27 فروری 2023 - 13:00
غاصب اسرائیل کو متوقعہ سونامی کا سامنا ہے ۔۔۔ شاباک کا انتباہ

صہیونی ریاست کی نازک صورت حال پر انتباہات اور صہیونی بستی نشینوں کے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے باوجود بنیامین نیتن نے کنیسٹ میں عدالتی اصلاحات کے بل کا مسودہ منظور کرایا ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق، دوسری ریڈنگ میں منظور ہونے کے بعد تیسری اور آخری رائے دہی کے لئے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کی صورت میں باقاعدہ قانون بن جائے گا۔ اس قانون کا اصل مقصد عدلیہ کے اختیارات کم کرنا اور نیتن یاہو کو بدعنوانی، رشوت ستانی اور امانت میں خیانت کے متعدد مقدموں سے نجات دلانا ہے۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق صہیونی خفیہ ادارے شاباک کے سابق ڈائریکٹر دوئر کاریو نے شاباک کے موجودہ سربراہ "رونین بار" اور تل ابیب کے سیاستدانوں اور نیتن یاہو کابینہ کے ارکان کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: یہ صورت حال غیر معمولی ہے۔ یہ صورت حال اسرائیل کی تاسیس کے بعد تیسری بار، سامنے آئی ہے۔ پہلی بار شاباک کے سربراہ نے اسحاق رابین کی ہلاکت سے قبل، حکومت کو خبردار کیا تھا۔ یہ ایک سیاسی قتل تھا اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے بعد ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

دوئر کاریو کا کہنا تھا: دوسری بار ایک ڈیڑھ سال قبل کی بات ہے کہ ناداؤ ارگامن (Nadav Argaman) نے تیسری یا چوتھے انتخابات کے دوران خبردار کیا کہ بیان بازیوں اور تناؤ کی صورت حال حالات کو خراب کرتی ہے اور نظریاتی تشدد کا باعث ہو سکتی ہے۔

شاباک کے سابق ڈائریکٹر نے مزید کہا: جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، یہ بھی تیسری بار ایک انتباہ ہے۔ لیکن یہ انتباہ پہلے سے مختلف اور غیر معمولی ہے اور وہ یوں کہ پہلی بار شاباک کے سربراہ نے عام معترضین کی طرح سنجیدہ خطرے کے بارے میں بات چیت کی ہے اور یہ ایک غیر معمولی صورت حال کی عکاس ہے۔

کاریو نے اس انتباہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: یہ صورت حال بتا رہی ہے کہ اسرائیل میں موجود دراڑیں اور موجودہ زلزلہ، عدالتی اصلاحات کے قانون کی منظوری کے بعد، اس زلزلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگی جس کے نتیجے میں اسحاق رابین مارا گیا تھا۔

کاریو نے کہا: اس بات کا مطلب یہ حقیقت ہے کہ یہ لاوا مزید مشتعل ہو رہا ہے اور یہاں بھونچال کا امکان ہے اور بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زلزلہ سونامی (بحری زلزلے) کا سبب بنے گا یا نہیں؟ اور اگر یہ سونامی کا باعث بنے تو یہ ہم سب کو بہا کر لے جائے گی۔

کاریو کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اور اپوزیشن جماعتیں باہمی صلاح مشورے کے لئے تیار نہیں ہیں؛ اور جس لمحے یہ قانون منظور ہؤا، در حقیقت اسی لمحے ایک اسلحہ میز پر رکھا گیا؛ چنانچہ اسرائیل کی پوزیشن بہت خطرناک اور انتہائی نازک ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست کی نازک صورت حال کے بارے میں ان انتباہات اور صہیونی بستی نشینوں کے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہوں میں بھی شدت آنے کے باوجود بنیامین نیتن نے کنیسٹ (صہیونی پارلیمان) میں عدالتی اصلاحات کے بل کا مسودہ پیش کیا اور یہ بل پہلی ریڈنگ میں ہی منظور ہؤا۔

کنیسٹ کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق، (سوموار 21 فروری 2023ع‍) شام چار بجے شروع ہؤا اور راست 12:30 تک جاری رہا۔ اس بل کو پہلی ریڈنگ میں منظور کیا گیا اور اس کے حق میں 63 اور مخالفت میں 47 ووٹ آئے۔ یروشلم پوسٹ کے مقابق، یہ بل اب دوسری اور تیسری ریڈنگ میں بھی رائے دہی کے لئے پیش کیا جائے گا، اور تیسری اور آخری رائے دہی کے لئے کنیسٹ کا اجلاس بلایا جائے گا اور اگر منظور ہؤا تو باقاعدہ قانون بن جائے گا۔  

واضح رہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے اس سال یکم جنوری کے اجلاس میں "عدالتی نظام کی اصلاح" کے بل کا مسودہ پیش کیا تھا۔ نیتن یاہو کو کئی سالوں سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے چنانچہ اب وہ مبینہ عدالتی اصلاحات کی آڑ میں خود کو مقدمے سے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگر یہ بل قانون کی صورت اپنائے تو نیتن یاہو کی کابینہ اسے نافذ کرے گی، اور یوں صہیونی ریاست کی عدلیہ کے اختیارات اور طاقت میں کمی آئے گی؛ کابینہ کے قانونی مشیر نیز تمام وزارت خانوں کے قانونی مشیران کے اختیارات ختم کئے جائیں گے اور ہروزیر کو اپنے قانونی مشیر کی تقرری اور معزولی کا اختیار حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 110