اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا کہ ترکی شام کے بحران میں نہایت تخریبکارانہ کردار ادا کررہا ہے اور دنیا کے 83 ممالک سے آنے والے دہشت گردوں کو شام میں داخلے کی سہولت دے چکا ہے اور دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جنیوا 2 کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تاکید کرتے ہیں لہذ اس کے لئے مناسب انتظامات کا ہونا ضروری ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر عمل ـ حتی کہ جنیوا کانفرنس 2 ـ سے قبل اصولی طور پر دہشت گردی اور تشدد کے خاتمے کو ایجنڈے میں شامل کرلینا چاہئے۔ انھوں نے شام کے بارے میں امریکی وزير خارجہ کے حالیہ موقف کے بارے میں کہا: امریکہ شام میں منافقت اور گمراہ کرنے والے محاذ کی قیادت کررہا ہے اور اس محاذ کی سازشیں بدستور جاری ہیں اور ہم بھی انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی استقامت اور پامردی کو جاری رکھیں گے اور میدان جنگ ميں شامی افواج کی فتوحات اور حصول یابیاں اس جنگ کے انجام کا تعین کریں گی۔ انھوں نے کہا: دہشت گردوں کے حامی ممالک فرانس اور امریکہ سمیت مغربی ممالک ہیں اور خطے میں بھی ترکی نیز سعودی عرب سمیت بعض عرب حکمران دہشت گردوں کی مدد و حمایت کررہے ہیں۔ مقداد نے کہا: شامی عوام ان ممالک کو اپنے ملک کی تباہی اور اپنی قوم کے خلاف ہونے والے جرائم کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: امریکہ، سعودی عرب، فرانس اور ترکی شامی شہریوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کے بجائے شامی عوام کے قاتل دہشت گردوں کو امداد فراہم کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
سعودالفیصل جان کیری سے: ایران نے شام پر قبضہ کرلیا ہے
شام کا انتباہ؛ دباؤ کی صورت میں جنیوا 2 میں شرکت نہیں کریں گے