ڈاکٹر حلیٰ صالح ہاشم الجابری نے کہا: السید الولی (رہبر انقلاب [حفظہ اللہ]) کو ایک محور اور اعلیٰ سیاسی، روحانی اور عقیدتی مرجعیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے نقطہ ہائے نظر کی یکجہتی اور اتحاد کا امکان فراہم کیا ہے اور مختلف محاذوں کے درمیان ہم آہنگی کو منظم کرنے والے قطب نما کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خطے کو وسیع اور غیر متوقعہ جنگوں کی طرف پھسلنے سے روک دیتے ہیں۔
ایک ارجنٹائنی تجزیہ کار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے حالیہ بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں، بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا آمنا سامنا ہے!
وزیر خارجہ نے آج رات ایران کے ارد گرد موجود عسکری سازوسامان کے باوجود ایران کے تسلیم نہ ہونے سے متعلق ٹرمپ کے اظہار حیرت پر ردعمل دیتے ہوئے استفسار کیا: کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار کیوں نہيں ڈالتے؟ تو جواب یہ ہے: "ہم ہتھیار نہیں ڈآلتے کیونکہ ہم "ایرانی" ہیں۔"
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے X نیٹ ورک پر لکھا: ایران خطے کے امن و استحکام کا پابند ہے، حالیہ مذاکرات عملی تجاویز اور تسلی بخش اشاروں پر مشتمل تھے۔ اس کے باوجود ہم قریب سے امریکی اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم نے ہر ممکنہ منظرنامے سے نمٹنے کے لئے تمام تر انتظامات کر لئے ہیں۔
طاقت کے اس قاعدے میں ایک 'ظاہر بین نگاہوں سے اوجھل' پوشیدہ حقیقت ہے، جس کا نام "خدا" ہے۔ یعنی کھوکھلی طاقتوں سے بے نیازی کا اعلان؛ اور اس طاقت پر بھروسہ جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ہمارا خدا، وہی طبس میں ریت کا طوفان اٹھانے والا خدا ہی ہے جس نے بڑی طاقتوں کے حسابات الٹ دیئے؛ وہی خرمشہر والا خدا جو خالی ہاتھوں مجاہدین کے ہاتھوں آزاد ہؤا۔