7 جنوری 2014 - 20:30
ماسکو مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا/ دہشت گرد آل سعود نے پالے ہیں

عرب تجزیہ نگار نے روس کے فیڈرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا: ولگا گراد میں ہونے والے دھماکے سعودی سرپرستی میں ہوئے ہیں جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے نے دہشت گردوں کو دھمکی دی اور اپنی قوم کو مشرق وسطی کا نقشہ بدل کر رکھنے کا وعدہ دیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سیاسی امور کے ماہر و تجزیہ نگار "احمد الشرقاوی" نے "پانوراما الشرق الاوسط" نامی ویب سائٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا: روس کے فیڈرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر "الیکزینڈر بورتینگوف" نے گذشتہ ہفتے ولگا گراد میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں اپنی آخری رپورٹ صدر ولادیمیر پیوٹن کو پیش کی۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ولگا گراد میں ہونے والے دو میں سے ایک دھماکہ شام کے خلاف برسر پیکار ایک دہشت گرد تنظیم کے سرغنے نے کرایا تھا جبکہ اس کے ماتحت تنظیم کو سعودی عرب کی حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔ الیکزینڈر بورتینگوف کے مطابق روس میں ہونے والے دھماکوں کے منصوبہ ساز نیز یہ دھماکے کرنے والے افراد وہی لوگ ہیں جو شام اور عراق میں دہشت گردانہ کاروائیاں کررہے ہیں۔ اس رپورٹ میں سعودی عرب کا نام لئے بغیر ضمنی طور پر اس ملک کو روس میں ہونے والے دھماکوں کا عامل قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سے روسی صدر نے بھی دہشت گردوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: میں جرائم پیش دہشت گردوں کو زیادہ دیر تک مہلت نہيں دوں گا اور ہمارا جواب عنقریب مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا۔ یہ روس کے فرزندوں کے لئے میرا وعدہ ہے۔ پیوٹن کا موقف بہت خطرناک ہے اور اس میں تفسیر و وضاحت کی کوئی گنجايش نہیں ہے۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخمی ریچھ نے بالآخر بھاری وار کرنے کا فیصلہ کرہی لیا۔ یہ وار صرف انتقام ہی کے لئے نہيں ہے بلکہ اس کا مقصد دہشت گردی کی جڑیں سکھانا اور مشرق وسطی کا نقشہ بدلنا ہے۔ روسی صدر کے موقف کے معنی یہ ہیں کہ سعودی عرب، قطر، اردن اور سعودی عرب سمیت دہشت گردی کے حامی ممالک کو بہ جلد موت کے فرشتے کے دیدار کے لئے تیاری کرلینی چاہئے۔ امریکہ، فرانس اور دوسرے ممالک بھی ان کی مدد نہیں کرسکیں گے کیونکہ پیوٹن ہر اس ملک کو دہشت گردی میں ملوث قرار دے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حائل ہونا چاہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کون ہے جو روسی قیصر کو اپنی قوم کو دیا ہوا وعدہ نظر انداز کرنے پر آمادہ کرے؟ ماسکو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے جنیوا کانفرنس 2 کے نتائج کا انتظار نہيں کرے گا بلکہ 11 ستمبر 2001 کے دھماکوں کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 پر عمل کرے گا۔ اس قرارداد کے تحت "جو بھی ملک دہشت گردی کی مالی یا عسکری حمایت کرے اور دہشت گردوں کو گلے لگائے، یا انہیں اپنی سرحدوں سے آمد و رفت کی اجازت دےدے، وہ اس ملک کی حیثیت سے پہچانا جائے گا جس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکہ نے اسی قانون کے تحت ـ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی غرض سے ـ افغانستان اور عراق پر حملہ کیا اور ابھی تک پاکستان اور یمن میں اپنے ڈرونز کے ذریعے حملے کررہا ہے۔ کیا جس چیز کو امریکہ (دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں) اپنا حق سمجھتا ہے، وہ دوسروں کا حق نہیں ہوسکتا؟ ایران، روس، عراق، شام اور حزب اللہ لبنان کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں جنیوا کانفرنس 2 کی طرف سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان ممالک نے عرصہ دراز سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے، بلکہ نئی اور اہم بات یہ ہے کہ اسلامی مزاحمت محاذ کے رکن ممالک اور روس کے درمیان اتحاد ہوگیا ہے اور اس اتحاد کا مقصد بےامان جنگ کا آغاز ہے۔ اس جنگ کا نشانہ سعودی عرب، قطر اور اردن ہیں ـ اور ترکی کو نیٹو کا رکن ملک ہونے کے ناطے اس جنگ سے استثاء حاصل ہے ـ گوکہ ترکی کو بھی اپنے رویے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔۔۔ چنانچہ ہمیں اب تکفیریوں کے حامیوں کو سزا دینے اور مشرق وسطی کا نقشہ بدلنے کے لئے ایران، روس، عراق اور شام کے مشترکہ موقف کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے فطری عمل سے گذرے گی اور اس کے لئے نئے بحث مباحثوں یا جنیوا 2 یا جنیوا 17 کی طرف سے نئے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ عراق اور شام نے اپنی مشترکہ سرحدوں کے قریب تکفیریوں کے خلاف بڑی کاروائیاں کیں اور ان ہی کاروائیوں کی وجہ سے شامی افواج نے دیر الزور اور دوسرے علاقوں میں بہت اہم اور بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق عراقی اور شامی حکومتوں کی یہ کاروائیاں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان انٹیلجنس تعاون کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہیں۔ اس صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی خواہش کے مطابق عراق اور شام کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے حوالے سے شرطیں لگانے والے اپنی شرطیں ہارگئے ہیں اور یہ سعودی منظرنامہ فلاپ ہوچکا ہے اور یہی حقیقت بذات خود ثابت کرتی ہے کہ اردن کی بادشاہی نظام کی عمر بہت مختصر ہوگی اور شاید سعودی نظام کو بھی بہت جلد اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ ہی مشرق وسطی کا نقشہ بدلنے کے حوالے سے صدر ولادیمیر پیوٹن کے وعدے کے معنی؛ اور یہ جنگ اور یہ تبدیلی سیکورٹی، انٹیلجنس اور عسکری شعبوں میں ـ میدان جنگ میں سرگرم عمل ـ مزاحمت محاذ کے رکن ممالک کے حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان قریبی تعاون کے نتیجے میں انجام کو پہنچے گی۔۔۔ وہ گروہ جو متحد ہوکر کاروائی کریں گے ۔۔۔ چنانچہ ہمیں کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا تاکہ اس کے نتائج کا اپنی انکھوں سے مشاہدہ کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

پیوٹن کی دھمکی:

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے

پیوٹن: رہبر معظم کا کردار جوہری مفاہمت میں مؤثر رہا/ روحانی: دہشتگردی کےخلاف جنگ میں تعاون کریں گے