اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ اور حملوں نے غزہ میں بے مثال انسانی اور طبی بحران پیدا کردیا ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 5 ہزار افراد کے اعضا کاٹنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں دوہرے اعضا سے محرومی کے کیسز بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی جان اور اعضا بچانے کے لیے پیچیدہ جراحی کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بیان کے مطابق، اعصابی اور ریڑھ کی ہڈی کے شدید زخموں کے 300 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 10 ہزار افراد کو طویل مدتی اور انتہائی نگہداشت پر مشتمل بحالیِ صحت کی خدمات درکار ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ طبی مراکز کو براہِ راست نشانہ بنائے جانے کے باعث بحالیِ صحت کے بیشتر خصوصی مراکز بھی خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں زخمیوں اور مریضوں کو سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
وزارت کے مطابق طبی آلات، ضروری سامان، معاون آلات اور مصنوعی اعضا کی شدید قلت کے علاوہ مریضوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے پر عائد پابندیاں بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بحالیِ صحت اور مصنوعی اعضا کے لیے ضروری طبی سامان فوری طور پر غزہ پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ اور حملوں کے نتیجے میں اب تک 73 ہزار 470 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار 540 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ متعدد شہداء اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں۔
آپ کا تبصرہ