24 مارچ 2012 - 19:30

یہاں ہمارا خطاب انتہاپسند اور غیر معتدل وہابی (اور دیگر تشدد پسند) عناصر سے ہے کیونکہ اس مٹھی بھر گروہ کے سوا باقی تمام اسلامی مکاتب اور فرقے اسلام کی عظیم شخصیات کے مزارات کی زیارت کو جائز سمجھتے ہیں۔ بہرحال وہابیوں کا ایک گروہ ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم پیشوایان دین کی زیارت پر کیوں جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ہمیں "قبوریون" کا لقب دیتے ہیں! حالانکہ...

4

بزرگان دین کی قبور کا احترام

بحث کا خاکہ

یہاں ہمارا خطاب انتہاپسند اور غیر معتدل وہابی (اور دیگر تشدد پسند) عناصر سے ہے کیونکہ اس مٹھی بھر گروہ کے سوا باقی تمام اسلامی مکاتب اور فرقے اسلام کی عظیم شخصیات کے مزارات کی زیارت کو جائز سمجھتے ہیں۔ بہرحال وہابیوں کا ایک گروہ ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم پیشوایان دین کی زیارت پر کیوں جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ہمیں "قبوریون" کا لقب دیتے ہیں! حالانکہ پوری دنیا میں ہرمقام پر لوگ بزرگوں کے مزارات کے لئے احترام کے قائل ہیں اور ان کی زيارت پر جاتے ہیں۔

دنیا کے مسلمان بھی ہمیشہ سے اپنے بزرگوں کے مزارات کو محترم و ارجمند سمجھتے آئے ہیں اور ان کی زيارت کرتےچلے آئے ہیں اور وہ آج بھی یہ عمل جاری جاری رکھے ہوئے ہیں مگر وہابیوں کا چھوٹا سا گروہ اس عمل کی مخالفت کرتا ہے اور حقیقتاً دنیا کے سارے مسلمانوں کے سامنے مدعی بن کر کھڑا ہوا ہے۔

البتہ بعض مشہور وہابی علماء نے بھی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ قبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت مستحب ہے مگر زیارت ی نیت سے "شدِّ رحال" نہیں کرنا چاہئے (اور محض زیارت کی نیت سے سفر اختیار کرکے سفر کی سختیاں نہيں جھیلنی چاہئیں)۔ یعنی یہ کہ لوگ مسجد النبی (ص) میں نماز و عبادت کی نیت سے یا عمرہ وغیرہ کی زیارت کی غرض سے مدینہ آئیں تو وہ قبر نبی (ص) کی زیارت بھی کرسکتے ہيں؛ مگر قبر نبی (ص) کی زیارت کی نیت سے رخت سفر نہ باندھیں!۔

مشہور وہابی فقیہ "عبداللہ بن باز" ـ جو کچھ عرصہ قبل دنیا سے رخصت ہوا ہے ـ کہا کرتا تھا: جو شخص مسجدالنبی (ص) کی زیارت کرے تو مستحب ہے کہ وہ روضۂ نبی (ص) میں دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کے بعد پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سلام کہہ دے؛ نیز مستحب ہے کہ شخص جنت البقیع چلاجائے اور وہاں مدفون شہداء کو سلام عرض کرے۔ (1)

"الفقه على المذاهب الاربعة" کے مؤلف نے لکھا ہے کہ: اہل سنت کے چاروں فقہاء ان قیود و شرائط کے بغیر قبر نبی (ص) کو مستحب سمجھتے تھے۔ اس کتاب میں تحریر ہے کہ: "قبرالنبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عالی ترین مستحبات میں سے ہے اور اس کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں اور پھر چھ حدیثوں سے استناد کیا ہے۔ (2)

وہابیوں کا یہ گروہ تین نکتوں پر دنیا کے مسلمانوں سے اختلاف رکھتے اور ان کی مخالفت کرتے ہیں:

1۔ مزارات کی تمعیر

2۔ شد رحال برائے زیارت قبور و مزارت

3۔ خواتین کا زیارتوں پر جانا

ان لوگوں نے اپنے اس موقف کے اثبات کے لئے بعض روایات کا سہارا لیا ہے جویا تو سند کے لحاظ سے نادرست ہیں یا پھر ان کی دلالت ناقابل قبول ہے۔ (بفضل خدا ان روایات کی تفصیل بہت جلد پیش کریں گے)۔

نظر کچھ یوں آتا ہے کہ ان کی اس تحریک کا ایک محرک ایک اور بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ توحید اور شرک کے مسئلے میں وسوسوں کا شکار ہیں۔ شاید ان کے بزعم زیارت قبور کا مفہوم، قبور کی پرستش ہے اور بہر صورت وہابی فرقے کی پیروی کرنے والوں کے سوا دوسرے سارے مسلمان مشرک اور ملحد ہیں!!

تاریخی پس منظر

مرحومین بالخصوص بزرگوں کی قبروں کی زیارت کی تاریخ بہت زیادہ پرانی ہے۔ ہزاروں سال قبل سے انسان اپنے گذرے ہوئے لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بزرگوں کے مزارات کا احترام کرتے تھے اور اس کا فلسفہ مستحکم اور اس کے مثبت اثرات بہت زیادہ ہیں:

پہلا فائدہ

گذرے ہوئے لوگوں کی قبروں کے احترام کا پہلا فائدہ ان کی حرمت کا تحفظ اور کی قدردانی ہے اور یہ انسانی عزت و شرف کی نشانی ہے اور اس عمل کے توسط سے نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ان مرحومین کے نقش قدم پر چلیں۔

دوسرا فائدہ

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ان کی خاموش مگر بولتی ہوئی قبروں سے عبرت لی جائے، انسان اپنے قلب و روح کو زنگ غفلت سے صاف و شفاف کردیں اور دنیا کی آنکھیں خیرہ کردینے والی خواب آور چمک دمک سے بیدار و ہوشیار رہے اور اپنے نفس و قلب کو ہوی و ہوس کے تسلط سے آزاد کریں؛ کیونکہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مردے بہترین واعظ ہیں۔ (3)

تیسرا فائدہ

زیارت قبور کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ مرحومین کی قبروں پر حاضر ہوکر پسماندگان کو تسلی اور تسکین ملتی ہے کیونکہ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں کے ساتھ زیادہ سکون محسوس کرتے ہیں؛ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔ اسی وجہ سے ان افراد کے لئے بھی قبر کا نشان بنایا جاتا ہے جن کی لاش نہ ملی ہو تاکہ ان کی علامتی قبر کے پاس جاکر اپنے عزیزوں کی یاد منائیں۔

چوتھا فائدہ

چوتھا فائدہ یہ ہے کہ بزرگان سلف کی قبور (اور نشانیوں) کی تکریم و تعظیم ہر قوم کے نزدیک ان کی تہذیبی ورثے کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ ہے اور ہر زمانے کی اقوام اپنی پرانی تہذیبوں کے بل بوتے پر زندہ رہتی ہیں۔ دنیا کے مسلمان نہایت غنی اور عظیم تہذيب کے وارث ہیں اور اس عظیم تہذیب کا ایک بڑا حصہ شہداء، علماء، سائنس و ثقافت کے سابقہ پیشرو شخصیتوں بالخصوص دین اسلام کے بزرگ پیشواؤں کے مقابر و مشاہد شریفہ پر مشتمل ہے۔ ان کی تعظیم اور ان کی یاد زندہ رکھنے سے اسلام اور سنت نبوی (ص) کے اسباب فراہم ہوتے ہیں۔

کتنے بے ذوق و بے سلیقہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے مکہ، مدینہ اور دیگر علاقوں میں موجود بزرگان دین کے وہ آثار اجاڑ دیئے جو امت مسلمہ کے لئے فخر و مباہات کا سرمایہ تھے۔

ان لوگوں نے اسلامی امت کو عظیم ترین نقصانات سے دوچار کیا۔

افسوس کا مقام ہے کہ سلفیوں کے نادان اور پسماندہ گروہوں نے بے بنیاد حیلوں بہانوں سے اسلامی تہذیب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

کیا ان با عظمت تاریخی آثار کا تعلق ایک چھوٹے گروہ سے ہے، جنہیں اتنی بے رحمی سے نیست و نابود کیا گیا ہے؟ یا کہ بہتر ہوگا کہ اس عظیم ورثے کی پاسداری کا فریضہ آگاہ مسلم دانشوروں کے سپرد ہونا چاہئے؟

پانچواں فائدہ

قبور کی زیارت کا ایک مثبت اثر یہ ہے کہ دین کے بزرگ پیشواؤں کے مزارات کی زیارت اور ان سے خدا کی بارگاہ میں شفاعت کی درخواست ـ جو خدا کی بارگاہ میں توبہ اور استغفار کے ہمراہ ہوتی ہے ـ نفوس و قلوب کی تربیت اور اخلاق و ایمان کی پرورش میں غیر معمولی روحانی اثر رکھتی ہے؛ اور بہت سے آلودہ گنہگار افراد ان ہی بزرگوں کی ملکوتی بارگاہوں میں حاضر ہوکر توبہ کرتے رہے ہیں اور اپنی ذات اور جان و قلب کی اصلاح کرلیتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے نیک و صالح بن کر رہتے ہیں اور ان ہی بارگاہوں پر حاضری دے کر صلاح و فلاح کی اعلی منازل پر فائز ہوجاتے ہیں۔

٭٭٭

زیارت قبور میں شرک کا توہم

کبھی کبھی کچھ ناآگاہ عناصر ائمۂ دین کے مزارات پر حاضر دینے والے زائرین پر شرک کا ٹھپہ لگاتے ہیں۔ یقیناً اگر یہ لوگ زیارت کے مفہوم اور زيارت ناموں کے مضامین سے آگاہ ہوتے تو اپنی ان تہمتوں سے نادم اور شرمندہ ہوجاتے۔

کوئی بھی عاقل شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سل