10 مارچ 2021 - 14:37
آیت اللہ طائب: ابوطالب مومن تھے اور اعمال صالح کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے کہا: جناب ابوطالب نے ایک لمحہ کے لیے بھی پیغمبر اکرام کے دفاع سے ہاتھ نہیں کھینچا اور اس بات پر علمائے اسلام کا اجماع ہے اور تمام مورخین کی اتفاق نظر ہے کہ آپ نے کبھی پیغمبر اکرم کی پشت پناہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی، جناب ابوطالب نے حضرت خدیجہ کا پیغمبر اکرم سے عقد پڑھتے ہوئے کہا کہ رسول خدا کا دنیا میں کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی افتتاحی تقریب جو ۹ مارچ ۲۰۲۱ بروز منگل کو مدرسہ امام خمینی قم المقدسہ میں منعقد ہوئی اس میں آیت اللہ مہدی طائب نے کہا: جناب ابوطالب (ع) کے موضوع پر سیمینار کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ ہم جناب ابوطالب سے درس حاصل کر سکیں اور انہیں اپنے لیے نمونہ عمل بنا کر دین کی خدمت اور حفاظت کر سکیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جناب ابوطالب نے خود کو پیغمبر پر فدا کر دیا کہا: ابوطالب پیغمبر اکرم کی بعثت سے پہلے دین حنیف ابراہیم پر تھے اور بت پرستوں کی صف سے انہوں نے خود کو الگ کیا ہوا تھا اور وہ پہلے سے ہی موحد تھے۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے کہا: جناب ابوطالب نے ایک لمحہ کے لیے بھی پیغمبر اکرام کے دفاع سے ہاتھ نہیں کھینچا اور اس بات پر علمائے اسلام کا اجماع ہے اور تمام مورخین کی اتفاق نظر ہے کہ آپ نے کبھی پیغمبر اکرم کی پشت پناہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی، جناب ابوطالب نے حضرت خدیجہ کا پیغمبر اکرم سے عقد پڑھتے ہوئے کہا کہ رسول خدا کا دنیا میں کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ابوطالب نے اپنی جان کی بازی لگا کر پیغمبر اکرم کی حمایت کی اور تاریخ کا کہنا ہے کہ شعب ابی طالب نے جناب خدیجہ اور ابوطالب کو جسمانی لحاظ سے کمزور کر دیا، اورجس سال ان کی وفات ہوئی اس سال کو عام الحزن کا سال کہا گیا۔ اگر جناب ابوطالب اپنے ایمان کا اظہار کرتے تو وہ پیغمبر اکرم کی حمایت نہ کر پاتے اس لیے کہ تاریخ نے لکھا کہ حمزہ اپنے ایمان کے اظہار کی وجہ سے مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا: جناب ابوطالب اپنے ایمان کی وجہ سے ہی رسول اکرم کی مدد کر رہے تھے، طول تاریخ میں مسلمان جناب ابوطالب کو دوست رکھتے تھے، لیکن وہابیوں نے جناب ابوطالب کا مقبرہ مسمار کیا لیکن جب تک مکہ پر وہابی مسلط نہیں ہوئے تھے اور مکہ اہل سنت کے ہاتھوں میں تھا لوگ ابوطالب کی زیارت کے لیے بھی ان کے مقبرے میں جاتے تھے اگر ابوطالب کافر ہوتے تو ہرگز ان کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، یہ جو حاجی ان کی زیارت کے لیے جاتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے ان کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔
آیت اللہ طائب نے جناب ابوطالب کی نسل کے بارے میں کہا: جناب ابوطالب کی نسل کو سادات کہا جاتا ہے بلکہ تمام سادات جناب ابوطالب کی نسل سے ہیں تمام سادات مسلمان ہیں کوئی سید ایسا نہیں ملے گا جو کافر ہو، لہذا ابوطالب اپنی پاکیزہ نسل کے ذریعے دائمی ہو گئے۔ ابوطالب مومن بھی اور نیک اعمال کے ساتھ دنیا سے رخصت بھی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب نے گمنامی کا انتخاب کیا اور گمنام رہ کر پیغمبر اکرم کی حفاظت کی اسی وجہ سے جب تک آپ زندہ تھے کسی کو پیغمبر اکرم پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی، انہوں نے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھ کر اپنی ذمہ داری کو نبھایا اسی وجہ سے تاریخ میں ان کا نام زندہ ہے۔

.............

242