اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے منحرف ہو کر بھی شیعہ کہلوانے والے فرقوں نے برطانیہ اور امریکہ کی بلا واسطہ اور بالواسطہ امداد سے تعلیمی، ثقافتی اور تشہیری اداروں کے پیچیدہ جال قائم کر رکھے ہیں اور یہ شیطانی جال ایران، عراق اور پاکستان سے لے کر برطانیہ اور امریکہ متحرک اور فعال ہے۔
اس فرقے نے عراق میں متعدد مدارس علمیہ اور پاکستان میں متعدد مراکز قائم کررکھے ہیں جن کا مقصد ایسے ذاکرین کی تربیت ہے جن کا محور صرف اور صرف عزاداری ہے۔ عراق اور پاکستان کے عوام سیدالشہداء علیہ السلام کے عاشق اور شیدائی ہیں اور اسی عشق سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انگریزی تشیّع ـ عراق میں کربلائے معلی کے مقام پر اور پاکستان میں بھی مختلف شہروں کے اندر ـ لوگوں کے درمیان اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
کربلائے معلی میں "حوزۂ شیخ احمد بن فہد الحلّی" بہت بڑا مدرسہ ہے جس میں چالیس کمرے بنائے گئے ہیں اور مکمل سہولیات کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ اس مدرسے میں دو مراکز بھی ہیں: "مؤسسۃ الرسول الأعظم الثقافیۃ" اور "مرکز الثقافی الإسلامی"۔
اس مدرسے میں "انجمن ہائے حسینیہ"، "مجالس حسینی" اور "تقریبات اور تہواروں کے انعقاد" کے لئے چار خصوصی کمیٹیوں، نیز "کانفرنسوں اور سیمیناروں کے انعقاد" کی خصوصی کمیٹی، کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ نیز شیرازی فرقے سے تعلق رکھنے والے مختلف اداروں میں "14 معصومین خیراتی ادارہ"، "الفرات تحقیقاتی مرکز"، "مؤسسۃ التُقى الثقافيۃ"، عراق کے مختلف علاقوں میں شعبہ جات رکھنے والا "مؤسسۃ رسول الاعظم(ص)"، "عالمی اہل بیت(ع) یونیورسٹی"، خبررساں ادارہ "شیعہ نیوز" بھی قابل ذکر ہیں؛ گوکہ مؤخر الذکر شیعہ نیوز نامی خبر ایجنسی ـ جو ایک ویب گاہ کی صورت میں عربی اور فارسی میں خبریں شائع کرتی ہے ـ کا دعوی ہے کہ اس کا شیرازی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے رجحانات ادارے کے مدیران کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
"موسسۃ الرسول الاکرم (ص)"، "مؤسسۃ الامام الجواد"، "مستشفی سید الشہداء(ع)، "مستوصف ولی اللہ الخیري"، "مؤسسۃ سید الشہداء للقرض"، "مؤسسۃ الزہراء(س)"، "ہیئتِ بیت العباس"، "مدرسۃ الامام رضا(ع)"، "مؤسسۃ الإمام الہادی(ع)"، "شبکۂ الثقافۃ"، "ہیئتِ المحسنیۃ"، "مجمع العسکریین(ع)" اور کئی دوسرے مراکز اور ادارے انگریزی تشیّع سے وابستہ مراکز اور ادارے ہیں جو ایران میں سرگرم عمل ہیں اور اسی فرقے کے عقائد کی پرچار کررہے ہیں۔
پاکستان میں سرگرم بعض انگریزی شیعہ افراد اور ان کے بعض مراکز جن کا قبلہ لندن یا واشنگٹن میں واقع ہے:
شاتم انبیاء غضنفر تونسوی، ابوذر بخاری، قصر بتول لاہور، "مرکز ولایت"؛ کامران ، آصف علوی، مرحوم ضمیر اختر نقوی (مرکز علوم اسلامیہ کراچی فیڈرل بی ایریا)، جعفر جتوئی (خطیب)، اور ان سب کا فائننسر اور اسپانسر لندن میں ناصر جعفری نامی شخص ہے جس کا لندن میں ایکسچینج ہے اور پاکستان کے زیادہ تر انگریزی شیعوں کا مالی سہولت کار ہے۔ اسی شخص اور دوسرے لندن نشینوں کی طرف سے مالی امداد اور دیگر سہولیات وصول کرنے والوں میں آفتاب زیدی (لالو بادشاہ)، سرپرست نوحہ خوان پارٹی انجمن شباب المومنین ـ کراچی، علی رضا شاہ (جانی شاہ)، سربراہ مرکز ولایت علی، امام بارگاہ ولایت امیرالمومنین لاڑکانہ ـ سندھ، باوا علی رضا بادشاہ ولد باوا صدا حسین بخاری سرپرست امامبارگاہ علی شاہ مردان بیگم کوٹ لاہور، سردار ابوذر بخاری، چیئرمین مرکز ولایت علی پاکستان، امامبارگاہ قصر بتول علامہ اقبال ٹاون ـ لاہور، حافظ تصدق حسین (خطیب) لاہور، حافظ مرتضی مہدی ولد حافظ تصدق (خطیب) ـ لاہور، محمد علی حسنین نجفی کھرل، (خطیب) ـ لاہور۔ ان لوگوں کی اکثریت مرجعیت کے خلاف ہے اور یہ اپنے مغربی آقاؤں کی طرح مرجعیت کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں گوکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف انگریزی شیعوں اور شیرازی فرقے کو اپنا مرجع سمجھتے ہیں جبکہ شیرازی مرجعیت کا اصل داعی ایم آئی 6 ہے۔
نکتہ: انگریزی شیعوں اور امریکی سنیوں کے اشتراکات
انگریزی تشیّع اور امریکی تسنّن کے درمیان بہت سارے اشتراکات پائے جاتے ہیں؛ بطور مثال یہ دونوں اسلامی انقلاب اور ولایت فقیہ کے دشمن ہیں؛ فلسطین کے شدید مخالف ہیں اور صہیونی ریاست کے مقاصد کے لئے کام کرتے ہیں؛ قرآن و حدیث سے سطحی اور بلا تجزیہ اپنی مرضی کا مطلب لیتے ہیں اور تفسیر بالرائے کا ارتکاب کرتے ہیں؛ اسلامی مزاحمت کی تمام تنظيموں کے خلاف ہیں اور بہت سے مواقع پر ایک حیسے تشہیری مواد کو بروئے کار لاتے ہیں؛ شیعہ اور سنی علماء کو کافر قرار دیتے ہیں؛ دھوکہ دہی، جھوٹ، فریب اور نفاق سے فائدہ اٹھا کر شیعہ اور سنی عوام کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں؛ بہت شدت کے ساتھ سنی کو سنی اور شیعہ کو شیعہ کے خلاف صف آرا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کے خلاف ہیں کیونکہ شیعہ سنی اتحاد اسلام اور امت اسلامی کے لئے ضروری ہے اور امریکہ اور اس کے حواری کسی صورت میں اتحاد بین المسلمین کو برداشت نہیں کرتے چنانچہ انگریزی شیعہ اور امریکی سنی وہی کچھ کرتے ہيں جو ان کے آقا چاہتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں انگریزی شیعوں اور امریکی سنیوں کی فراوانی ہے؛ انگریزی شیعہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین و بےحرمتی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو شیعہ اتحاد و اتفاق کی بات کرتے ہیں انہیں بھی کافر سمجھتے ہیں اور مرجعیت و ولایت فقیہ کے بھی دشمن ہیں یہی حال امریکی سنیوں کا ہے جو شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں اور ان سنیوں کو بھی جو شیعوں کے ساتھ اتحاد و اتفاق کے قائل ہیں؛ لیکن ان کے آپس میں کبھی بھی تصادم نہیں ہوتا کیونکہ دونوں فریقوں کی تنخواہیں امریکی اور برطانوی سفارتخانوں سے آتی ہیں، اور جس طرح کہ امریکہ اور برطانیہ اسلام کی بیخ کنی کے لئے متحد ہیں ان کے چیلے بھی اسی ہدف تک پہنچنے کے لئے اپنے آقاؤں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
............
۲۴۲