28 مارچ 2023 - 16:28
زوال کی گھڑی قریب ہے / اگلے سال تک اسرائیل کے خاتمے کا امکان ۔۔۔ صہیونی جرنیل

اس وقت، جبکہ نیتن یاہو حکومت اور اندرونی سیاسی دھڑے عدالتی اصلاحات پر مرکوز ہوئے ہیں، ہماری بیرونی سرحدوں پر چار دھماکہ خیز میادین ظہور پذیر ہو رہے ہیں جو سنہ 2023ع‍ میں ہماری شکست کا ماحول بنا رہے ہیں۔ اگر - اور جس وقت - ایک "مکمل طوفان" اور ایک بھاری حادثہ رونما ہو جائے، تو اسرائیل کی سلامتی کے ستونوں پر لرزہ طاری ہوگا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سبکدوش صہیونی جنرل اور صہیونی کا مشہور سیکورٹی اہلکار عاموس یادلن (Amos Yadlin) نے صہیونیوں کی افسوسناک حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سال 2023ع‍ میں اسرائیلی ریاست کی شکست و ریخت کا امکان ظاہر کیا ہے۔
مقبوضہ فلسطین عرصہ چار ماہ سے شدید تناؤ، بے چینی اور اندرونی تنازعات سے گذر رہا ہے۔ اس عرصے میں کئی ایک عبرانی-یہودی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ واقعات اور تنازعات خانہ جنگی پر منتج ہو سکتی ہے۔ جبکہ صہیونی قحط الرجال سے دوچار ہے اور ان مطالبات میں موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو کا استعفیٰ شامل نہیں ہے! اور نیتن یاہو اور اس کی انتہاپسند حکومت بھی ظاہرا اپنے منصوبوں کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
اب یہ صہیونی فضائیہ کا سابق کمانڈر، امان نامی خفیہ ایجنسی کا سابق سربراہ اور سیکورٹی اور سیاست کا نمایاں ترین تجزیہ کار جنرل عاموس یادلن بھی میدان میں آیا ہے اور اس نے موجودہ کابینہ کی پالیسیوں اور مقبوضہ سرزمینیوں کی موجودہ صورت حال کے جاری رہنے کی صورت میں صہیونی ریاست کو درپیش خطروں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
عاموس یادلن نے ٹویٹر پر اپنے پیغامات کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے جو کچھ یوں ہیں:
اس وقت، جبکہ نیتن یاہو حکومت اور اندرونی سیاسی دھڑے عدالتی اصلاحات پر مرکوز ہوئے ہیں، ہماری بیرونی سرحدوں پر چار دھماکہ خیز میادین ظہور پذیر ہو رہے ہیں جو سنہ 2023ع‍ میں ہماری شکست کا ماحول بنا رہے ہیں۔ اگر - اور جس وقت - ایک "مکمل طوفان" اور ایک بھاری حادثہ رونما ہو جائے، تو اسرائیل کی سلامتی کے ستونوں پر لرزہ طاری ہوگا اور تب ہی ہم ان چار میدانوں کا ادراک کریں گے:
اسرائیلی فوج اندر سے متزلزل اور ٹوٹ چکی ہے؛ اہم ترین اتحادی "امریکہ" اور ہمارے درمیان مکمل بداعتمادی کارفرما ہے اور اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ تسدیدی صلاحیت تنزلی کی انتہاؤں پر ہے۔ ہماری معیشت ایک تیز ڈھلان پر گھاٹی کی طرف غوطہ زن اور رو بہ زوال ہے؛ یکجہتی نے اپنی جگہ ایک گہرے سماجی شگاف کو دے دی ہے، اور اسرائیلیوں کے مقدرات کے سلسلے میں مشترکہ احساس اور مشترکہ مقصد، پر کاری ضرب وارد ہوئی ہے۔
ہمارے وزیر اعظم "بنیامین نیتن یاہو" نے انگریزی میں خطاب کرکے وعدہ کیا کہ "اس کشتی کو اپنے ہاتھ سے صحیح سمت میں، صحیح راستے پر گامزن کرے گا"، لیکن اس کے باوجود عبرانی زبان میں یہ کشتی ایسی بحری چٹانوں کی طرف بڑھ رہی ہے جو حقیقی چٹان ہیں اور لگتا ہے کہ اس کشتی کا کوئی کپتان بھی نہیں ہے جو خطروں کو بھانپ لے۔
دو میدانوں میں تناؤ میں شدت آنے کا امکان ہے:
1۔ فلسطین کا میدان:
یہ میدان چار محاذوں پر مشتمل ہے: "قدس شریف، مغربی کنارہ، غزہ اور عرب اور صہیونیوں کی مخلوط آبادی کے شہر"۔
2۔ لبنان کا میدان: حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں اسرائیل کی تسدیدی صلاحیت (Deterrence) فرسودگی کا شکار ہوئی ہے جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہؤا ہے اور حزب اللہ کے پاس کے ٹھیک نشانے پر لگنے والے میزائلوں نیز فضائی دفاعی میزائلوں کی موجودگی کی بنا پر یہ کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے؛ یہاں تک کہ اب حزب اللہ اسرائیلی بحران کو اپنے لئے ایک موقعِ غنیمت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اگلا چیلنج مشرق میں، ایران کا جوہری پروگرام ہے جو مسلسل ترقی کر رہا ہے، اور ادھر امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ اسرائیلی تعلقات کو نقصانات پہنچے ہیں جن میں سے کچھ کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور ان کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے۔
سلامتی کے میدان میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں نیتن یاہو کابینہ کے اعلیٰ اراکین اور وزراء کا تجربہ صِفر کے برابر ہے، اور وہ دنیا میں بھی اور "اخلاقی میدانوں میں بھی!" اسرائیل کی پوزیشن پر مہلک ضربیں لگا رہے ہیں اور بائیکاٹ اسرائیل (BDS) کو بھی - اور ان لوگوں کو بھی، جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں - بیش بہا تحائف پیش کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے وجود کی قانونی حیثیت کی بیٹری تيزی سے ختم ہو رہی ہے، اور امریکہ میں اس کے حامیوں کے درمیان اس کی حمایت بھی زوال پذیر ہو رہی ہے۔
امر مسلّم ہے کہ نیتن یاہو کے اعلیٰ وزیر، اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ امریکی حمایتیں اسرائیل کے لئے کس قدر حیاتی اور اہم ہیں، اور ان حمایتوں میں، اسرائیل کی سلامتی کی تقویت کے لئے ناقابل تبدیلی (Irreplaceable) سیاسی حمایتیں اور وسیع پیمانے پر مالی امداد، شامل ہیں۔
وزیر خزانہ بیزالیل اسموترچ (Bezalel Smotrich) فلسطینی دیہی علاقوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، وہ ان لوگوں کی پشت پناہی کرتا ہے جو فلسطینوں دیہی علاقوں کو نذر آتش کرتے ہیں، وہ سیاسی بحرانوں کو ہوا دیتا ہے اور معاشی ماہرین کی پیشن گوئیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔
وزیر داخلہ ایتامار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) فلسطینیوں کی آگ پر پٹرول چھڑکتا ہے، اور پولیس اور اس کے اعلیٰ اہلکاروں اور نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے شرکاہ کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔
وزیر قانون! یاریو لیوین (Yariv Levin) اس (عدالتی نظام کی اصلاح کے) قانون کے خطرناک نتائج کو نظر انداز کرتا ہے جسے وہ منظور کروانا چاہتا ہے، اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کی فوجی اور معاشی قوت کو پہنچنے والے سنجیدہ نقصانات کو لائق توجہ نہیں سمجھتا۔
یہ وہ چیز ہے جو اس حقیقت کو نمایاں کر رہی ہے کہ اسرائیلی ریاست المیے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، تمام انتباہی گھنٹیاں بج رہی ہیں، خبردار کی تمام بتیاں جھپک رہی ہیں؛ لیکن نیتن یاہو حکومت تزویراتی / سلامتی / سیاسی بھنور میں کودنے پر اصرار کر رہی ہے، اور یہ صورت حال سنہ 2023ع‍ میں اسرائیل نامی ریاست کے زوال اور تباہی کی آئینہ دار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ مہدوی