اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے خارجہ امور کمیشن کے رکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں نے تہران اور اسلام آباد کی ہم آہنگی کو دگنا کردیا ہے۔
ولید اقبال نے افغانستان میں امن کے قیام کیلیے پڑوسیوں کے کردار اور غیر علاقائی حل کی عدم ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ایران اور پاکستان کے مابین رابطے کی ضرورت کو دوگنا کردیا ہے۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے مابین تاریخی ، سماجی ، مذہبی اور ثقافتی مشترکات کو دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات اور علاقائی مسائل کے حل کیلیے تعاون کی توسیع کیلیے ایک بنیادی عامل قرار دیا۔
جنہوں نے پاکستانی شاعر علامہ اقبال لاہوری کے پوتے ہیں، کہا کہ ایران اور پاکستان کو علاقائی مسائل خاص طور پر افغان بحران کو حل کرنے میں، کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوںنے کہا کہ غیر ملکی حل یا غیرعلاقائی قوتوں کی موجودگی کبھی بھی افغانستان کے مسائل حل کرنے کا راستہ نہیں ہے لہذا افغان عوام اور تمام افغان گروپ کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا ہوگا اور علاقائی اداکاروں خاص طور پر ایران اور پاکستان کے کردار سے فائدہ اٹھائیں۔
اقبال نے بتایا کہ بدقسمتی سے افغانستان کی موجودہ صورتحال تشدد اور خانہ جنگی کی طرف آگے بڑھ رہی ہے جس سے ایران اور پاکستان جو کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں، کو خطرہ لاحق ہوگا۔
ولید اقبال نے کہا کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کی ایک نئی لہر کے خطرے کا سامنا ہے ، جبکہ ہم مزید مہاجرین کی میزبانی کرنے سے قاصر ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسلام آباد کو اس صورتحال پر قابو کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے تجربات کو استعمال کرنا چاہئے۔
انہوں نے حالیہ دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی میں افغان وفود کی شرکت کے ساتھ منعقدہ بین افغان اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے خاص طور پر افغانستان کا بحران اس مشترکہ پڑوسی کی مدد کے لئے تہران اور اسلام آباد کے مابین پہلے سے کہیں زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت کی تصدیق کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت افغانستان میں امن و استحکام کو مستحکم کرنے کے لئے کسی بھی طرح تعاون کے لئے پرعزم ہے اور اسی وجہ سے پاکستان نے عالمی برادری کو اعلان کیا ہے کہ وہ امن کے لئے طویل المدتی شراکت میں حصہ لینے کے لئے تیار ہے لیکن کسی بھی تنازعہ میں شریک نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲