10 اپریل 2012 - 19:30

مادی اور روحانی مشکلات کے خاتمے کی غرض سے بارگاہ بارگاہ اولیاء اللہ سے توسل کا مسئلہ وہابیوں اور دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ اہم اختلافی مسئلہ ہے۔ وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے خدا سے توسل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اولیاء اللہ سے توسل جائز نہیں ہے۔

10

اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل

توسل قرآن مجید اور عقل کے آئینے میں

مادی اور روحانی مشکلات کے خاتمے کی غرض سے بارگاہ بارگاہ اولیاء اللہ سے توسل کا مسئلہ وہابیوں اور دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ اہم اختلافی مسئلہ ہے۔ وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے خدا سے توسل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اولیاء اللہ سے توسل جائز نہیں ہے۔

وہابی توسل کو شرک سمجھتے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر مسلمان اولیاء اللہ سے توسل کو جائز سمجھتے ہیں جس کی تشریح آئے گی۔

وہابیوں کا وہم یہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات توسل کو کو شرک میں شمار کرتے ہیں۔

خداوند متعال سورہ زمر میں ارشاد فرماتا ہے:

"مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى"۔ (1)

ترجمہ: ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ہیں مگر اس لیے کہ ہم کو اللہ سے قریب کردیں۔

یہ آیت کریمہ فرشتوں کی طرح کے معبودوں کے بارے میں ہے اور دور جاہلیت کے مشرکین کا کہنا تھا کہ ہم ان کی پرستش کرتے ہیں تا کہ وہ ہمیں خدا کے قریب کردیں اور قرآ ان کی بات کو شرک قرار دیتا ہے۔

سورہ جن میں ارشاد ربانی ہے:

"فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا"۔ (2)

ترجمہ: خدا کے ساتھ دوسرے کسی کو مت بلاؤ (اللہ کے سوا کسی کو خدا مت کہو)۔

اور اللہ تعالی نے سورہ رعد میں ارشاد فرمایا ہے:

"وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لاَ يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ" (3)

ترجمہ: وہ لوگ جو اس (اللہ) کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے وہ ان کی صدا پر ذرا بھی لبیک نہیں کہتے۔

وہابیوں کا وہم و پندار یہ ہے کہ یہ آیات اولیاء اللہ سے توسل کی نفی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے نزدیک ایک بحث اور بھی چلتی ہے کہ فرض کریں کہ حیات نبی (ص) کے دوران آپ (ص) سے توسل جائز بھی ہو، وصال کے بعد آپ (ص) سے توسل کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

یہ تھا وہابی دعؤوں کا خلاصہ

مگر افسوس کہ ان ہی بے بنیاد اور بے سند دعؤوں کی بنیاد پر وہابیوں نے بہت سے مسلمانوں پر شرک اور کفر کا بہتان تراشا، ان کی جان اور مال کو مباح قرار دیا، خون کی ہولیاں کھیلی گئیں اور لوگوں کے اموال لوٹ لئے گئے۔

اب جبکہ ہم ان کا اعتقاد جان گئے، بہتر ہے کہ اصلی ملے کی جانب لوٹ جائیں ور توسل کے مسئلے کا اصولی حل پیش کریں۔

پہلے ہم لغت، قرآنی آیات اور روایات و احادیث کو مدنظر رکھ کر توسل کے معانی اور مفاہیم پر روشنی ڈالتے ہیں:

"توسل" لغت میں وسیلے کا انتخاب ہے اور وسیلہ اس چیز کا نام ہے جو انسان کو کسی اور سے قریب تر کردے۔

لسان العرب کی تعریف:

"لسان العرب" ـ جو لغت کی مشہور کتاب ہے ـ میں مذکور ہے کہ:

"وصَّلَ إلى الله وسيلةً إذا عَمِل عملا تقرّب به إليه و الوسيلة ما يتقرّب به إلى الغير"۔

ترجمہ: خدا سے توسل اور (خدا سے تعلق بنانے کے لئے) وسیلے کا انتخاب یہ ہے کہ انسان ایسا عمل انجام دے جو اسے خدا سے قریب کرے؛ اور وسیلہ سے مراد ہو شیئے ہے جس کے توسط سے کسی اور چیز (یا شخص) ی قربت حاصل کی جاتی ہے۔

مصباح اللغۃ کی تعریف:

"مصباح اللغۃ" میں ہے کہ:

"الوسيلة ما يتقرّب به إلى الشىء و الجمع الوسائل"۔

ترجمہ: وسیلہ وہ چیز ہے جس کے توسط سے انسان کسی اور چیز یا شخص کی قربت حاصل کرتا ہے اور اس کی جمع "وسائل" ہے۔

مقاييس اللغۃ کی تعریف

"مقاييس اللغۃ" میں ہے:

 "الوسيلة الرغبة و الطلب".

ترجمہ: وسیلہ رغبت اور طلب کا نام ہے۔

چنانچہ وسیلہ "حصول قرب" بھی ہے اور اس چیز کے معنی میں آیا ہے جس سے کسی اور کی قربت حاصل کی جاتی ہے اور اس کا مفہوم وسیع ہے۔

ایک بار پھر آیات قرآنی کی طرف لوٹتے ہیں:

قرآن مجید میں لفظ "وسیلہ" دو آیتوں میں استعمال ہوا ہے۔

پہلی آیت سورہ مائدہ کی آیت 35 ہے جہاں ارشاد باری ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"

ترجمہ: اے ایمان لانے والو! اللہ کے غضب سے بچو اور اس کے یہاں پہنچنے کے لیے ذریعہ (وسیلہ) تلاش کرو (یا وسیلے کے انتخاب کرو) اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تم فلاح اور کامیابی حاصل کرلو۔

ان تینون "تقوی، توسل اور جہاد" کا نتیجہ وہی ہے جو آیت کے آخر میں آیا ہے: "لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"، یعنی یہ تمہاری فلاح اور کامیابی کا باعث ہیں۔

دوسری آیت ـ جس میں وسیلے کا لفظ بروئے کار لایا گیا ہے ـ سورہ اسراء (یا سورہ بنی اسرائیل) کی آیت 57 ہے۔ آیت 57 کو بہتر سمجھنے کے لئے آیت 56 کی طرف رجوع کرتے ہیں جہاں ارشاد ہوتا ہے:

"قُلِ ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلاَ يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلاَ تَحْوِيلاً"۔

ترجمہ: کہئے کہ (مدد کے لئے) بلاؤ انہیں جن کو تم اللہ کے سوا (معبود یا مددگار) سمجھتے ہو تو (دیکھنا کہ) کہ وہ تم سے کوئی تکلیف دور کرنے کی قوت نہیں رکھتے اور نہ ہی تمہارے حالات تبدیل کرسکتے ہیں۔

اس آیت میں "ادعوا الذين" سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں (غیراللہ سے) سے مراد بت وغی