5 جولائی 2021 - 19:06
کشمیری لیڈرشپ نریندر مودی کی ’کل جماعتی میٹنگ‘ سے مایوس

پی اے جی ڈی کے ترجمان یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ تمام ممبران نے کل جماعتی اجلاس سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے اعتماد سازی کے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ نے کہا کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ آل پارٹی میٹنگ سے مایوس ہے کیونکہ مذکورہ میٹنگ کے بعد اعتماد سازی کے لئے مودی حکومت نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں۔ گپکار الائنس کے ترجمان یوسف تاریگامی نے ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کی کل شام کو منعقد ہوئی میٹنگ میں الائنس کے تمام ممبران نے شرکت کی، جن میں صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، نائب چیئرپرسن محبوبہ مفتی، ایم وائی تاریگامی، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، جاوید مصطفیٰ میر اور مظفر احمد شاہ شامل تھے۔ یہ میٹنگ فاروق عبداللہ کی رہائشگاہ پر منعقد ہوئی۔

پی اے جی ڈی کے ترجمان یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ تمام ممبران نے کل جماعتی اجلاس سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے اعتماد سازی کے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جیلوں سے سیاسی اور دوسرے قیدیوں کو رہا کرنا اور جموں و کشمیر میں دھونس دباؤ کے ماحول کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پی اے جی ڈی نے 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کے عوام پر ”غیر آئینی اور ناقابل قبول تبدیلیوں“ کے خاتمے کیلئے مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں کو واپس لینے کے لئے پی اے جی ڈی کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک کہ یہ غیر قانونی اور آئینی فیصلے واپس نہیں لئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدو جہد آئین، قانون اور سیاسی دائرے کے اندر جاری رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲