کی تسدیدی صلاحیت کو ـ وسائل کی تقویت کے ذریعے ـ تقویت پہنچائی جا چکی ہے۔ ہم نے مشکلات اور خطروں کے باوجود، نہ صرف اس پیشرفت اور قوت کا تحفظ کیا بلکہ اس کو مزید تقویت پہنچائی، اس لئے کہ لبنان کی حمایت کر سکیں۔
- صہیونی ریاست کی مسلسل کوشش ہے کہ غزہ اور جنین کیمپ پر حملے کرکے حالات کو اپنے حق میں بدل دے۔ صہیونی ریاست کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کی مرمت کرے، لیکن جنین شہر اور جنین کیمپ کے مجاہدوں نے زبردست مزاحمت کرکے انہیں شکست سے دوچار کیا اور اس شکست کا سبب جنین اور بقیہ علاقوں میں مقاومت کی جاری کاروائیاں ہیں۔
- دریائے اردن کے دو تہائی فلسطینیوں کو یقین ہے کہ صہیونی دشمن رو بزوال ہے اور یہ مقاومت و مزاحمت کے دوام کا اصل محرک ہے۔ جولائی سنہ 2006ع کی جنگ میں صہیونیوں کی شکست نے غاصب ریاست کو زوال کی ڈھلان پر لا کھڑا کیا اور 2006ع میں مقاومت کی فتح نے "عظیم تر اسرائیل" کے ڈیڑھ سو سالہ منصوبے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔
- ہم نہیں سمجھتے کہ ہماری کوئی بھی فتح و کامیابی انحصاری طور پر ہماری اپنی یا ہماری جماعت یا شیعیان لبنان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ ہم لبنانی عوام سے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پر عمل کیا ہے اور بدستور اپنے ملک کے عوام کی خاطر اپنے دینی، شرعی اور اخلاقی فرائض کو نبھاتے رہیں گے۔ جو کچھ ہم نے گذشتہ کئی عشروں میں سرانجام دیا ہے، سب اللہ کی راہ میں تھا اور یہ سب وہ فریضہ تھا جو ہمیں اپنے ملک و ملت کے لئے انجام دینا چاہئے تھا اور سرانجام دیا۔
سید حسن نصراللہ نے لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر رونما ہونے والے واقعے کے بارے میں کہا:
- اس واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ لبنانی فوج سنہ 2006ع سے اب تک اپنے فرائض منصبی پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ صہیونیوں نے بارہا لبنانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور ہم نے اپنے ڈرون طیاروں کی مدد سے فضائی دفاع کو فعال کر دیا ہے۔
- صہیونی دشمن نے ہزاروں مرتبہ ہماری حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور ان خلاف ورزیوں کی دستاویزات بھی موجود ہیں، لیکن دنیا نے ان خلاف ورزیوں کے مقابلے میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ صہیونیوں نے گذشتہ سال سے الغجر لبنانی گاؤں کے شمال میں کانٹے دار تاریں نصب کرنے کا آغاز کیا اور حال ہی میں شام کی حدود میں بھی کانٹے دار تاریں لگا دیں۔ ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو ـ جوعرصہ 17 سال سے جاری ہے ـ حل کرے۔
- شبعا فارمز لبنانی سرزمین کا حصہ ہیں لیکن غاصب صہیونی ریاست ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ ریاست سرحد پر لگے ہوئے خیمے پر براہ راست اقدام کی جرئت نہیں رکھتی، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ انہیں اس صورت میں رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- زمینی سرحد کے تعین کا مسئلہ وجود ہی نہیں رکھتا کیونکہ فلسطین اور لبنان کی بری سرحدیں سنہ 1920ع میں معین ہو چکی ہیں؛ صہیونیوں نے ہمارے بعض علاقوں سے پسپائی اختیار نہیں کی ہے، اور اسے فوراً پسپا ہونا چاہئے، کیونکہ یہ لبنانی سرزمین ہے۔ جو کچھ اس وقت تک ہو رہا ہے وہ بری سرحدوں کا تعین نہیں ہے اور بری سرحدوں کے لئے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
- الغجر گاؤں میں لگا ہؤا خیمہ، لبنان کی حدود میں ہے لیکن صہیونیوں نے اس گاؤں پر قبضہ کی ہے، چنانچہ اس گاؤں میں صہیونی ریاست کے کسی بھی حکم یا قانون کا نفاذ، لبنانی سرزمین میں صہیونی حکم و قانون کا نفاذ سمجھا جاتا تھا۔ الغجر گاؤں کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں ہے، اور اس مسئلے کے سامنے فیصلہ کن موقف اپنانا پڑے گا اور اس گاؤں کو لبنان کی طرف لوٹانا پڑے گا۔
الغجر گاؤں کسی صورت میں بھی "اسرائیل" کو واگذار نہیں کرایا جائے گا، اور اس گاؤں کے لبنانی تشخص پر کوئی بحث نہیں ہے، بالکل شبعا فارمز کی طرح، جو لبنان سے تعلق رکھتے ہیں۔
- یہ جو کہا جا رہا ہے کہ حزب اللہ، لبنان میں منعقدہ فرقہ وارانہ اور قومی سمجھوتے کو منسوخ کرنا چاہتی ہے، یہ ایک با مقصد جھوٹ ہے؛ ہم اپنے ہتھیاروں اور فوجی صلاحیت کے لئے تدوین شدہ قانون کی منظوری کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ ایسا کرنا لبنان اور قومی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ حزب اللہ لبنانیوں پر اپنے سیاسی آپشنز مسلط کرنے کے لئے اپنی طاقت صرف نہیں کرے گی، اور ہمارے ہتھیار لبنان کے دفاع اور حفاظت کے لئے ہیں۔
- جولائی سنہ 2006ع میں لبنان میں سیاسی کشمکش جاری تھی، لیکن صدر کی موجودگی سیاسی اختلافات کا سد باب کرتی ہے۔ میشل عون نے ہم سے نہیں کہا کہ ہم انہیں بطور صدر منتخب کریں، لیکن ہم نے ان کے موقف اور شخصیت سے اطمینان کے باعث، انہیں منتخب کیا۔ ہم سلیمان فرنجیہ کی حمایت اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں عیسائیوں پر مسلط کریں، لیکن بات چیت اور گفتگو کا باب کھلا رکھنے کے لئے ان کی حمایت کرتے ہیں۔
- ہمارے خیال میں سلیمان فرنجیہ ایک سچے اور بہادر انسان ہیں، اور کبھی بھی خیانت نہیں کرتے، ہماری شرط یہ ہے کہ مستقبل میں منتخب ہونے والا صدر مقاومت کی پیٹھ میں خنجر نہ گھونپے؛ یہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بات چیت اس شرط پر ہوگی کہ حزب اللہ اپنے نامزد امیدوار سے دستبردار ہوجائے، تو یہ ہمارے خیال میں بات چیت نہیں ہے۔ جب حقیقی بات چیت کے لئے آمادگی ہوگی تو ہم بھی کبھی بھی اور کسی بھی مقام پر غیر مشروط بات چیت کے لئے تیار ہیں۔
- میں تمام لبنانی مسلمانوں اور عیسائیوں سے کہتا ہوں کہ ہم سب کو واقعات و حادثات سے درس عبرت لینا چاہئے؛ اس ملک کی بقاء کی بنیادی شرط اتحاد ہے۔ چنانچہ ہمں کسی فریق کو کمزور کرنے یا کسی کا حصہ چھیننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ مقاومت کے ہتھیار لبنانی قوم کی ترجیحات میں شامل ہے؛ ہم کبھی بھی مقاومت کے اسلحے اور اس کی طاقت سے کوئی سیاسی نقطہ نظر کسی پر ٹھونسنے کا کام نہیں لیتے۔
سید حسن نصر اللہ نے آخر میں کہا: میں کوئی سیاسی حصولیابی نہیں چاہتا، میں صدر کو کسی پر ٹھونسنا نہیں چاہتا۔ ہم نے مقاومت اور ملک لبنان کی حمایت کے لئے ہتھیار اٹھایا ہے اور ہمارا اصل انتخاب شراکت داری اور تعاون ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110