بقلم برکت حسین پرہ
ریسرچ اسکالر ، شعبہ ایجوکیشن
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ غورو فکر اور عقل و شعور ایک انسان کے لئے بہترین استاد اور اللہ تعالی کی طرف سےعظیم سعادت ہے۔ قرآن مجید جو کہ کتاب الحق ہے میں بارہا تعقل، تفکر، شعور، فکر، فہم اور علم سے متعلق بہت ساری آیات درج ہوئی ہیں اور واضح حکایات بھی آئی ہیں۔ نہ صرف قرآن مجید میں بلکہ ہمارے (ائمہ طاہرین ) نے بھی بہت ساری احادیث اس بارے میں ارشاد فرمائی ہیں جن کا یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ غور وفکر سے کیا جانے والا کام کبھی بھی نامکمل نہیں رہتا اور نہ ہی اس میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر چہ اس راہ میں حائل مشکلات آتی بھی ہیں لیکن ان کو آسانی کے ساتھ برطرف کیا جا سکتا ہیں۔ جبکہ بغیر غور و فکر کے کام نہ تو اچھے ہوتے ہیں اور نہ ہی مشکلات کا سامنا درست نہج پر کیا جاسکتا ہے ۔ احادیث میں آیا ہے کہ ابوذرؓ کی بیشتر عبادت تفکر تھی۔ اسی طرح ’’سب سے بڑی عبادت تدبر و تفکر ہے‘‘۔ غرض اسلام میں غور و فکر کی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس میں ایک انسان کی علمی و فکری شعور کو جلا ملتی ہے۔ اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے فلسفیانہ نظریات، عقلی تجریات کو وسعت ملتی ہے۔ یعنی غور و فکر ایک ایسا آلہ ہے جو انسان کے فکر و شعور کے ساتھ ساتھ اس کے ضمیر کو بھی اعلیٰ و ارفع بنا دیتا ہے۔ لیکن یہی غور و فکر اگر بغیر ہدف یا بغیر مقصد کے ہو تو انسان بربادی کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔
اسی لئے اس کی ایک شرط ’’ہدف‘ یعنی کسی مقصد کے لئے آپ غور و فکر کر رہے ہیں اب اگر یہی ہدف الہی ہدف ہو۔ تو ایک الہی فکر انسان کے اندر پنپنے لگتی ہے اور وہ خدائی علم و فکر اپنے اندر محسوس کرنے لگتا ہے ۔ دنیا میں کئی ساریہ عظیم ہستیاں اس دُر بیش بہا یعنی’’الہی غور و فکر‘‘ کی مالک تھیں اور ہیں۔ اس عظیم تحفے کی مالک شخصیات میں ائمہ علیہم السلام کے بعد ان کے اصحاب کا اور ان کے بعد ان کے ماننے والوں خاص طور پر علما و فقہا کا آتا ہے۔ چودہ سو سال بعد یہی فکر اس مکتب کے ابھرتے ہوئے ستاروں میںؓ روان دواں ہیں ۔ ان ابھرتے ہوئے ستاروں میں دو ستارے ایسے ہیں جنہوں نےبیسیویں صدی میں شیطانی و طاغوتی نظام کے تار وپود الٹ کر رکھ دیئے۔ ان میں ایک عظیم رہبر مجاہد کبیر آیت اللہ العظمیٰ روح اللہ خمینی ؒ کی پاک و پاکیزہ شخصیت ہیں اور دوسرا ستارا ن کے شاگرد عزیز محبوب امام خمینی آیت اللہ شہید مرتضی مطہری کی شخصیت ہیں۔ علامہ مرتضی ٰ مطہری کی شکصیت پر کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ بڑی بڑی و اعلیٰ شخصیات نے اپنے اپنے قلم کی روانی سے اس عظیم مفکر کے متعلق ورق روشن کئے ہیں حتیٰ کہ رہبر کبیر آیتہ اللہ خمینی ؒ جن کو اپنا ’’عزیز فرزند‘ ‘شاگرد نور‘‘ ’’اپنے جسم کا ٹکڑا‘‘ کہے اس کے بارے میں ایک حقیر گناہگار کیا جسارت کر سکتا ہے۔ بہرحال میرے اندر کی آگ نے مجھے خاموش بیٹھنے نہیں دیا اس لئے یہ جسارت کر رہا ہوں۔
علامہ مرتضی مطہری ؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں انہوں نے اپنے قلم کی روانی اور زبان کی چاشنی سے تاریخ عالم پر ایک گہری مہر ثبت کی ہیں۔ علامہ مطہری انیسویں صدی کے مایہ ناز فلسفیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک فلسفی سے بڑھ کر ایک عالم ربانی تھے بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ وہ اپنے آپ میں ایک امت تھے یعنی اس کے اندر انسانیت کا جوہر سرشار تھا ۔جو کبھی علمی کبھی فلسفی کبھی دانشورانہ کبھی ثقافتی تو کہی پہ فکر رنگ میں نظر آتی ہے۔ علامہ مطہری نے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کو ایک نئی فکر(منطقی فکر) عطا کی۔ اس کی فکری شعور کی گہرائیوں کا اندازہ لگانا بہت ہی مشکل امر ہے۔ انہوں نے اپنے فکری شعور سے اجتہاد کے مفہوم کو وسعت دی اور ہمیں فکر نو جیسی عظیم صفت بخشنے کے لئے اپنے افکار ثبت کئے۔ علامہ مطہری کے علمی و فکری شعور کی گہرائیوں میں ہمیں صرف اور صرف پاک طنیت، نیک سیرت، خوش گفتار، خوش اخلاق اور الہی رنگ و روپ جیسے افکار کی جھلک ملے گی۔ ان کے علمی و فکری کاششوں میں بہت سارے اسباب کارفرماں ہیں۔ جس کے ذریعہ انہوں نے مغرب و مادیت کے کھوکھلے اور زہریلے واروں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کو کھوکھلا ثابت کیا بلکہ ہمیں صحیح اسلامی فکر و شعور اور افکار کی دعوت دی ہیں۔ علامہ مطہری ؒ کے علمی و فکری شعور کی خداد صلاحیتوں میں مندرجہ ذیل عوامل کارفرما نظر آتے ہیں؛۔
(۱)خدا پہ ایمان (۲) اہلبیت علیھہم السلام سے دلی وابستگی (۳) قرآن مجید سے خاص الفت (۴) عظیم اساتذہ سے کسب فیض (۵) تقویٰ الہی (۶) مقصد پہ ایمان (۷) پاکیزہ گھرانہ (۸) دینی ماحول (۹) خود فکر (۱۰) علم سے شغف (۱۱) وقت کی پابندی (۱۲) تحقیقی و جستجو (۱۳) اخلاص (۱۴) موضوع شناسی وغیرہ
خدا پہ ایمان:
اخلاقی اصولوں کو جامہ عمل پہنانے کا اہم ترین ضامن اور اخلاقی مسائل کا سب سے بڑا سہار ’’مذہبی ایمان ‘‘ ہے ۔ یہ ایمان ہی ہے جو احساسات و جذبات اور نفسانی خواہشات کے خلاف جنگ کے میدان میں انسان کو کامیابی اور فتح کی ضمانت دیتا ہے۔ اس خدا پر ایمان جو خالق کائنات ہے۔ جس کا فرمان پوری کائنات پر جاری و ساری ہے۔ جو ہر شخص کی اندرونی حالت سے واقف و آگاہ ہے اور آخر کار سب کو اسی کی بارگاہ میں حاضری دینی ہے انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نفسانی کوایشات کے پنجوں سے اپنا دامن چھڑا سکے۔ علامہ مرتضیٰ مطہری ؒ چونکہ خدا کو مکمل و ابدی حقیقت جانتے ہیں سارے جہاں کا خالق و مالک مانتے ہیں لیکن ہمارے اور علامہ مطہری ؒ کے ماننے میں ایک بڑا فرق ہے ہم جانتے ہوئے بھی ایسے کام انجام دیتے ہیں۔ جن سے خدا ناراض ہو جاتا ہے۔ لیکن علامہ مرتضیٰ مطہری ہر کام میں خدائی ہاتھ محسوس کرتے ہیں وہ جب بھی کوئی کام کرنا چاہتے تھے اس میں خالص نیت کارفرما نظر آتی ہیں وہ اپنے ہر کام کو خداو ررسول کو حاضر و ناضر جان کر انجام دیتے تھے جبکہ ہم صرف زبانی ایمان سے کرتے ہیں۔ خدا پہ ایمان پیہم اس بات کی دلیل ہے کہ علامہ مطہری نے اس معاملے میں کافی غور و فکر کی اور اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچے۔ علامہ مطہری کا خدا پہ ایمان اس کے فکری شعور کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہی ہے کہ اس کے ہر کام میں خدا پر ایمان کی جھلک ہمیں صاف طور سے اور واضح و آشکار دکھائی دیتی ہیں ۔
قرآن و اہلبیت ؑ سے دلی وابستگی:
علامہ مطہری جیسی عظیم شخصیت ہر دور میں ملنا نہایت ہی مشکل امر ہے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے قرآن مجید اور اہلبیت ؑ کے کردار و گفتار کو ماں کی آغوش میں ہی حاصل کی۔ ان کی فکری شعور کا سرچشمہ قرآن اور اہلبیت سے دلی وابستگی میں ہے ۔ ہر کام میں پہلے سوچ و بچار کرتے ہیں اس کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی وہ اپنے قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ قرآن مجید چونکہ کتاب ہدایت و حکمت ہے لھذا علامہ مطہری کے شعور و شخصیت میں ہم حکمت ہی حکمت دیکھتے ہیں۔ ہر موضوع پہ لکھنے کے وقت بہترین اور منطقی آرا پیش کر کے ہمیں ہی نتائج اخذ کرنے کے لئے کہتے ہیں ۔ جیسے وہ ہر بات کے ثبوت میں قرآنی آیات اس کے پُر منطق بات کے ثبوت کے دلائل بہترین حکمت و علم کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ گویا کہ خود اہلبیت اس کے حمایتی رہتے ہیں۔ اس کے تمام افکار میں اہلبیت کی تعلیمات کی گہری اور پُر واضح سیرت و اسلوب کار فرما نظر آتی ہیں۔ اپنے روزمرہ کے کام کاج یا خود دوسروں کے ساتھ گفتار کے دوران اس میں قرآن اور اہلبیت کی پاکیزہ تعلیمات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہیں۔ میرے علم کے مطابق انہوں نے قرآن اور اہلبیت کو صرف سمجھا ہی نہیں بلکہ اپنے روح اور جسم دونوں کو ان کی صورت سے پیوستگی اور روشنی بخشی۔ اس لئے کہ ان کے فکری افکار فکری ونظریاتی انقلاب بپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رسول اکرم (ص) کی حدیث ثقلین پر علامہ مطہری نے نہ صرف لبیک کہی بلکہ انہوں ے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر واقعی رسول کریم (ص) اور اہلبیت ؑ کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اپنے ہر قول و فعل کو اہلبیت ؑ کے قول و فعل سے مشابہ کرنا ہو گا ، کربلائی قول و فعل بنانا ہوگا۔
قرآن مجید اور اہلبیت سے دلی وابستگی نے علامہ مطہری کے فکری شعور کا اتنا پُر شعور بنادیا کہ رہبر کبیر آیت اللہ خمینی ؒ کو کہنا پڑا ’’کہ مطہری کی زبان و قلم کے آثار بلا استثنا مفید اور روح پرور ہیں‘‘یعنی نائب امام زمانہ کو علامہ مطہری کے افکار کی تائید کرنی پڑی کیوں نہ ہو جس کے افکار میں ہی قرآن جیسی کتاب کی لطافت اور اہلبیت ؑ جیسے پاکیزگی طہارت کی جھلک ہو ایسے میں امام راحل مہر ثبت نہ کرے تو کیا کرے۔ بہرحال ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ علامہ مطہری ایک عظیم مفکر دانشور عالم فلسفی نے اپنا فکری سرمایہ قرآن اور اہلبیت جیسے گرانبہاں میراث سے حاصل کیا ہے یعنی منبع علم ہی شہر علم اور باب العلم ہے تو شاگرد کا کیا عالم ہو گا۔
عظیم اساتذہ سے کسب فیض:
بہت سارے فلسفی اور دانشور حضرات تعلیم و تربیت کا ایک معیار عظیم اور اچھے استاد سے تعلیم حاصل کرنے کو مانتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک عظیم استاد یا فلسفہ کو سنوارنے میں ایک عظیم شخصیت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے جو کہ استاد ہے۔ لہذا علامہ مطہری جیسے مایہ ناز دانشور و مفکر کے پیچھے بہت ہی اعلیٰ و ارفع اساتذہ کا ہاتھ تھا۔ جیسے حضرت آیتہ اللہ امام خمینی ؒ ، حضرت علامہ طباطبائی ؒ، حضرت آیتہ اللہ مکارم شیرازی، حضرت آیتہ اللہ مرشعی نجفی، وغیرہ ۔ ظاہر ہے یہ اساتذہ جو خود تقوی الہی اور تزکیہ نفس و حکمت سے سرشار تھے ۔ لہذا علامہ مطہری میں بھی انکی پاکیزہ تعلیمات سرایت کر گئی اور وہ تقوی الہی میں غوطہ زن ہو کے اپنے اندر خدائی مدد محسوس کرتے تھے۔ ان عظیم اساتذہ سے علامہ مطہری نے اخلاق، فلسفہ، تاریخ، منطق، دینیات، وغیرہ جیسے مضامین کا علم حاصل کیا۔ گویا یوں لگتا ہے کہ خداوند عالم نے اپنے اس محبوب بندےکے لئے خود اپنی پسند کے اساتذہ تعین کئے ہوئے تھے۔ کیونکہ علامہ مطہری ان تمام مضامین میں ایک خاص مہارت رکھتے تھے۔ اخلاق پڑھا تو اب تک کی اخلاق پہ لکھئ گئی عظیم کتابوں میں سے ایک ’’فلسفہ اخلاق‘‘ دنیا کو پیش کی ۔ فلسفہ پڑھا تو مادیت و دہریت کے کھوکھلے فلسفوں کا جنازہ نکل گیا۔ اسی طرح تمام مضامین میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ اسی ضمن میں آیت اللہ امام خمینیؒ استاد مطہری کو اپنا محبوب قرار دیتے ہیں اور علامہ مطہری امام خمینی کو ایک الہی استاد کے لقب سے نوازتے ہیں۔
غرض دنیا میں بہت کم ایسے استاد ملتے ہیں جو اپنی مثال آپ ہوتے ہیں لیکن علامہ مطہری کے سبھی اساتذہ ایک عظیم اور بلند روح کے مالک استاد تھے۔ انکی بلند نگاہی انکے باکمال ہونے کی گواہی دیتی ہیں۔ ایسے استاد بنائے نہیں جاتے بلکہ پیدائشی استاد ہوتے ہیں۔ ایسے استاد خاوند متعال کی جانب سے بہترین خوبصورت تحفے ہوتے ہیں۔ جن کی پہچان کے لئے سب سے بہترین اور خوبصورت نگاہ کی ضرورت ہوتی ہیں۔ ایک اندرونی خوبصورتی کی ضرورت ہوتی ہیں اور ایسی خوبصورتی علامہ مطہری کے تن ومن میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بس یہی کہنا کافی ہو گا کہ علامہ مطہری کی شخصیت صرف ایک نہیں بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک امت کی شکل میں تھے۔ اور اس امت کی شکل میں کہی بیش بہا اور بہشتی جوہرات کی تراش کاری ہوتی ہیں جن میں اس انمول ہیرے کی قیمت (عظمت) دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور یہ سب انہی باکمال و بلند پرور شخصیات کا کارنامہ ہیں جنہوں نے اپنے فیض علم و حکمت کے چشمے سے علامہ مطہری کے چشمے کو ایک سمندر کی طرح گہرا بنادیا کہ جس کی ایک ایک لہر ہزارہاں معنوں کو قدرت کی شاہکاری میں بیان کرتے ہیں۔
وقت کی پابندی:
عظیم لوگوں کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے وقت کی پابندی یعنی کام کو اپنے وقت مقررہ کے اندر انجام دینا۔ اور یہی ان کی فکری سرچشمہ کو مزید پختگی اور پروقار بنادیتا ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ عظیم لوگ وقت کے غلام نہیں ہوا کرتے بلکہ وقت ان کا غلام ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک ایسی کلا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوا کرتی ۔یہ عظیم صفت صرف عظیم لوگوں میں ہی ہوتی ہیں۔ علامہ مطہری پوری طرح وقت کی قدردانی کرتے تھے چاہیے گھریلو معاملات ہوں یا دیگر معاملات ہر میدان میں وہ غضب کا استعداد رکھتے تھے۔ ان کا معمول قرآن مجید کی تلاوت کرنا، ہر وقت باوضو رہنا ، محتاجوں کی مدد کرنا، اپنے کام کو خالص خدا کے لئے انجام دینا، دین کی آبیاری کرنا، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی وغیرہ۔ یہ سب ایسے صفات ہیں جن کے لئے کافی وقت درکار ہونا چاہیں۔ لیکن علامہ مطہری نے وقت کو ایسے ہاتھ میں لیا تھا کہ خود ہی وقت ہار مان لیتا تھا ۔ تمام کاموں کو وقت کے اندر اندر مکمل کرنا ان کی ایک عمدہ خوبی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ذہنی و فکری سکون کے مالک تھے۔ اگر ہم کسی کام کو وقت کے اندر تمام نہیں کر پاتے تو ہم بے چینی و بے آرامی کا شکار ہو جاتی ہے ۔لیکن چونکہ علامہ مطہری ہر کام میں نیت خالص رکھتے تھے۔ لہذا خداوند متعال بھی ان کے کاموں میں برکت کیا کرتے تھے۔ گویا کہ علامہ مطہری وقت کے آگے ہوتے تھے اور وقت ان کے پیچھے ۔ اس اہم ترین صفت کی وجہ سے ان کی فکری صلاحیت میں مزید پختگی دیکھنے کو ملتے ہے جو صرف ان کا امتیاز تھا۔
علم سے شغف:
امام خمینی ؒ فرماتے ہیں کہ’’ عظیم لوگوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ دو منٹ بغیر ہوا کے دو دن بغیر پانی کے زندہ رہ سکتے ہے لیکن ایک منٹ بھی کتاب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔‘‘ بالکل اسی ضمن میں علامہ مطہری کی شخصیت کو دیکھا جائے تو علم سے محبت و شغف رکھنا کوئی ان سے سیکھے۔ جی ہاں کوئی بھی علم ہو چاہیے مشرق والوں کا ہو یا مغرب والوں ، مسلمانوں ہو یا کسی اور مذہب کا علامہ مطہری ہر کسی کا لیٹریچر پڑھتے تھے اور پھر بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ ان کے غلط علمی خیالات کا منطقی اندا ز میں جواب دیتے تھے۔ علامہ مطہری ایک عظیم روح کے مالک انسان تھے وہ مخالفین کی تحریر پہ بالکل بھی ڈرتے اور خوف زدہ نہیں ہوتے تھے بلکہ تمام پہلوؤں سے اس پر غور و خوض کرتے تھے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ۔پھر اپنی تمام دلائل و برہان کے ساتھ اس کا رد یا داد دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی فکری شعور میں تمام تر علوم کی رنگارنگی کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ علم سے شغف ہی نے ان کو تہران یونیورسٹی میں ۲۰ سال پڑھانے پر آمادہ کیا۔ جذ بہ علم ہی کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف سینکڑوں کتابیں تحریر کی بلکہ پوری زندگی میں اس پہلو کا غالبانہ انداز دیکھا جاسکتا ہے۔
وہ علم کو مسلمانوں کی گمشدہ میراث سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میراث کو مسلمانوں نے اب ترک کردیا ہے ۔ حالانکہ دین اسلام میں علم کو واجب قرار دی گیا ہے۔ علامہ مطہری کے بقول فریضئہ علم ایک واجب تیہوی ہے یعنی ایسا علم جو دوسرے علم کے لئے مقدمہ ہے اور خود واجب ہیں۔ پس یہ کیا جاسکتا ہے کہ علامہ مطہری کی فکری گہرایئوں کا ایک اور منبع علم سے شغف ہے۔ کیونکہ علم اور بحر بیکراں ہیں جو بند دروازے کے راستے کھولنے میں ہماری رہنمائی و مدد کرتا ہے۔ علم ہی کی وجہ سے علامہ مطہری کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے کتابوں یا مقالہ جات کا صرف ایک ہی معنی نہیں نکلتا بلکہ ہر شعبے کا ماہر ان کی تحریروں کو اپنے اپنے شعبے کے مشابہت سے دیکھتا ہے جو کہ علامہ مطہری ہی کا کارنامہ ہے ۔ ان کے تقاریر و تحاریر موجودہ صدی کے لئے ایک روشن چراغ کی طرح ہے ۔ان کے فکری افکار کی وجہ سے ہی ایرانی قوم آج ترقی کی بلند راہیں طے کررہا ہے۔ اس لئے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ علامہ مطہری تمام علوم میں غضب کا استعداد رکھتے تھے۔
تحقیق اور جستجو:
تحقیق اور جستجو کی وجہ سے صدیوں سے انسان نے نئے نئے نظریات، تصورات وغیرہ وضع کئے ، اگر تحقیق و تلاش کا کام نہ ہوا ہوتا اگر علم کے مختلف شعبوں میں یا دیگر شعبوں میں تحقیق کا کام نہ ہوا ہوتا ۔ اگر انسانی زندگی میں تحقیق و جستجو کا کام نہ ہوا ہوتا ۔ تو سارے علوم کی تحریریں ہم تک کیسے پہنچ سکتی تھی، لہذا تحقیق و جستجو ایک ایسا پہلو ہے جس نے انسانی شعور کو کافی وسعت بخشی۔ علامہ مطہری کی ززندگی بھی اسی کام میں لگی ہو ئی تھی۔ وہ ساری عمر تحقیق کے کام میں مصروف رہے یہی وجہ سے کہ ان کی مایہ ناز تصانیف ایک محقق کی حیثیت سے جانی جاتی ہے ۔ یعنی ان کی تحقیقی ہنر ہر میدان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اسی فن کی وجہ سے انہوں نے ہمیں اسلام، کربلا اور خصوصاً عاشورہ کا حقیقی اور صحیح چہرہ دکھایا ہے۔ حماسہ حسینی جیسے کتاب تحقیقی کاوش کا ہی نتیجہ ہے۔ جس نے ہمیں کربلا کی جاذبیت، سالمیت، اور اس کی بقا کے حقیقی راز سے آشنا کیا ۔ تحریفات اور فرسودہ رسومات و خیالات سے پاک کر کے ہمیں اسلام ناب اور مخلص کربلا سے متعارف کرایا۔ سچی کہانیاں علامہ مطہری کے تحقیقی معجزات میں سے ایک ہیں ۔ حالانکہ اس وقت لوگ ان کو طعنے دے رہتے تھے کہ آپ اتنے بڑے علامہ ہو کے بچوں کے لئے لکھنے لگے۔ لیکن علامہ صاحب نے ان کی باتوں پہ کان نہ دھر اور اپنا مشن جاری رکھا اور نتیجہ بچوں کے لئے حقیقی اسلام ناب کی کہانیاں لکھ ڈالی۔ یہ کتاب بچوں کی فکری اور منطقی سوچ کی تخم ریزی کے لئے باعث افتخار ہے۔ اہلبیت ؑ سے محبت و مودت کی وجہ سے وہ تحقیق و جستجو کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ کیونکہ ان کے بقول کوئی بھی کام آنکھ بند کے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی صاحب علم ہمارے مکتب پہ اعتراض کرتا تھا۔ تو ان کو خوبصورتی کے ساتھ قرآنی دلائل، اہلبیت ؑ کی سیرت و اقوال اور خود مخالفین کی کتب سے جواب دیا کرتے تھے جو کہ ان ہی کا خاصہ تھا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ علامہ مطہری کی فکری شعور کا ایک اور منبع تحقیق و جستجو ہے۔
حوالے:
مطہری مرتضیٰ، سیرت اہلبیت ، کشمیر: مطہری و فکری ثقافتی مرکز، ۲۰۱۳
مطہری مرتضیٰ، انسان اور تقدیر، اسلام آباد پاکستان: پیام نور پبلی کیشینز، ۲۰۰۹
مطہری مرتضیٰ،فطرت، سرینگر کشمیر: امان پبلی کیشینز، ۲۰۰۹
مطہری مرتضیٰ ، سخن، کشمیر: اورینٹل بُک ہاوس گاسی یار حول، ۲۰۰۰
مطہری مرتضیٰ، اسلام میں تعلیم و تربیت، پاکستان: امامیہ پبلی کیشینز، مہراج الدین پرنٹیرس، ۱۹۹۷
مطہری مرتضیٰ، سیرت النبی ﷺ کا ایک مطالعہ، کشمیر: مطہری و فکری ثقافتی مرکز،۲۰۱۱
مطہری مرتضیٰ، اسلام کا نظام تعلیم، کشمیر: مطہری و فکری ثقافتی مرکز، ۲۰۱۴
مطہری مرتضیٰ، اسلام اور عصر حاضر کی ضروریات، کراچی پاکستان: دارالثقلین، ۲۰۰۸
مطہری مرتضیٰ ، ہدف زندگی، پاکستان: امامیہ پبلی کیشینز ، مہراج الدین پرنٹرز، ۱۹۹۸
مطہری مرتضیٰ، spiritual discourses، ایران: پروپگیشن تنظیم تہران، ۲۰۱۲
ڈاکٹر محمد صادق رضوی، استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ لافانی عالم دین ،ص ۷۳،۔۷۲
مطہری مرتضیٰ، عد ل الہیٰ ، نظام آباد پاکستان: کوثر تحقیقاتی مرکز، ۲۰۰۸، ص، ۳۰۴
علی قمر، مثالی لوگ شہید مطہریؒ ، ص،۱۷۔۱۶
ڈاکٹر میر محمد ابراہیم، اسلامی بیداری میں شہید مطہری ؒ کا رول ،
نشان راہ۔ شمارہ اول، سرینگر کشمیر: مطہری و ثقافتی مرکز کشمیر (۲۰۱۱) ص۔ ۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242