ڈاکٹر سید محمد مرندی
-
ٹرمپیات
تصویری خبر | ٹرمپ رجیم تباہ کن غلطی کر بیٹھی، ڈاکٹر مرندی
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سید محمد مرندی نے ایران کے جزیرے لارک پر دہشت گرد امریکی فوج کی جارحیت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "ٹرمپ رجیم انتہائی مہلک غلطی کی مرتکب ہوئی ہے۔" / واضح رہے کہ امریکی جارحیت اور ایران کی زبردست جوابی کاروائی کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر 2/7 ڈالر کا اضافہ ہؤا ہے۔
-
عہد شکن زوال پذیر امریکی سلطنت
تصویری خبر | ہم جانتے تھے کہ ٹرمپ مفاہمت نامے کی خلاف ورزی کرے گا، اور پورا انتظام کر چکے تھے
بین الاقوامی اہل بیت(ع) اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکراتی وفد کے رکن ڈاکٹر سید محمد مرندی نے لکھا: ایران جانتا تھا کہ ٹرمپ مفاہمت نامے کو کمزور کر دے گا، چنانچہ اس نے اس سمجھوتے سے اس سے سبقت لینےکا فائدہ اٹھایا۔ / ایران نے بے تحاشا تیل برآمد کیا، بنیادی ضروریات کی اشیاء درآمد کیں، اس وقت جبکہ ٹرمپ عنقریب آنے والے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بالکل ناکام رہ گیا ہے، ایران اس سے بہت آگے ہے۔
-
امریکہ دشمن نمبر 1
تصویری خبر مسٹر جے ڈی وینس تمہارے ساتھ ہمارا مسئلہ خون کا ہے
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جے ڈی وینس اپنی نسبت ایرانی ٹیم کی بے رخی سے حیرت بے جا ہے؛ جیسا کہ ایرانی وفد کے رکن پروفیسر ڈاکٹر سید محمد مرندی نے لکھا: ٹرمپ کے بموں نے ہمارے بچوں اور ہمارے رہبر کو شہید کر دیا ہے، اس کے باوجود وینس اور اس کا پریس گروپ ہمارے وفد کے غیردوستانہ رویے سے حیرت زدہ ہوئے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
نیتن یاہو کی حماقت نے مذاکرات کا تعطل توڑ دیا، ڈاکٹر مرندی
سیاسی امور کے تجزیہ کار اور تہران یونیورسٹی کے پروفیسر، ڈاکٹر سید محمد مرندی نے لکھا کہ نیتن یاہو کی حماقت نے مذاکرات کا تعطل توڑ دیا، انھوں نے زور دے کر کہا: بعض قیاس آرائیوں کے برعکس، بیروت کے علاقے ضاحیہ پر نیتن یاہو کی مجرمانہ جارحیت سے پہلے کوئی حتمی متن موجود نہیں تھا۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
ٹرمپ حقیقی دنیا میں ہتھیار ڈال چکا ہے لیکن ورچوئل اسپیس پر ڈینگیں مارتا ہے، ڈاکٹر مرندی
ڈاکٹر مرندی نے کہا: گوکہ امریکہ نے بدھ کے روز سمجھوتے کے مسودے میں اچھی خاصی رعایتیں دیں، اور اسے قطری ثالث کے ذریعے ایران بھجوایا، لیکن اسی اثناء میں ایک میڈیا مہم اور خوف و ہراس پھیلانے کا سلسلہ بھی چلایا۔