اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے ڈسپیوٹ میکینزم کو فعال بنانے کا موضوع ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے کے بعد پیش کیا تھا۔جواد ظریف نے مزید کہا کہ ایران نے دس مئی ، چھبیس اگست اور نومبر دوہزار اٹھارہ میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کو تین خط لکھے اور اس میں انھیں بتایا کہ ایران نے ڈسپیوٹ میکانیزم شروع کردیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نومبر میں لکھے جانے والے خط کے بعد یورپی یونین کو سات مہینے کا وقت دیا اور مئی دوہزار انیس میں ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی کا آغاز کر دیا جس کے دومہینے بعد اس کے عملی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔جواد ظریف نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران نے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی کے لئے پانچ قدم اٹھائے ہیں اور اب وعدوں پر عمل درآمد میں کمی لانے کے لئے مزید قدم اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تاہم اگر یورپی اپنا سیاسی کھیل جاری رکھیں گے تو اسلامی جمہوریہ کے پاس بھی مختلف آپشن موجود ہیں۔
/129
21 جنوری 2020 - 05:07
News ID: 1004100
ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ اگر ایران کا ایٹمی معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تو تہران بھی این پی ٹی سے باہر نکلنے پر غور کرے گا