اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی میں متنازع شہریت ترمیم قانون کیخلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے متنازع قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
متنازع شہریت ترمیم قانون کیخلاف قرارداد منظور کرنے والی مغربی بنگال چوتھی اسمبلی بن گئی ہے اس سے قبل راجھستان، کیرالہ اور پنجاب اسمبلیوں نے بھی اس قانون کو مسترد کردیا تھا۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری حکومت مذہبی منافرت پر مشتمل ایسے کسی بھی قانون پر عملدرآمد نہیں کرے گی جس سےہندوستان کا سیکولر چہرہ داغدار ہوتا ہو۔ متنازع شہریت ترمیمی قانون انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی بھی ہے۔
واضح رہے کہ نریندرمودی حکومت کی جانب سے منظور کردہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت 31 دسمبر 2014 سے پہلے ہندوستان جانے والے بنگلا دیش، افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھوں کو انڈین شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے تاہم مسلمانوں کو اس سےمحروم رکھا گیا ہے۔
/129
28 جنوری 2020 - 05:10
News ID: 1006049
ہندوستان میں جہاں بڑے پیمانے پر شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج اورر دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں اس ملک کی ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی نے بھی مودی سرکار کے متنازع شہریت ترمیمی قانون کیخلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔