اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، سراج الحق نے آیت اللہ خامنہ ای کو اس جدوجہد کی نمایاں شخصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ امت کے اتحاد، استعمار کے مقابلے اور الٰہی حاکمیت کے مخالف نظاموں کے خلاف جدوجہد میں گزارا اور بالآخر اپنی جان بھی اسی راہ میں قربان کردی۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ دین، مزاحمت، باطل کے مقابل استقامت اور امت مسلمہ کے اتحاد کی ایک طویل جدوجہد کی علامت ہیں۔
سراج الحق نے فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی فلسطین کی حمایت اور مزاحمتی تحریک کی تقویت کی کوششوں نے فلسطینی مزاحمت کو منظم کرنے، اس کی صلاحیتیں بڑھانے اور مجاہدین کے حوصلے بلند کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق فلسطینی انہیں امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے رہنما، پشتیبان اور سائے کے طور پر دیکھتے تھے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو ایرانی عوام میں ایک نئی تبدیلی اور اتحاد کے فروغ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ان کے بقول امت کی دوبارہ بیداری کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے واقعہ کربلا اور حضرت امام حسینؑ کے اسوہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اتحاد کی جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے سراج الحق نے کہا کہ پاکستانی عوام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اور پاکستان نے مشکل ادوار میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور اب اس تعاون کو پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نمونہ بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کسی ایک ملک کے لیے تنہا ممکن نہیں اور اس مقصد کے لیے امت مسلمہ کا اتحاد ضروری ہے۔
سراج الحق نے آخر میں آیت مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب دیگر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ امت میں تفرقے اور انتشار کو روکنے کے لیے اختلافات، خود غرضیوں اور بعض ذاتی خواہشات سے بالاتر ہوں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے ایران سے متعلق تصور کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عرب و عجم کی اقوام کو قریب لانے اور عالم اسلام کے اتحاد کو مضبوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے۔
آپ کا تبصرہ