اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے ایران-عراق آٹھ سالہ جنگ میں اسیران کی رہائی کے دن (17 آگست) کی سالگرہ کی مناسبت سے ان کو زندہ شہید اور وطن سے محبت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدس سرزمین پر ان کی قابل فخر واپسی کے لمحات، ایرانی شکرگزارع وام کی خاطر سے کبھی نہیں مٹیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، علامہ سید ابراہیم رئیسی نے آج مطابق (17 آگست) کی مناسبت سے ایک پیغام میں کہا کہ 17 آگست شاندار آزادی پسندوں کی اسلامی وطن کی واپسی کی سالگرہ ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ عاشورا حسینی کے ساتھ اس قابل فخر واپسی کی سالگرہ کا تقارن، کربلا کے اسیروں کے لیے عزیز آزادیوں کے قیام اور ان کیخلاف مزاحمت اور جبر کیخلاف استقامت کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ معزز اسیران کی واپسی اور عراق میں بعثی حکومت کے کیمپوں سے ان کی رہائی، ایرانی قوم کی یادداشت میں سنہ 1990ء کا ایک اہم اور خوشگوار واقعے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ سب کو بخوبی پتہ ہے کہ اس واقعے کا ایرانی اہلکاروں اور قوم کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور بلاشہ یہ الہی وعہدہ ہے جو سورہ فصلت میں فرمایا ہے کہ "إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنتُمْ تُوعَدُونَ"
واضح رہے کہ ایران کیخلاف جنگ کے آغاز کرنے والوں کا مقصد دو علاقائی اور عالمی مقاصد کا مجموعہ تھا؛ وہ جنگ جو عراق کی حکومت نے ستمبر 1980 کے آخری دنوں میں ایران پر مسلط کی تھی اور یہ آٹھ سال تک جاری رہی۔
آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اہم نکتہ تمام فوجیوں، رضا کار فورسز اور لوگوں کا اتحاد اور یکجہتی تھا؛ کسی کیلئے یونٹ اور کپڑوں کا رنگ اہم نہیں تھا لیکن سب کیلئے یہ ضروری تھا کہ اسلامی وطن کو دشمن کے بزدلانہ حملے سے بچائیں۔
ایرانی قوم مسلط کردہ جنگ (1980-1798) کے دوران، مغربی اور مشرقی حکومتوں کی حمایت سے مسلح صدام حسین کی حکومت کیخلاف خالی ہاتھ کھڑی تھی اور انہوں نے دشمن کو ایرانی علاقے کا ایک انچ بھی نہیں دیا تھا۔
مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے چالیس سال بعد آج بھی ایرانی قوم نے اپنی دفاعی تیاری کو برقرار رکھا ہے اور وہ کبھی بھی دشمن پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گی۔
حالیہ سالوں کے دوران، ایرانی مسلح افواج اپنی دفاعی طاقت کو بڑھا کر اور اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں؛ انہوں نے فوجی سازوسامان کی تیاری میں خود کفالت کے سلسلے میں زبردست پیش قدمی کی ہے اور ایران کی صلاحیتوں کے ہر سال بشمول فوجی میدان میں الیکٹرانک آلات اور میزائلوں کی نمائش کی جاتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام نے آٹھ سالہ دفاع مقدس اور مسلط کردہ جنگ کے دوران سمیت دہشتگردی حملوں میں 225 ہزار 570 کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں جانبازوں کی مجموعی تعداد 574 ہزار 101 کی ہے اور صدام کی حکومت کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے اور کچھ عرصے کے بعد رہا کیے گئے افراد کی تعداد بھی 43 ہزار 173 کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲