اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس نیوز کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق، نیوز ذرائع نے الخلیل میں حرم ابراہیمی کے نزدیک غاصب صیہونی فوجیوں کی نہتے فلسطینی شہریوں سے جھڑپوں کی خبر دی ہے۔ ''شہاب نیوز'' نے رپورٹ دی ہے کہ آج اتوار کی شام ''حرم ابراہیمی'' کے نزدیک صیہونی فوج کی گولیوں کی زد میں آ کر ایک فلسطینی لڑکی شہید ہوگئی ہے۔ دوسری جانب صہیونی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی لڑکی نے صہیونی بارڈر سکیورٹی اہلکار کو چاقو مار کر زخمی کر دیا تھا۔ فلسطینی خبر رساں ذرائع نے ''الخلیل'' شارع الشہداء پر صیہونی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے آج سہ پہر کے وقت بتایا کہ ''بیت لحم'' سے تعلق رکھنے والی "غادۃ ابراہیم علی العریدی" نامی فلسطینی خاتون غاصب صیہونی فوج کی گولی لگنے سے بیت لحم کے مغرب میں واقع گاؤں حوسان میں شہید ہوگئیں ہیں۔ 47 سالہ غادۃ ابراہیم جو چھ بچوں کی ماں تھی، کو صہیونی فوجیوں نے حوسان گاؤں کے مشرق میں ''المطینہ'' کے علاقے میں گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تحریک ''جہاد اسلامی'' نے صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینی خاتون کو شہید کرنے کی مذمت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اور اس کے جرائم پیشہ رہنماء اس جرم کے انجام کے لیے پوری طرح ذمہ دار ہیں اور فلسطینی جنگجو اور ان کے ہیروز اس سنگین جرم پر کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ تحریک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے اپنی جارحیت کو مسلسل جاری رکھتے ہوئے فلسطینی شہریوں بالخصوص خواتین کو نشانہ بنا کر ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس انسانی اور اخلاقی معیارات کا فقدان ہے۔ جہاد اسلامی نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے اتحاد اور قابض حکومت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کے خلاف عالمی اور علاقائی طاقتوں کی خاموشی صیہونی دہشت گرد فورسز کی نہتے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح حمایت اور حوصلہ افزائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242