ابنا کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے کہا کہ امام بارگاہ میں داخل ہونے والے ایک سترہ سالہ نوجوان کو گیٹ پرچیکنگ کے لیے روکا گیا تو اس نے دھماکا کردیا۔ دھماکے کے وقت گیٹ پر کافی تعداد میں لوگ اور سیکیورٹی اہلکار موجود تھے جب کہ عین اسی وقت ایک ذاکر اپنے خطاب کے بعد ساتھیوں کے ہمراہ گیٹ سے باہر آ رہے تھے۔ دھماکے کے بعد ہرطرف چیخ پکار اور بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکا انتہائی زوردارتھا کہ امام بارگاہ کے گیٹ کے اردگرد ہرطرف خون اورانسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں میں ناکافی انتظامات اور مقامی اسپتال میں طبی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران راولپنڈی اور جہلم سے پندرہ سے بیس ایمبولینسز اور طبی ٹیمیں چکوال پہنچ گئیں۔ متعدد شدید زخمیوں کو راولپنڈی بھجوا دیا گیا جبکہ دیگر کا مقامی اسپتال میں علاج جاری ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش دھماکے میں 35 افراد شہید ہو گئے جبکہ 150 زخمی ہیں اور متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہونے کی بنا پر شہداء کی تعداد میں اضافے ہوسکتا ہے۔
چکوال خودکش دھماکے کے شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں ‘ مشترکہ تحقیقات ہوں گی ‘ ناصر درانی
واقعے کے بعد آرپی او راولپنڈی ناصر درانی کا کہنا تھا کہ جاں بحق اورزخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ڈویژنل پولیس افسر راولپنڈی ناصر خان کا کہنا تھا کہ چکوال میں امام بارگاہ کی انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات قابل اطمینان تھے ۔ ورنہ جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے تمام شہادتیں اکٹھی کرنیکے بعد باضابطہ تحقیقات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا سپیشل جہاز بھجوا دیا جس میں زخمیوں کو لاہور اور راولپنڈی بھیجا جائے گا ۔
ناصر خان درانی نے کہا کہ امام بارگاہوں اور مساجد کی حفاظت پولیس اکیلے نہیں کر سکتی جب تک ان مقامات کی انتظامیہ اور عوام ان کے ساتھ نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ تخریب کاروں اور دہشت گرد ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے دشمن ہمارے اندر ہی ہیں اس لئے عوام کو ان پر نظر رکھ کر متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔
ناصر درانی نے کہا ہے کہ پولیس کو مقدس مقامات کی انتظامیہ کا تعاون حاصل ہونا چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے امامبارگاہ انتظامیہ کے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دیا ہے مگر پولیس کے اقدامات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے اور ان کی باتوں سے یوں لگتا ہے کہ گویا پولیس کی طرف سے کوئی اقدام عمل میں نہیں آیا تھا اور انہوں نے ضمنی طور پر یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ امامبارگاہ انتظامیہ کو پولیس کا تعاون حاصل نہیں تھا!!!.
متولی بشیر حسین بھی شہید ہوگئے/ سیکورٹی انتظامات ناقص تھے۔ واک تھر وگیٹ نہ تھے
امام بارگاہ سرپاک کے متولی بشیر حسین بھی خودکش حملہ کے جاں بحق افراد میں شامل ہیں جبکہ اتنی بڑی مجلس کے باوجود پولیس کی جانب سے معمول کی سیکورٹی کے انتظامات تھے ۔
عینی شاہدین کے مطابق سرکاری طور پر سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کیے گئے تھے تاہم امام بارگاہ کی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے موثر انتظامات موجود تھے جس کی وجہ سے خودکش حملہ آورمجلس میں داخل نہ ہو سکا ۔ پولیس کی جانب سے اتنی بڑی مجلس کے لیے سیکورٹی کے معمول کے انتظامات تھے۔ واک تھرو گیٹس لگائے گئے تھے نہ کوئی اور خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے ۔ شہریوں کے مطابق امام بارگاہ میں اس سالانہ مجلس کے لیے پولیس کو غیر معمولی اقدامات کرنے چاہیئے تھے۔
چکوال خودکش حملہ حملہ آور 17 سال کی عمر کا تھا۔ عینی شاہد
چکوال کے محلہ سرپار کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ کرنے و الا نوجوان سولہ سترہ سال کی عمر کا تھا یہ بات ایک عینی شاہد ساحر نقوی نے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو میں بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور بظاہر سولہ سترہ سال کا تھا اور جوں ہی وہ امام بارگاہ کے صدر دروازے پر پہنچا تو تلاشی کے وقت اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ ساحر نقوی کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود کش حملہ آور امام بارگاہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہوتا کیونکہ امام بارگاہ میں کم ازکم 2 ہزار افراد موجود تھے۔
دہشت گرد قوتین نوجوان اور کم عمر لڑکوں کو ہی خودکش حملون کے لئے استعمال کررہے ہیں اور بعض ذرائع سے یہ بھی معلوم ہؤا ہے کہ انہیں ہوش و حواس معطل کردینے والی دوائیاں کھلائی جاتی ہیں اور اگر وہ ہوش میں آجائیں اور خودکشی کے ارادے سے اجتناب کرنا چاہیں تو قریب ہی موجود دوسرے دہشت گرد ان کے جسم سے متصل بم کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پھاڑ دیتے ہیں یوں حور و قصور کا متمنی خودکش حملہ آور سیدھا غضب کے فرشتوں کی گود میں چلا جاتا ہے.
رد عمل
چکوال امام بارگاہ دھماکا مذہب کو بدنام کرنے کی سازش ہے،صد ر زرداری
ایوان صدر سے جاری ہونیوالے بیان میں صد ر آصف علی زرداری نے خود کش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعا ت کرانے والے مذہب کو بدنام کررہے ہیں۔
صدرزرداری نے کہا کہ دھماکے کی سازش کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ صدر نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے!!!
حملہ آور پاکستانی ہیں، باہر سے کوئی نہیں آیا،مشیر داخلہ
مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ حملہ آور پاکستانی ہیں اور کوئی باہر سے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کی کوئی مجبور ی نہیں ہوتی، خودکش حملہ آور پیسے لے کربکتے ہیں۔
رحمن ملک نے کہا کہ خودکش حملہ آور کے اہل خانہ کو پانچ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا تمام حملہ آوروں کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔
چکوال خود کش حملہ کھلی بربریت ہے،الطاف حسین
لندن سے جاری ایک بیان میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ چکوال میں امام بارگاہ میں ہونے والی مجلس عزا پر خودکش حملہ کھلی بربریت ہے اور جو عناصر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے بے گناہ افراد کو قتل کررہے ہیں وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مسلمان مسجد یا امام بارگاہ پر حملہ کرنے اور عباد ت میں مصروف افراد کو قتل کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔
خود کش دھماکے امریکا نواز پالیسیوں کا نتیجہ ہیں،عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر راہنماؤں نے ملک بھر میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی غلامی چھوڑ کر پاکستانی عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں لاہور میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں عمران خان،اعجاز چوہدری،احسن رشید اور میاں محمودالرشید نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں،اسلام آباد، چکوال اور میرانشاہ میں خودکش حملوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں وہ صرف اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خود کش دھماکے حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
عمران خان نے البتہ یہ نہین کہا کہ حکومت کی امریکہ نواز پالیسیون کی نتیجے میں اگر دہشت گرد سرکاری اداروں اور املاک پر حملہ کردیں تو بات کسی حد تک سمجھ میں آجاتی ہے مگر اہل تشیع پر ان کے حملے اور وہ بھی سرکار کی مغرب نواز پالیسیوں کی بنا پر؟ سمجھ سے بالاتر ہے یا پھراسرائیل اور امریکہ نواز دہشت گرد بھی اہل تشیع کو اس لئے نشانہ بنا رہے ہیں کہ شیعیان اہل بیت (ع) پاکستان کی سالمیت کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف سے امریکیوں اور اسرائیلیوں کو بھی اہل تشیع کے قتل عام سے خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ شیعیان اہل بیت (ع) کو دنیا کے ہر گوشے میں اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں. عمران خان صاحب نے اس حقیقت کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا کہ سرکار پاکستان اور دہشت گرد امریکہ اور مغربی ممالک اور اسرائیل کے مفادات کے لئے یکسان خدمات سرانجام دے رہے ہیں.
مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے شیعہ سنی تصادم کرانے کی غیر ملکی سازش ہے‘ سینیٹر پروفیسر ساجد میر
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میراور ناظم اعلی حافظ عبدالکریم نے چکوال میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے اور اسے ملکی سلامتی کے خلاف سازش قرار دیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ ان واقعات میں اسلام اور ملک دشمن ہاتھ ملوث ہے۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے شیعہ سنی تصادم کرانے کی غیر ملکی سازش ہے ۔ان حالات میں حکومت کی سیکورٹی ایجنسیاں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا سبب پاکستان میں پرویز مشرف اور امریکہ میں بش کی پالیسیوں کا تسلسل ہے زرداری پرویز مشرف اور بارک اوبامہ بش کی پالیسیوں کو جب تک تبدیل نہیں کریں گے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
ساجدمیر صاحب نے بھی یہ نہیں کہا کہ حکمرانوں کی مغرب نواز پالیسیوں کا اہل تشیع سے کیا تعلق ہے اور حکمرانوں کی پالیسیوں کا شیعیان اہل بیت (ع) سے کیوں بدلہ لیا جارہا ہے؟ . یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گرد ملک توڑنے کی کوششیں کررہی ہیں اور بعض اعلی سرکاری شخصیات کی باتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں اور مرکز میں بھی اب حالات سے سمجھوتہ کرکے ملک کے حصے بخرے ہونے کی عالمی سازش کے قدم بقدم چلنے کا رجحان پایا جاتا ہے؛ اور ان حالات میں صرف اہل تشیع ملک کی خودمختاری اور استقلال پر اصرار کررہے ہیں چنانچہ ملک توڑنے والے انہیں بے دردی سے نشانہ بنا رہے ہیں اور عالمی ایجنڈے کی حامی قوتیں بھی اس قتل عام کی حمایت کررہی ہیں گوکہ یہ حمایت دہشت گردوں کے سامنے مجرمانہ خاموشی کی صورت میں جاری ہے.
وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کے احکامات جاری کردئیے
وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے خودکش حملے کی مذمت کی کرتے ہوئے متعلقہ اتھارٹیز کو فوری تحقیقات کرنے کی ہدایات کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کی کارروائی ہے۔ جو ملک میں خوف پھیلا کر جمہوریت وترقی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔
امریکہ سے ناطہ توڑے بغیر ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ قاضی حسین احمد
خودکش، ڈروں حملے، کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو فلم اور کنٹینر میں لوگوں کو بھر زندگی سے محروم کرنا ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشیں ہیں
انہوں نے جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر سید منور حسن کے حلف اٹھانے سے قبل بطور امیر جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے آخری اجلاس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چکوال میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتشار پیدا کیا جارہا ہے، ملک اس وقت پرآشوب حالات سے گزر رہا ہے ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکی صدر اوباما پاکستان کو واضح طور پر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا خطرناک علاقہ ہے اور یہاں امریکہ کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ یہ القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہ ہے جس کا قلع قمع کرنا امریکہ کا فرض ہے۔
قاضی صاحب نے عمران خان اور ساجد میر کی طرح دہشت گردوں کے فعل کو جائز قرار دیتے ہوئے امامبارگاہ پر خودکش حملے کو حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے جبکہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستانی عوام کو امریکہ کی مخالفت کا درس اہل تشیع نے دیا ہے اور امریکہ اہل تشیع کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اہل تشیع بھی امریکہ کے حقیقی دشمن تصور کئے جاتے ہیں اور ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کے حقیقی دشمنوں پر دہشت گردوں کے حملے امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے سوا کسی اور مقصد سے ہوسکتے ہیں؟ یہ کیسی بات ہے کہ حکومت امریکہ نواز ہے اور دہشت گرد امریکہ کے دشمن! مگر وہ آکر امریکہ کے اصلی دشمنوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں؟ کیا اگر وہ امریکہ کے دشمن ہوتے تو کیا وہ اہل تشیع کی قربت کے لئے کوشش نہ کرتے؟
شہداء اور زخمیوں کے دستیاب نام
تفصیلات کے مطابق امام بارگاہ سرپاک کے داخلی گیٹ پر خودکش حملے میں شہید ہونے والے افراد میں متولی بشیر حسین، ارسلان حیدر، غلام بشیر، کرم الہی،،ساجد حسین، عاشق حسین، چوہدری مظاہر حسین ایڈووکیٹ، محمد جواد، محمد رضا، توکل حسین، ملازم حسین، چوہدری باقر محمود، غلام رضا، چوہدری ذوالفقار، علی حیدر (بچہ)، حبیب خان، چوہدری اعجاز، مرتضی، رضا، نوازش عباس، شہزاد، محمد جہانگیر، جمشید، آصف حسین، حاجی واصف، نصرت حسین، سید فرحت عباس، میان خان، شبیر، شہریار اور دیگر اور زخمیوں میں اللہ داد، ضیغم عباس، نذیر حسین،سائیں صادق، سید ابرار، وجاہت حسین، غلام علی، محمد عرفان، جہانگیر، حسین شاہ،رفاقت علی، شجاعت حسین، غلام زبیر، زبیر حسین، فرحت عباس، قلب عباس اور دیگر افراد شامل ہیں ۔