اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سابق آراکان اور موجودہ راکھین یا راخین کے مسلمانوں کا قتل درندگی کا پست ترین اور وسیع ترین نمونہ ہے عصر مواصلات اور نام نہاد انسانی تمدن کے عروج کے اس دور میں؛ طالبان اور القاعدہ اور وہابیت سے وابستہ ٹولوں نے اب تک جو کچھ پاکستان، افغانستان، عراق، شام، سعودی عرب، یمن اور بعض افریقی ممالک میں کیا یا جو امریکیوں اور برطانویوں نے عراق و افغانستان اور بعض افریقی ممالک میں کیا یا پھر جو کچھ وہاییت کے حلیف یہودی صہیونیوں نے فلسطین وار لبنان میں کیا وہ سب بظاہر پرامن بودھوں کے ہاتھوں برما میں ہونے والی انسانیت کشی سے کم ہی نظر آتا ہے۔ شاید پرتگیزوں، ولندیزوں، انگریزوں اور ہسپانویں نے جو کچھ امریکہ کے اصل باشندوں کے دو یا تین صدی قبل کیا آج وہی کچھ اس نام نہاد مہذب دنیا اور مہذب زمانے میں تمدن و تہذیب کے دعویداروں کی آنکھوں کے سامنے برما میں ہورہا ہے۔ جو کچھ برما میں ہورہا ہے اس کا طالبان اور القاعدہ یا بلیک واٹر یا صہیونی اور وہابی بھی شاید تصور نہیں کرسکیں گے۔بہرصورت راقم اور قارئین کم از کم اس طرح کے جرائم کا تصور تک نہیں کرسکتے چنانچہ ہمیں یہ حقائق دیکھ کر اس موضوع سے آگہی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؛ ہولناکیوں کے اس دور میں مسلمانان برما کے ساتھ ہولناک ترین رویہ اپنایا گیا ہے لیکن پتہ نہیں کہ کیا واقعی آج کی دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب ہے؟ کیا وہ جو اپنے آپ کو برحق سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نہ صرف باطل سمجھتے ہیں بلکہ انہیں واجب القتل قرار دیتے ہيں اور پھر ان کو قتل بھی کرتے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ وہ حکمران جو چیچنیا میں القاعدہ اور آذربائی جان میں صہیونی نواز حکومت کی حمایت کو اسلام کی حمایت سمجھ رہی تھیں اور ازبکستان و دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں میں شدت پسندی پر سرمایہ لگا رہی تھیں، کہاں ہیں اور ان کا موقف ہے؟ کیا انہیں امریکیوں کی خدمت سے فرصت ہے کہ مسلمانوں کی کسمپرسی دور کرنے کے بارے میں ـ زبانی جمع خرچ ہی سہی ـ موقف اختیار کریں؟ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ۔ (سورہ حج آیت 40)ترجمہ: (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بے شک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے۔ویسے تو برما کے مسلمانوں کو گذشتہ دو برسوں سے تعرض اور جارحیت کا سامنا ہے لیکن ان کے خلاف نئے جرائم کا آغاز جون 2012 کے ابتدائی دنوں سے ہوا ہے اور ہم یہاں تاریخ وار بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:1- نومسلم خاتون کو بودھوں نے اغوا کرکے قتل کیا اور پھر مسلمانوں پر الزام لگایا کہ مسلمانوں نے اس خاتون کو اغوار اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین جون کو بودھوں نے ـ گلگت اور چلاس میں اہل تشیع کی گاڑیوں کو روک کر مسافرین کو اتار کر قتل کرنے کی طرز پر ـ ایک بس کو روکا اور اس میں سے "تبلیغی جماعت" کے 10 اراکین کو اتار کر بے دردی سے قتل کیا اور بعض دیہاتوں پر مسلحانہ حملے ہوئے۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے مسلمان مبلغین کو ذبح کیا اور پھر ان کے سر اور داڑھی کے بال مونڈھ لئے اور ان پر بدھ بھکشؤوں کے نارنجی کپڑے پہنائے گئے اور کہا گیا ہے کہ یہ لوگ بدھ بھکشو ہیں جن کو مسلمانوں نے بے دردی سے ذبح کیا ہے اور یوں بودھوں کو مشتعل کیا گیا۔ 2۔ فوج اور بعض سرکاری حلقوں نے دہشت گردوں کو مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس کیا اور ساتھ ہی سرکاری اعلان کے مطابق مسلمانوں کے لئے چاقو تک رکھنا بھی ممنوع اور قابل سزا جرم قرار دیا۔ 3۔ بائسک نامی گاؤں کے گھروں کو باہر سے بند کیا گیا اور پھر انہیں آگ لگا دی گئی جس کی وجہ سے آٹھ سو افراد شہید ہوئے جن میں سے 500 افراد جل کر شہید ہوئے۔ 4۔ زگانگ مولی نامی گاؤں اور اس کی مساجد اور مقدس مقامات کو منہدم اور نذر آتش کیا گیا؛ گھروں کو لوٹ لیا گیا اور اس گاؤں کے 400 افراد کا قتل عام کیا گیا۔ 5۔ فلاتانگ نامی گاؤں کا آدھا حصہ نذر آتش کیا گیا اور اس کی مساجد اور اسکولوں کو بھی جلا دیا گیا۔ 6۔ نذیروارا نامی گاؤں کا دو تہائی حصہ جلایا گیا۔ یہ مرکزی گاؤں ہے جو اگر کسی اور ملک میں ہوتا تو شہر کا درجہ پاتا۔ اس گاؤں کے اٹھارہ محلے ہيں اور بودھوں نیز برمی افواج نے 3600 مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ 7۔ ہزیمہ فارا نامی گاؤں کو نذر آتش کیا گیا اور 850 افراد کو قتل کرکے آگ میں جلادیا گیا۔ اس حملے میں 50 مسلمان لاپتہ ہوگئے۔ 8۔ والیس وارا، فوران وارا اور سان تولی نامی دیہاتوں کو نذرآتش کیا گیا اور 700 افراد کو قتل کیا گیا جبکہ سینکڑوں مکانات کو تباہ کیا گیا۔ 9۔ شانگری لین، باؤسورا، کادین روا، دیاتی زو، شوی بیا، کودو بانگا، روئاکوم وارا، ہادی خولا، سامان غارا، خانان شانگ، دیروم وارا، سیدا سومونی، مولوی فارا، میوتوجی، لیسی اور تمبوئے نامی دیہاتوں کو نذر آتش کیا گیا اور ان دیہاتوں کے ہزاروں باشندوں کو زندہ جلادیا گیا اور گھروں اور مساجد کو منہدم کیا گیا۔ 10۔ 25 جون کو 700 مسلمان کوئی دلیل بتائے بغیر گرفتار کرکے نامعلوم مقامات کی طرف منتقل کئے گئے۔11۔ 22 مسلم دیہاتوں پر بودھوں کا قبضہ ہوا جبکہ بودھوں کو برمی فوج اور سیکورٹی فورسز کی حمایت حاصل تھی۔ ان میں سے اٹھارہ دیہاتوں کو نیست و نابود کیا گیا اور 9000 مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور لوگوں کو جلے ہوئے گھروں میں لوٹنے سے روکنے کے لئے ان دیہاتوں کے گرد خاردار تاریں بچھا دی گئیں۔12۔ سانشی فارا، ئافوک، رامری، ليسون کوک، سيگاگانگ نامی دیہاتوں کو نذر آتش کی گیا، گھروں اور مسجد اور مدرسے کو ویران کیا گیا اور سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 13۔ فتری کیلا کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک مقبرے کو منہدی کیا گیا اور مورو نامی گاؤں کو نذر آتش کیا گیا۔ 14۔ ليسي، تامبوئے، سامیلا، زادی وارنگ، بوسی دانگ، لاوا دانگ اور علی اکبر وارا نامی گاؤں منہدی کئے گئے اور ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ مسجد اور مدرسے کو بھی منہدم کیا گیا۔ 15۔ بوسی دانگ گاؤں کے واقعات، مسلمانوں کے لئے کرفیو کا نفاذ اور انہیں ضرورت کی اشیاء خریدنے تک سے روکا گیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں میں مسلمان بھوکوں مرگئے اور ساتھ ہی بودھوں کے حملے جاری رہے۔ 16۔ مسلمان نشین دیہاتوں کے سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ 17۔ کئی مشائخ اور علماء کو قتل کیا گیا اور قانون کے متعدد طالبعلموں کا سر قلم کیا گیا۔ 18۔ هاجا وارا، ميامانکیا اور ئانتی وارا نامی دیہاتوں کو نذر آتش کیا گیا، سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور گھروں اور مسجد کو منہدم کیا گیا۔ 19۔ مانگدو شہر کی جامع مسجد کی دیوار گرا دی گغی اور خاندار وارا، باکونا اور خدیر بیل نامی دیہاتوں کی مساجد کو شہید کیا گیا۔ 20۔ 14 جون 2012 بروز جمعرات سیکورٹی فورسز نے "پندرہ مسلم لڑکیوں" کو حراست میں لیا اور انہیں خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق ان لڑکیوں کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں ہے۔21۔ ئارشووارا کے دہہاتوں میں مسلمان لڑکیوں کی سر عام بے حرمتی کی گئی اور ان کے سینے کاٹ دیئے گئے اور متعدد لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ 22۔ شہر گانگ کی مسجدوں میں نماز باجماعت ممنوع قرار دی گئی (15 جون 2012)23۔ ، کونا وارا، لامبا کونا، کيلائے دونگ، خایندا وارا اور میراللہ نامی دیہاتوں کو نذر آتش کیا گیا اور سینکڑوں مسلمانوں کو قتل اور گرفتار کیا گیا۔ 24۔ میورٹک نامی گاؤں کے گھروں اور مسجد کو نذر آتش اور منہدم کیا گیا۔ اس گاؤں میں نصب کتبے بھی منہدم کیا گیا۔ 25۔ بوشووارا نامی گاؤں میں عبداللہ اور سعید حسین نامی مشہور مسلمان راہنماؤں کو شہید کیا گیا۔ 26۔ ہاتھی بازار خایانری وارا نامی دیہاتوں میں 10 افراد کو قتل اور منگلہ نامی گاؤں کی مسجد کو شہید کیا گیا۔ 27۔ حبیب الرحمن، ماسٹر ولی محمد، محمد یونس اور عبدالحکیم نامی مسلم علماء کو یودانگ نامی گاؤں میں کلہاڑیوں سے قتل کیا گیا۔ 28۔ بودھوں کی مکارانہ چال، مسلمانوں کو قربان کرنا، ان کے سر جدا کرکے سڑکوں پر پھینکنا، لاشوں کو بھکشؤوں کا لباس پہنانا اور افواہ اڑانا کہ یہ بودھ بھکشو ہیں جن کو مسلمانوں نے قتل کیا ہے۔ 29۔ رائے عام کو فریب دینے کے لئے مسلمانوں کو وحشی اور خونخوار متعارف کرایا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشدد کی تصاویر نشر کرکے کہا جاتا ہے کہ یہ ہیں مسلمانوں کے کارنامے۔ 30۔ مسلمانوں کے نامی گرامی قائدین کو گرفتار کرکے انہيں خفیہ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے۔ 31۔ گھروں پر حملے، لوٹ مار اور مردوں کو گرفتار کرکے عورتوں کی عصمت دری، بودھوں کا معمول بن چکی ہے۔32۔ آراکان کے علاقے میں باقی ماندہ مساجد کو سرکاری فورسز کے توسط سے بند کیا گیا ہے۔33۔ بارہ میل نامی علاقے میں ایک نیا اور تنگ و تاریک جیلخانہ تیار کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو رکھا جاتا ہے اور وحشیانہ انداز سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 34۔ مسلمانوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنی مویشیاں اور کھانے پینے کے وسائل اور اشیاء خورد و نوش فوج اور پولیس کے حوالے کریں اور اس کے بعد انہيں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا جاتا ہے اور پاکدامن عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ 35۔ سائندا وارا نامی گاؤں کو گھیرے میں لیا گیا اور مسلمان خوفزدہ ہوکر بھاگنے لگے تو ان کا قتل عام کیا گیا۔ 36۔ متاثرین میں سے بعض نے بنگلہ دیش میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش ناکام رہی اور بنگلہ دیش کی زمینی اور آبی سرحدوں کو بند کیا گیا۔ 37۔ 170 مسلمان مورخہ 21 جون 2012 کو برما سے بھاگنے اور بنگلہ دیش پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو بنگالی فورسز نے انہيں برمی افواج کے حوالے کیا اور ان سب کو اسی دن پھانسی دی گئی۔ 38۔ جن شہروں میں اس سے پہلے کبھی تشدد آمیز کاروائیاں نہيں ہوئی تھیں ان میں مساجد پر سنگباری کی گئی۔ آٹھ سے اٹھائیس جون 2012 تک ہزاروں مسلمان شہید، زخمی، لاپتہ اور مہاجر ہوگئے۔ماہ شعبان المعظم میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم39۔ کثیر تعداد میں مسلمان کوہ و دشت کی طرف بھاگ گئے اور ان میں اکثر افراد بھوک، پیاس، شدید بارشوں اور موذی حیوانات و حشرات کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔40۔ جیلیں قیدیوں سے بھر گئیں تو 900 قیدیوں کو برہنہ کیا گیا اور ان سے پل کا کام لیا گیا اور جن قیدیوں نے بدھ دہشت گردوں ا
17 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 329831
ترجمہ: (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بے شک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے۔ (القرآن