اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی و علمی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و والمسلمین احمدی تبار نے اس نشست میں علما کی یاد کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: علامہ خرسان سیمینار جو مکتب اہل بیت(ع) کی راہ میں انجام پانے والی خدمات کو متعارف کروانے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے اس کے حوالے سے حوزہ علمیہ نجف اور قم میں گفتگو جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ خراساں کی کاوشوں میں سے ایک پہلو اہل بیت (ع) کے علمی ورثے کا احیاء ہے۔ یہ کام اگر ایک تحقیقی کام نہیں ہے تو کسی تحقیق سے کم بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: "جو بھی شخص تاریخ کو جاننا اور اس کے طول و عرض کو واضح کرنا چاہتا ہے، اس کے پاس اس بنیاد پر کام کرنے کے لیے اچھے مبانی کا ہونا ضروری ہے"۔
حجت الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے کہا: علامہ خورسان نے یقینی امور کے علاوہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے پیش کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور کچھ معاملات میں دوسروں سے اختلاف بھی کیا ہے جو اس بزرگ عالم دین کی عظیم کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ابناء الرسول کانگریس کی علمی کمیٹی کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین محمد تقی ربانی نے اس نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم دیکھ رہے ہیں گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا کے مختلف حصوں خاص طور پر عالم اسلام میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "داعش اور تکفیری تحریکوں جیسے واقعات کو حالیہ دہائیوں میں پیش آنے والے واقعات کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔"
انہوں نے کہا: "مذہب اہل بیت(ع) کے پیروکار ہونے کے ناطے ، اگر ہم دنیا کے میدان میں سربلند ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے افکار کو پیش کرنا ہو گا۔
ربانی نے کہا: میراث اہل بیت (ع) کو احیاء کرنے میں علامہ خرسان کا کردار بے مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ خرسان کے اعزاز میں سیمینار امام محمد باقر (ع) کی ولادت باسعادت کے موقع پر پہلی رجب کو قم میں اور ۲۲ رجب کو نجف اشرف میں منعقد ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242