اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ہیومین رائٹس واچ نے دہشت گرد ٹولوں کے جرائم فاش کرتے ہوئے مسلح دہشت گردوں کے ہاتھوں علوی خاندانوں کے تمام افراد کے قتل عام کا انکشاف کیا ہے۔ ہیومین رائٹس واچ نے جمعہ (11 اکتوبر 2013 کو) ایک بیان جاری کرکے انکشاف کیا ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے علوی نشین دیہاتوں ميں 190 شامی باشندوں کا قتل عام کیا ہے جن میں سے 67 وہ تھے جن کو پکڑ کر پھانسی دی گئی جبکہ ان دیہاتوں کے 200 باشندے اب تک لاپتہ ہیں۔ یہ واقعہ اگست کے پہلے ہفتے میں پیش آيا ہے۔ ان افراد میں سے 67 خواتین اور 18 بچے ہیں جن کے نام ہیومین رائٹس واچ کی رپورٹ میں درج کئے گئے ہیں۔ ہیومین رائٹس واچ نے 105 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اپنی تحقیقات اور نجات پانے والے 35 افراد کے ساتھ مکالمات درج کئے ہیں۔ یہ دہشت گرد ٹولوں نے یہ حملہ صوبہ لاذقیہ کے 10 علوی نشین دیہاتوں پر انجام دیا تھا۔ لاذقیہ صدر ڈاکٹر بشار الاسد کا آبائی صوبہ ہے۔ ان بےگناہ مقتولین میں سے 67 افراد ـ جو غیر مسلح تھے اور کسی قسم کی مسلح جدوجہد میں شریک نہيں تھے اور حملہ آوروں کے لئے بھی خطرہ تصور نہیں ہوتے تھے ـ کو فرار ہوتے ہوئے پکڑ لیا اور انہيں پھانسی دی۔ ایچ آر ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان 10 دیہاتوں پر حملے میں 20 دہشت گرد دستوں نے شرکت کی تھی اور سرکاری افواج نے 18 اگست کو حملہ کرکے ان دیہاتوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا لیا۔ ہیومین رائٹس واچ نے واضح کیا کہ القاعدہ سے وابستہ "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش)" اور "جبہۃالنصرہ" نیز "جیش المہاجرین والانصار"، "انصار الشام" اور "صقور العز" وہ پانچ تنظیمیں ہیں جنہوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور 4 اگست کو اسے عملی جامہ پہنایا۔ ہیومین رائٹس واچ نے کہا ہے کہ داعش اور جیش المہاجرین و الانصار نے ابھی تک 200 شامی باشندوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ ہیومین رائٹس واچ نے کہا ہے کہ دہشت گرد ٹولوں نے اپنا حملہ عید الفطر کے دن (مورخہ 4 اگست 2013) کو شروع کیا اور اس علاقے کی حفاظت پر مامور بعض فوجی چوکیوں کا کنٹرول حاصل کیا اور اس کے بعد 10 علوی نشین دیہاتوں پر ہلہ بول دیا جن میں بارودہ، نبیطہ، بلوتہ اور ابومکیہ نامی دیہات شامل ہیں۔ ان دیہاتوں کے بجنے والے افراد نے ہیومین رائٹس کو بتایا کہ ان مسلح دہشت گردوں نے درجنوں افراد کو ـ جو غیر مسلح تھے اور فرار ہورہے تھے ـ پکڑ کر پھانسی دی اور بعض خاندانوں کے تمام افراد کو گولی مار کر قتل کیا یا پھانسی دی۔ ہیومین رائٹس واچ کے ڈائریکٹر جو اسٹارک (joe stork) نے الشرق الاوسط کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: یہ جارحانہ کاروائی علوی دیہاتوں پر منصوبہ بندی شدہ کاروائی تھی اور اس طرح کے اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
........................
/٭۔٭