اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تنازعہ آل خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی بن سلمان اور ان کے بڈھے چچا اور 42 برسوں سے بحرین کے وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان کے درمیان شروع ہوا ہے جس کے نتیجے میں بادشاہ اور وزیر اعظم کے حامیوں کے درمیان الرفاع، الحد، المحرق اور البديع کے علاقوں میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں فریقین کے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ 75 سالہ آل خلیفی وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان ـ جو بادشاہ کے چچا ہیں ـ بیالیس برسوں سے وزارت عظمی کے رتبے پر فائز ہیں اور بحرینی عوام کے مطالبات کے حوالے سے نہایت تشدد پسند ہیں جبکہ آل سعود سے ان کے تعلقات نہایت وسیع اور دوستانہ ہیں۔یادرہے کہ بحرینی عوام کے ابتدائی مطالبات میں وزیر اعظم کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور بحرینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی برطرفی کے بعد حمد بن عیسی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں جبکہ اس رپورٹ کے مطابق نجد و حجاز پر مسلط آل سعود خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے آل خلیفی بادشاہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی برطرفی سے بازرہیں۔ آل سعود کے حکاق نے حمد بن عیسی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے وزیر اعظم کو برطرف کیا تو وہ بحرین میں مزید افواج روانہ کریں گے۔آل سعود کی اس دھمکی کو بحرین پر مکمل سعودی قبضے کی دھمکی سمجھا گیا ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق چچا وزیر اعظم کے ساتھ بھتیجے بادشاہ کے اختلافات بہت پرانے ہیں لیکن یہ اختلافات ان دنوں بہت شدید ہوگئے ہیں یہاں تک کہ وزیر اعظم سے وابستہ حلقوں میں حمد بن عیسی کی تصویریں بھی پھاڑ دی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے بادشاہ کو بعض دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے ہیں جن کا تعلق وزیر اعظم اور ان کے قریبی حلقوں سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا ہے کہ حمد بن عیسی نے بحرینی عوام کو بعض حقوق دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وزیر اعظم اس سلسلے میں روڑے اٹکا رہے ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی بحرینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے حق میں نہیں ہیں اور یہ اختلافات کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے جبکہ حال ہی میں وزیر اعظم نے پاکستانی شہریت یافتگان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بحریں میں وہی ہوتا ہے جو میں کہتا ہوں" جس سے یہ مطلب لیا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے بادشاہ کے اختیارات کو چیلنج کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110