اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک مفکر کہتا ہے کہ جنگ کی چار نسلیں ہیں، جو کچھ یوں ہیں:
نسل اول: سفید ہتھیاروں کی جنگ، یہ رسالے (گھڑسواروں) کی جنگ ہے۔
نسل دوئم: آتشی اسلحے (Firearm) کی جنگ... کولٹ (پستول) کے ڈیزائنر سیموئل کولٹ (Samuel Colt = 1814-1862) نے کہا تھا کہ "اب آتشی ہتھیاروں کے منظر عام پر آنے کے بعد، دلیر اور بزدل ایک جیسے ہیں۔
نسل سوئم: ایٹمی ہتھیاروں کے ذریعے جنگ اور انہدام، ایسی جنگ جس میں سب سے زیادہ نامرد اور بزدل قوت کامیاب ہوجاتی ہے۔
نسل چہارم: اس نسل کی جنگ کا قاعدہ یہ ہے: دشمن کو کو فریقوں میں تقسیم کرو، انہیں آپس میں لڑنے دو، اس کے لئے پانچواں کالم (دشمن ملک کے اندر کے غداروں اور وطن فروشوں کی فوج) بنا دو۔ یہ جنگ غداروں اور جاسوسوں کی جنگ ہے۔ یہ جنگ فکری، مذہبی، قومی، قبائلی، اور فرقہ وارانہ تنازعات اور جنگوں کو ہوا دے کر لڑی جاتی ہے۔
فرانس کے مسلمان فلاسفر اور مفکر راجر گارودی یا رجا گارودی (Roger Garaudy OR Ragaa Garaudy) چوتھی نسل کی جنگوں کے بارے میں کہتے ہیں: "اب مغرب اخراجات برداشت کئے بغیر لڑے گا؛ دشمن اپنا خود خود بہائے گا، دشمن [مغرب اپنی تباہی کے لئے] مغرب سے ہتھیار خریدے گا اور [اور اپنے گھر کی ویرانی کی قیمت] ہتھیاروں کی قیمت [کی صورت میں] مغرب ہی کو ادا کرے گا؛ اور جب دشمن تھک ہار جائے تو مغرب سے مداخلت کی درخواست کرےگا اور مغرب [نے اگر جنگ قبضے کی نیت سے شروع کروائی ہو تو بڑی آسانی سے مداخلت کرے گا اور اگر صرف دشمن کی نابودی مطلوب ہو اور مغرب صرف دشمن کی قوت کی تحلیل چاہتا ہو تو] تو وہ مداخلت نہیں کرے گا اور جنگ کو جاری رہنے دے گا"۔
زیرلاگت سے مراد یہ ہے کہ مغرب اس جنگ میں کچھ بھی نہیں کھو دیا کرتا اور ان سے نمٹنے کے لئے ہمیں فکری بصیرت اور آگہی کی ضرورت ہے کیونکہ چوتھی نسل کی زیرو لاگت کی جنگوں میں درندہ صفت سامراجی طاقتوں کے لئے کچھ شکست خوردہ ممالک اور ریاستوں کی ضرورت ہے اور یہ شکست خوردہ ریاستیں ذیل کی روشوں سے معرض وجود میں آتی ہیں:
الف: ایک اعتقادی تنازعے کی بنیاد رکھنا: جیسے فرقہ وارانہ، قومی، نسلی، مذبی و دینی جنگیں اور علاقائی تنازعات [جہاں سرزمین کو بھی مقدس اور اعتقاد کا حصہ سمجھا جاتا ہے]۔
ب: ہدف ملک (target country) میں کسی خطے کو علیحدہ کرنا [ملک کو توڑ کر]، اور اس علاقے کو تباہ و برباد اور ویران و منہدم کرنا، اور اس میں بغاوت کو اس حد تک پہنچانا کہ مرکزی حکومت کے قابو سے باہر ہوجائے، یا حتی مرکزی حکومت اس کو اپنے حال پر ہی چھوڑ دے۔
ج: ہدف ملک میں سماج دشمن، شرپسندوں، جرائم پیشہ، مدنیت کے دشمنوں کی فوج تیار کرنا: یعنی ان پڑھ، کم پڑھے لکھے، نادان، ناخود آگاہ، بےمقصد، آوارہ گرد اور نفسیاتی شکست سے دوچار اور معاشرے سے بدلہ لینے پر کاربند نوجوانوں کو ایک باغی فوج کے سانچے میں متحد کرنا؛ اخلاقیات سے عاری ایسی فوج جو وسیع اور بڑے پیمانے پر، وحشیانہ اور خوفناک قتل عام کے لئے اوزار کا کام دیتی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جو وحشی، خونخوار اور درندہ مغربی و صہیونی فوجی قوت کے بجائے، ان کی نیابتی عسکری قوت (Proxy military force) کے طور پر خون کی ہولیاں کھیلتی ہے اور اپنوں کے قتل و غارت سے لذت اٹھاتی ہیں۔ اور آخرکار:
د: ایک نئی نسل نسل معرض وجود میں لانا: ایسی نسل جس کی رگ و پے میں خونخواری، قتل و غارت، ظلم و جرم اور تخریب، ویرانیوں اور تباہ کاریوں نے ایک سماجی رویے اور اجتماعی ثقافت کی شکل اختیار کرلی ہو؛ ایسی نسل جو پرامن زندگی، تعمیر و ترقی، عظمت و وقار سے بیگانہ ہو۔
ایسی نسل کو معرض وجود میں لانے کے لئے انسان دشمن مغربی و صہیونی طاقتیں سوشل میڈیا کو ماں باپ، بڑوں بوڑھوں، استاد اور واعظ کے متبادل تربیتی متبادل کے طور پر متعارف کراتی ہیں؛ سوشل میڈیا کی پشت پر بیٹھے شیاطین بچوں اور نونہالوں، حتی کہ نوجوانوں کو گستاخ اور جری کردیتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں سے خائف نہ ہوں، ان کی بات نہ مانیں، ان کی نصیحت اور ہمدردی کو مسترد کریں، ان سے اثر نہ لیں؛ اور ان کے متبادل کے طور پر ان لوگوں سے اثر قبول کریں جو اسمارٹ آلات (Smart devices) کے ذریعے ان سے رابطہ برقرار کرتے ہیں، [متون اور پیغامات کے ذریعے، تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے، اسٹوریز کے ذریعے، گیمز کے ذریعے] اور یہ بچے اور نونہال اور کبھی نوجوان ان ذرائع سے موصولہ تمام احکامات کی من و عن تعمیل اور ان کی خواہشوں کی تکمیل کریں؛ یہاں تک کہ ان ذرائع - بالخصوص گیموں - کے توسط سے ان کی ترغیب اور تشویق کا کام کرتے ہیں یہاں تک کہ بچوں کو مختلف مراحل سے گذار کر خودکشی تک پر آمادہ کردیتے ہیں۔ جیسے بدنام زمانہ گیم "بلو ویل" (Blue Whale) جس کے مختلف مراحل میں گیم کھیلنے والے بچوں کو خودآزاری کرنا پڑتی تھی اور خودآزاری کی تصاویر بدتمیزی اور درندگی کی یہ بساط بچھانے والوں کے لئے بھجوانا پڑتی تھیں اور آخری مراحل تک پہنچ کر گیم کھیلنے والوں کو خودکشی کرنا پڑتی تھی۔
ان تمام بنیادی مراحل اور اساسی اقدامات کے بعد:
ایک شکست خوردہ ملک معرض وجود میں لانا جس کو قابو میں رکھنا اور اپنی بات منوانا آسان ہو اور قابض ملک جو بھی چاہے، اس شکست خوردہ اور پٹے ہوئے ملک کو بلا چون و چرا نافذ کرنا پڑے۔
"فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ؛ تو بس اسی کے لئے آپ اسی طرح سے دعوت دیتے رہئے اور مضبوطی سے جمے رہئے جس طرح کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے". (شوری، 15)
......
ترتیب و ترجمہ اور اضافات: فرحت حسین مہدوی
سورس: مجازی فضا (virtual space)
......
۱۱۰