اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی اسٹریٹیجک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سربراہ سید کمال خرازی نے لیڈرز فاونڈیشن فار پیس کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجود دور میں ملٹی پولرازم کی ناکامی کی جڑیں حکومت امریکہ کی تسلط پسندانہ اور اجارادانہ سوچ میں پیوست ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کے دیگر ملکوں پر اپنی سوچ اور پالیسیوں کو زبردستی تھوپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ڈاکٹر کمال خرازی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام کمزور اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا لہذا دنیا میں ایسے" نیو ملٹی پولر سسٹم" کے قیام اور"نیو ورلڈ یونٹی" ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جس میں دنیا کے تمام ملکوں کی آواز سنی جاسکتی ہو۔
اسٹریٹیجک کونسل آن فارن ریلشنز کے سربراہ سید کمال خرازی نے اپنے خطاب میں کورونا وائرس کے موثر انسداد کو عالمی ادارہ صحت کے تحت عالمی تعاون سے مشروط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور بہت سے دیگر ملکوں نے بھی، دنیا بھر میں جاری جھڑپوں کے خاتمے اور ایران جیسے ملکوں کے خلاف پابندیاں ختم کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ ان ملکوں کو کورونا کے مقابلے کے لیے لازمی دواؤں اور میڈیکل آلات کے حصول میں مالی ٹرانزیکشن جیسی بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسٹریٹیجک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سربراہ نے عالمی ادارہ صحت، آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے بین الاقوامی اداروں میں بڑی طاقتوں کی سیاسی مداخلت کا راستہ روکے جانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی بھی عالمی ادارے میں بڑی طاقتیں سیاسی اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کرتی ہیں تو مذکورہ ادارے سے دنیا بھر کے ملکوں کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔
لیڈرز فاؤنڈیشن فار پیس کی تیسری سالانہ کانفرنس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوئی جس میں سینتس موجودہ اور سابق وزرائے خارجہ سمیت دنیا کے اعلی سیاسی رہنماؤں اور شخصیات نے حصہ لیا اور کورونا، ملٹی پولرازم اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔