23 اکتوبر 2020 - 16:34
 امریکہ ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر / خانہ جنگی کے بادل ریاست ہائے امریکہ پر منڈلا رہے ہیں

ٹرمپ اپنے انتہاپسند ساتھیوں کو ان امور کی دعوت دے گا: "تیار رہو" اٹھنے کے لئے، اور کچل دو کالے اور بھورے "مجرموں" اور "انتہاپسندوں" کو اور ان تمام لوگوں کو جنہیں انھوں نے پہلے سے بدنام کرتے رہے ہیں۔ ایک ہمہ گیر نسلی جنگ - وہی جنگ جسے اجتماعی قاتل چارلس مینسن نے 51 سال قبل بھڑکانے کی کوشش کی تھی - اور اب ٹرمپ نے اسے Helter Skelter کا نام دیا ہے - امریکی صدر کے ہاتھوں شروع ہوجائے گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ٹرمپ کی طرف سے دائیں بازو کے تشدد پسند اور انتہا پسند گروپوں کی خفیہ اور اعلانیہ حمایت، اگلے مہینے کے صدارتی انتخابات میں ہارنے کی صورت میں ٹرمپ کی طرف سے اقتدار کی پرامن منتقلی کے عزم کا فقدان، امریکہ میں تشدد اور جنگ کی ابتدائی چنگاری کے مترادف ہوگا۔ سو اگر ٹرمپ ہارجائیں تو امریکیوں کو بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔  
امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی کے پروفیسر الیکس ہنٹن (Alex Hinton) نے "پراجیکٹ سینڈیکیٹ" (Project Syndicate) اخباری ویب گاہ کے لئے ایک مضمون بعنوان (Trump's Helter Skelter) میں ان محرکات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اگلے ایام اور مہینوں کے دوران امریکہ میں تشدد اور بدامنی کا سبب سکتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
طویل عرصے سے امریکہ میں مارشل لا اور خانہ جنگی جیسے باتیں بڑی عجیب لگتی تھیں لیکن اب 2020 کے صدارتی انتخابات کی آمد آمد پر، یہ باتیں عجیب نہیں ہیں اور امریکہ کے اندر بہت ساری فکرمندیاں معرض وجود میں آئی ہیں۔ حال ہی میں ریاست میشیگن میں "ملیشیاؤں" کے کئی کمانڈر گرفتار ہوئے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ میشیگن کے گورنر کو اغوا کرنا چاہتے تھے وفاقی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو ایسے حالات کا سامنا ہے جنہوں نے موجودہ امریکہ کو دھماکے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
اس طرح کے مسائل نے ان پیشنگوئیوں کو مزید تقویت پہنچائی ہے کہ صدارتی انتخابات ریاستہای متحدہ امریکہ میں ایک نہایت شدید اور ہمہ گیر بحران میں تبدیل ہوجائیں۔ سروے رپورٹوں کے مطابق ریپلکنز کے صدارتی امیدوار ٹرمپ ڈیموکریٹس کے امیدوار بائیڈن کے پیچھے پیچھے ہیں اور انھوں نے اپنی شکست کی نشانیاں دیکھنے کے بعد عرصے سے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ہارنے کی صورت میں وہ اقتدار کو پرامن طریقے سے منتقل نہیں کریں گے؛ نہ صرف یہ بلکہ وہ دوسری طرف سے وہ دائیں بازو کے انتہاپسند سفید فاموں کو اکسا رہے ہیں اور امریکی صدارتی انتخابات میں پوسٹل ووٹنگ (Postal voting) سے لے کر کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے بحران تک، ہر چیز کے بارے میں غلط بیانی کررہے ہیں اور لوگوں کو غلط معلومات فراہم کررہے ہیں
اگرچہ امریکہ کی صورت حال، عرصے سے تشویشناک ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بہتر یہی ہے کہ ہم اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ "اگر 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ بدامنی اور بلؤوں کا شکار ہوجائے تو حالات کس حد تک خراب ہوسکتے ہیں؟" اس مسئلے کے بارے میں تشویش کے لئے بہت سے دلائل اور اسباب پائے جاتے ہیں کہ اگر انتخابات کے بعد بدامنی پھیل جائے تو قوی امکان ہے کہ یہ صورت حال نہتے سیاہ فام اور غیر سفید فام شہریوں کے خلاف بےرحمانہ جرائم پر منتج ہوجائے۔
میں نے اپنی عمر کا اچھا خاصا حصہ نسل کشیوں اور اجتماعی تشدد پر تحقیق میں گذار دیا ہے اور مجھے شدید اندیشہ ہے؛ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ میں تشدد کی لہر اٹھنے کا امکان عام لوگوں کے تصورات سے کہاں زیادہ قوی ہے۔
میں یہاں چھ وجوہات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں اور اپنے قارئین سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں ان وجوہات کی بنا پر آنے والے دنوں میں بدترین صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔
1۔ امریکہ کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال، اس مرحلے میں مکمل طور پر غیر مستحکم ہے۔ مبصرین اور ماہرین پیشن گوئی کررہے تھے کہ مسقبل قریب میں پیش آنے والے حالات امریکہ میں تشدد اور بدامنی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ آج کے حالات ان حضرات کی پیشن گوئیوں سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ واضح رہے کہ ان مبصرین اور ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل قریب میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، امریکہ میں خانہ جنگی اور قومی اور نسلی قتل عام اور قومی اور نسلی رجحانات کی بنیاد پر لوگوں کو اجتماعی طور پر کوچ کروائے جانے جیسے حالات پیدا ہوسکتے۔ ان لوگوں نے امریکہ میں خانہ جنگی کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
اس حوالے سے، اگر امریکہ کو درپیش خطرات کے تناظر میں امریکی صورت حال کا تجزیہ کرنا چاہیں تو ہم امریکہ کی نازک حالت کا کسی حد تک ادراک کر سکتے ہیں۔ امریکہ درست اسی وقت کورونا وائرس کے بےمثل بحران میں الجھا ہؤا ہے، معاشی حالات ناگفتہ بہ ہیں، بےروزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہؤا ہے، قدرتی آفات نے امریکہ کا راستہ دیکھ لیا ہے اور اندرونی لحاظ سے رقیب سیاسی جماعتوں کے اختلافات نہایت خوفناک صورت حال اختیار کرچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ وجوہات میں سے صرف ایک یا دو وجوہات ہی موجود ہوں تو یہ ملک کو شدید بدامنی اور تشدد سے دوچار کرسکتے ہیں جبکہ اس وقت یہ ساری وجوہات موجود ہیں اور ان وجوہات کے علاوہ امریکہ کو دسوں دوسرے بحرانوں کا بھی سامنا ہے۔ چنانچہ اگلے مہینوں میں امریکہ میں تشدد اور بدامنی کا امکان بہت قوی ہے۔
2۔ دوسری چیز جو آنے والے مہینوں کے دوران امریکہ میں تشدد اور بدامنی کے امکان کو تقویت پہنچاتی ہے وہ اس ملک کے ماضی میں اجتماعی تشدد اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا پس منظر ہے۔ امریکہ میں مقامی امریکیوں (سرخ فاموں) کی نسل کشیوں اور سیاہ فاموں کو اجتماعی طور پر غلامی پر مجبور کرنے کی واضح اور عیاں نمونے ہمارے سامنے ہیں۔ امریکی حکومت نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں بھی وسیع پیمانے پر غیرقانونی مداخلتیں کیں جو نہایت پرتشدد تھیں اور حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف [نام نہاد] لڑائی میں وسیع پیمائے پر تشدد (ٹارچر) کا استعمال کیا ہے۔
ادھر مسٹر ٹرمپ نے بیرونی مہاجرین کے خلاف بھی انتہائی غیر انسانی رویہ اپنایا اور مبصرین کا خیال ہے کہ غیر قانونی پناہ گزینوں کے خلاف غیر قانونی اقدامات اور بچوں کو والدین سے جدا کرنا ـ جو بطور خاص انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے ـ بجائے خود اگلے مہینوں میں تشدد اور لاقانونیت کا سبب ہوسکتا ہے اور بیرونی ممالک کے باشندوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکیوں کے لئے کیمپ قائم کئے ہیں اور ان کیمپوں کو بیگار کیمپوں میں تبدیل کرلیا ہے۔ اور ان مسائل نے مل کر امریکی ماحول کے مستقبل قریب میں تشدد اور بدامنی کے لئے سازگار بنا دیا ہے۔
3۔ تیسرا خطرناک عنصر بھیانک "سیاسی شیطان سازی" (Political Demonization) کا عمل ہے ہے جو دائیں بازو میں جڑیں پکڑے ہوئے ہے؛ جس کو ٹرمپ کی طرف سے غیر سفید امریکیوں - بالخصوص سیاہ فام باشندوں - کے خلاف شدید بدزبانی اور ہتک و توہین سے تقویت ملی ہے۔ ٹرمپ میکسیکن باشندوں کو جنسی جارحین، مسلمانوں کو دہشت گرد اور لاطینی امریکیوں کو جرائم پیشہ اور خطرناک حیوانات جیسے القاب سے نوازتے رہتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس  ہیٹی (Haiti) نیز براعظم افریقہ کے ممالک کو ٹوائلٹ کے کنویں سے تشبیہ دی۔
ٹرمپ نے 2018ع‍ کے کانگریس کے  درمیانی انتخابات کے دوران اپنے حامیوں کو "بیرونی پناہ گزینوں کے حملے" کے بارے میں خبردار کرکے، اکٹھا کیا۔ انھوں نے حالیہ مہینوں بارہا اپنے پیغامات اور بیانات میں زور دیا کہ غیر سفید (سرخ فام اور سیاہ فام نیز ایشیائی) باشندے امریکہ کی قومی سلامتی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور امریکی اقدار کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے مسٹر ٹرمپ امریکہ میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کے لئے ماحول سازی کررہے ہیں۔
اس صورت حال میں، یہ بات ہرگز عجیب نہیں ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ منافرت پر مبنی تشدد کے واقعات اور جرائم ٹرمپ انتظامیہ میں عروج تک پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ جب  سے مسٹر ٹرمپ نے کورونا وائرس کو "چینی وائرس" کا نام دیا ہے، تب سے امریکہ میں ایشیائی نژاد باشندوں پر نسل پرستوں کے حملوں میں زبردست اضافہ ہؤا اور وہ اپنے اس موقف کے ذریعے عملی طور پر امریکہ کے لئے بدامنی کا تحفہ لے کر آئے ہیں۔
4۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں بہت حد تک ملک کے قانونی اداروں کو کمزور کردیا ہے۔ اور قانونی نگرانیوں کی سطح کو بہت نیچے گرا دیا ہے۔ مٹسد ٹرمپ امریکہ میں قوانین اور ضوابط کو آشکارا کھیل تماشا بنائے ہوئے ہیں اور عملی طور پر خودمختار اداروں کو اس ملک میں اپنے ہی دائرہ کار کے اندر لا کر سیاسی بنا دیتے ہیں۔ اس ضمن میں وزارت قانون کو مکمل سیاسی ادارے میں تبدیل کرچکے ہیں جس کو ٹرمپ کے سیاسی رجحانات کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔ بیماریوں سے بچاؤ اور انسداد کے مرکز (Centers for Disease Control and Prevention) کا بھی یہی حال ہے اور اس کو بھی ٹرمپ کی خواہشات کے مطابق عمل کرنا پڑ رہا ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی اہلکار ـ جیسے امریکہ کا اٹارنی جنرل ولیم بار (William Barr) ـ اعلانیہ طور پر مسٹر ٹرمپ کے مفاد کو مدنظر رکھ کر اور اعلانیہ طور پر ٹرمپ اور ان کے قریبیوں کی طرف سے، ملک کے مختلف معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور ٹرمپ کی طرف سے عوام کے خلاف وفاقی افواج کی تعیناتی کو قانونی حیثیت دے دیتے ہیں!" کرتے ہیں ادھر مسٹر ٹرمپ خود بھی معافی کے صدارتی اختیار کو بروئے کار لاکر افسوسناک حد تک مجرم اتحادیوں اور جنگی مجرموں کو، معاف کردیتے ہیں اور یوں مجرموں کو اپنا کام جاری رکھنے کی ترغیب دلاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اندرون یا بیرون ملک غیر قانونی اقدامات میں ملوث اور جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور امریکی صدر کے حامی لوگ ٹرمپ کا رویہ دیکھ کر یہ پیغام وصول کررہے ہیں کہ جو کرنا چاہیں کر لیں، امریکی عدلیہ ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرے گی! اور یوں آنے والے دنوں میں تشدد اور لاقانونیت کے لئے ماحول بنایا جارہا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے جرم و سزا سے اس طرح کا استثنا بدامنی کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، اور وہ اس طرح اپنے مسلج ساتھیوں اور شہروں میں مسلح مارچ کرنے والے حامیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں ان کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہاں تک کہ انھوں نے وسکونسن کے شہر کینوشا کے 17 سالہ نوجوان کی بھی حمایت کردی جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کے دو شرکاء کو گولی مار کر موت کی گھاٹ اتار دیا تھا!
5۔ پانچویں چیز جو اگلے مہینوں میں امریکہ کو وسیع پیمانے پر تشدد اور بدامنیوں سے دوچار کرنے والے وہ اسباب ہیں جو مل کر بد کو بدتر میں تبدیل کرسکتے ہیں۔   
پانچویں چیز ـ جو امریکہ کو اگلے مہینوں میں تشدد اور بلؤوں اور بدامنیوں کا سبب بن سکتی ہے ـ بعض ایسے امور ہیں جو ایک بری صورت حال کو بدتر میں تبدیل کرسکتے ہیں؛ جن میں متنازعہ انتخابات، مسلح گروپوں کی ریلیاں اور دوسرے بڑے اجتماعی احتجاجی مظاہرے شامل ہیں۔ مسٹر ٹرمپ پہلے ہی بار بار انتخابات کی سالمیت اور شفافیت پر سوال اٹھا چکے ہے اور زور دیا ہے کہ اپنا عہدہ نہیں چھوڑیں گے! اور یہ کہ وہ ساتھ عام شہریوں کے خلاف تشدد کی طرف اپنے اشتیاق رکھتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے ـ اور جارج فلائڈ کے قتل کے بعد ـ امریکہ میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے جواب میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر، فوری طور پر، مسلح افواج کو عوام کے خلاف استعمال کیا اور بڑے پیمانے پر پرامن احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ، تو انھوں نے بغاوت ایکٹ پر عمل کرکے فوج کو متحرک کیا۔ چنانچہ اگر انتخابات متنازعہ ہوئے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹرمپ فوجی طاقت کو استعمال کریں گے۔
اس موسم گرمام میں واشنگٹن ڈی سی میں، جہاں وفاقی قانون کا نفاذ مُجاز ہے، فوجیوں کو سنگینیں (bayonets) دی گئی تھیں تاکہ وہ پرامن مظاہرین کو  لفائٹی چوک (Lafayette Square) نکال باہر کریں۔ بلیک لائیو میٹرز (Black Lives Matter) کے عنوان سے منعقدہ ملک گیر مظاہروں کے مقابلے میں ٹرمپ کے ساتھیوں نے بغاوت، شورش، مارشل لا اور فوجی بغاوت جیسے انتباہات پھیلا دیئے اور بوگالو (Boogaloo) اور پراؤڈ بوائز (Proud Boys) جیسے مسلح انتہاپسندوں کو سڑکوں پر لایا گیا۔ مسٹر ٹرمپ اور مسٹر بائیڈن کے پہلے صدارتی مناظرے کے دوران اس قسم کے مسلح انتہاپسند گروپوں کا انکار کردیا اور ساتھ ہی ان گروپوں سے کہا کہ "پیچھے کھڑے رہیں، اور تیار رہیں"۔
6۔ چھٹا سبب ہر وہ چیز ہے جو موجودہ بارود بھرے صندوق جیسی سیاسی فضا میں بےرحمانہ جرائم کی آگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔ بہت سارے ممکنہ منظرنامے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر مسٹر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم نہیں کریں گے اور ان کا یہ اعلان وسیع پیمانے پر احتجاجات اور امکانی طور پر کچھ بلؤوں، ہنگاموں اور فسادات کے اسباب فراہم کرے گا۔ اور یہ صورت حال مسٹر ٹرمپ کے ہاتھ میں ـ بغاوت ایکٹ فعال کرکے امریکی شہریوں کے خلاف -  فوجی طاقت کے استعمال بہانہ دے دیگی۔
بےشک بےچینی اور بدامنی پھیل جائے گی۔ کچھ مظاہرین تشدد کے ساتھ جواب دیں گے اور ان کا یہ جواب امریکی مسلح افواج کو مزید طاقت استعمال کرنے پر آمادہ کرے گا۔ فاکس نیوز اور فیس بک کے اوپر - جو دائیں بازو کے پراپیگنڈے کا ایک اہم آن لائن نشریاتی اوزار ہے اور پہلے ہی نسل کشیوں میں ملوث ہے - رنگین امریکی (Coloreds) باشندوں کی تصویرین نمایاں کرکے دکھائی جائیں گی جو کہ فائرنگ کررہے ہیں!
یہ ایک محرک ہوگا: ٹرمپ اپنے انتہاپسند ساتھیوں کو ان امور کی دعوت دے گا: "تیار رہو" اٹھنے کے لئے، اور کچل دو کالے اور بھورے "مجرموں" اور "انتہاپسندوں" کو اور ان تمام لوگوں کو جنہیں انھوں نے پہلے سے بدنام کرتے رہے ہیں۔ ایک ہمہ گیر نسلی جنگ - وہی جنگ جسے اجتماعی قاتل چارلس مینسن نے 51 سال قبل بھڑکانے کی کوشش کی تھی - اور اب ٹرمپ نے اسے Helter Skelter کا نام دیا ہے - امریکی صدر کے ہاتھوں شروع ہوجائے گی۔
یہ بڑے پیمانے پر جرائم کا ایک ہی ممکنہ منظر ہے، جبکہ دوسرے منظرناموں اور اسباب و عوامل کا اندازہ لگانا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ آج ہر زمانے سے زیادہ، اس طرح کے خطرات کی تشخیص دینا ضروری ہے۔ ہمیں بدترین حالات کا جائزہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ نسل کشیاں امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ہوتی رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا یہ نسل کشی ایک بار پھر بھی امریکہ میں رونما ہوسکتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس کا سد باب کرنا ممکن ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: آلیکس ہنٹن Alex Hinton
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰