2 مارچ 2020 - 19:14
بین الاقوامی مسلم پروفیسرز اسمبلی نے کی ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات ایسے حال میں رونما ہوئے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان گزشتہ کئی مہینوں سے شہریت کے حوالے سے بنائے گئے نئے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، اور حکومت ہند بجائے اس کے کہ ان کے مطالبات سنے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر ان کی زندگیوں کو ان سے چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان میں ہوئے مسلمانوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی مسلم پروفیسرز اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں ہندوستان میں ۴۳ مسلمان انتہا پسند ہندؤوں کی جانب سے لگائی گئی آگ میں جھلس گئے جبکہ متعدد مساجد اور گھروں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات ایسے حال میں رونما ہوئے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان گزشتہ کئی مہینوں سے شہریت کے حوالے سے بنائے گئے نئے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، اور حکومت ہند بجائے اس کے کہ ان کے مطالبات سنے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر ان کی زندگیوں کو ان سے چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔
بین الاقوامی مسلم پروفیسرز اسمبلی نے اس قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے اور ملک کی پرامن فضا کو باقی رکھنے کی کوشش کرے نیز اسمبلی نے عالمی اداروں سے اس طرح کے اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲