عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، سعودی - اماراتی اتحاد نے، اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کی غرض سے، 26 مارچ 2015ع کو، یمن کے خلاف بری، بحری اور فضائی جارحیت کا آغاز کیا، 17 ممالک نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی، لیکن آج یہ اتحاد شکست کھا گیا ہے۔ یہ جنگ ایسے حال میں شروع ہوئی تھی کہ یمن ایک غریب اور تقریبا نہتا ملک سمجھا جاتا تھا جو کسی بھی بیرونی جارحیت کے لئے تیار نہیں تھا۔
آج یہ جنگ - جو تین ہفتوں کے مختصر عرصے میں یمن پر قبضے کے دعوے کے ساتھ شروع ہوئی تھی ایسے حال میں - نویں سال میں داخل ہوئی ہے، کہ حقائق اور معلومات کے مطابق، آج کا یمن خطے کے فوجی توازن کو درہم برہم کرکے، جنگ میں یمنیوں کا پلڑا بھاری ہے اور اگر فریقین میں سے ایک فریق کو فاتح اور دوسرے کو شکست خورد قرار دینا ہو تو یمنی آج فاتح فریق کہلائیں گے اور وہ اندرون خانہ بھی اور خطے میں بھی نمایاں فوجی برتری حاصل کر چکے ہیں۔
صنعاء، جو جنگ کے آغاز میں دفاعی پوزیشن میں تھا، اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر، ہتھیاروں کو ترقی دے کر، خاص طور پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز اور دفاعی اور معلومات حاصل کرنے کے نظام کو جدید بنا کر، نیز اپنی افرادی قوت کو تربیت دے کر، آج دفاعی پوزیشن کو دشمن کے دور افتادہ اہداف کو نشانہ بنانے اور دشمن ممالک پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں بدل دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یمن کی مشترکہ افواج نے اس عرصے میں، دفاع اور حملوں کی صورت میں 13200 کاروائیاں کی ہیں اور یمن کے وسیع علاقوں، صوبوں اور اہم تزویراتی علاقوں کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرایا۔
علاوہ ازیں یمن کی میزائل اور ڈرون یونٹوں نے یمن کے مختلف علاقوں میں جارح افواج اور ان کے گماشتوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا اور سرحدوں سے باہر بھی متعدد کامیاب حملے کئے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں انتہائی اہم اقتصادی، صنعتی اور فوجی علاقوں کو تباہ کر دیا اور جارح اتحاد کو شدید مالی اور جانی نقصانات سے دوچار کیا۔ ان حملوں میں آرامکو کی سعودی تیل کمپنی کی تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں کا کامیاب حملہ بھی شامل تھا جس میں سعودی تیل کی برآمدات کو نصف تک گھٹا دیا گیا اور سعودی حکومت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
ادھر یمن کی مسلح افواج نے اگلے مرحلے کے اہداف کی فہرست بھی متعین کر لی ہے جن میں یمن کی حدود میں بیرونی افواج کی موجودگی کا خاتمہ کرنا، یمن کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا سدباب کرنا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا شدید جواب دینا، شامل ہیں۔
ہم حقیقی امن کے خواہاں ہیں ۔۔۔ محمد علی الحوثی
دریں اثنا یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سینئر رکن محمد علی الحوثی نے جنگ کے نویں سال کے آغاز پر اپنے نشری پیغام میں کہا ہے کہ "ہم حقیقی امن کے خواہاں ہیں اور یمن سے جارحین کے انخلاء کا راستہ کھلا ہے۔
انھوں نے جارح سعودی اتحاد سے مخاطب ہو کر کہا: اگر امن و آشتی چاہتے ہو تو یمن سے نکلنے کا راستہ کھلا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یمنی قوم کی مقاومت و مزاحمت کی ایک علامت ہماری عسکری ترقی اور حکومت اور عوام کی یکجہتی ہے۔
انھوں نے کہا: ہم نے آج تک امن و مصالحت کے لئے کوئئی غیر ممکن شرط نہیں رکھی ہے، جبکہ جارح اتحاد کے پاس آج تک امن کے لئے کوئی حقیقی منصوبہ نہیں ہے، جبکہ ہم نمائشی اور تشہیراتی امن نہیں بلکہ حقیقی امن چاہتے ہیں۔
الحوثی نے مزید کہا: سب جانتے ہیں کہ یمن پر جارحیت کی اصل بنیاد امریکہ ہے اور اقوام متحدہ کے ایلچی کے صنعاء کی طرف روانہ کرنا اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: سعودی اتحاد کے ساتھ جنگ بندی صرف اس صورت میں جاری رہ سکتی ہے کہ یمن کا محاصرہ مکمل طور پر اٹھا لیا جائے۔
انھوں نے آخر میں کہا ہے کہ یمن کی حکومت اس عہد کی پابند ہے کہ وہ یمنی قوم کے جائز حقوق کا تحفظ کرے گی اور دشمن کو سرزمین سے نکال باہر کرکے دم لے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110