اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
جمعرات

19 جنوری 2023

6:09:09 PM
1339606

ایران کی ترقی۔۔۔۔۔۔۔ دشمن کی بے چینی

اگرچہ گذشتہ 44 سالوں میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں نے ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں، لیکن اس مسئلے نے ایرانیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور مغربی غنڈہ گردی کے سامنے سر نہ جھکانے پر آمادہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خطے میں دفاعی، فوجی، ایٹمی، نینو وغیرہ مسائل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی برتر طاقت نے واشنگٹن اور ان کے اتحادیوں کو اس حد تک الجھا دیا ہے کہ بعض امریکی ماہرین نے واشنگٹن سے درخواست کی ہے کہ وہ اقتصادی پابندیوں کے بجائے نئی حکمت عملی اپنائے۔ شاید ایران کے خلاف صدام کی بعث حکومت کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران بہت سے لوگ انقلاب اسلامی کے عظیم رہنماء امام خمینی (رہ) کے ان الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھتے تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ "جنگ ایک نعمت ہے"، لیکن گزرتے وقت نے ظاہر کیا کہ جنگ، ایران کے لیے نقصان کے باوجود (اگرچہ اسے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا)، "ایک بہت بڑی نعمت" رہی ہے۔ ایک ایسی نعمت جس نے ثابت کیا کہ ہم عالمی طاقتوں پر بھروسہ کیے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں اور عسکری اور دفاعی معاملات میں علاقائی طاقت بن سکتے ہیں۔

اگرچہ گذشتہ 44 سالوں میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں نے ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں، لیکن اس مسئلے نے ایرانیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور مغربی غنڈہ گردی کے سامنے سر نہ جھکانے پر آمادہ کیا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب ایران خاردار تاریں بھی نہیں بنا سکتا تھا اور دشمن نے اسے ایران میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی تھی، اسی طرح کسی ملک کو ہمیں ہتھیار فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن آج دشمن اس تلاش میں ہے کہ کوئی ایران سے ہتھیار نہ خریدے اور اس کا مطلب ہے کہ ایران کا دشمن اس نظام کے سامنے بے بس ہے۔ معروف امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون اور بعض ممالک کو ان کی برآمدات کے معاملے سے نمٹنے میں امریکہ کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بہتر ہے کہ امریکہ اقتصادی پابندیوں کے بجائے اب ایران کے خلاف نئی حکمت عملی اپنائے۔

6 جنوری (2023ء) کو امریکی وزارت خزانہ نے قدس ایرو اسپیس انڈسٹریز آرگنائزیشن (IAIO) کے ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کے خلاف پابندیاں عائد کیں، جو کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے زیر کنٹرول ایک کمپنی ہے۔ گذشتہ برسوں میں واشنگٹن نے کئی دیگر ایرانی دفاعی اور سکیورٹی اداروں کے خلاف بہت سی پابندیاں عائد کیں، جن میں فجر ایوی ایشن انڈسٹریز (FACI)، ایران ہیلی کاپٹر سپورٹ اینڈ رینوویشن انڈسٹریز (PAHNA) اور ایران ایئر کرافٹ مینوفیکچرنگ انڈسٹریز (IACI) شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود ان صنعتوں نے مضبوطی کے ساتھ کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس امریکی نشریہ نے اعتراف کیا کہ مغربی پابندیاں ایران کو فوجی ڈرون مارکیٹ میں نمایاں کھلاڑی بننے اور مشرق وسطیٰ کے اندر اور باہر اپنے شراکت داروں اور ایجنسیوں کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی کا اشتراک کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

مذکورہ اشاعت میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایران میں فوجی ڈرونز کی تعمیر 80 کی دہائی کی وسط میں ایران کے خلاف صدام کی بعث حکومت کی جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب ایران کا 33 سے زیادہ مختلف ماڈلز میں جدید فوجی ڈرونز کا ذخیرہ ملک کے دفاعی ستونوں میں سے ایک ہے۔ نیشنل انٹرسٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی ڈرون مغربی ڈرونز کے مقابلے میں سستے ہیں اور مختلف علاقائی جنگوں کے میدانوں میں کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔ آج ایران کی میزائل ٹیکنالوجی اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ ایران مغربی ایشیاء میں جدید قسم کے میزائل ہتھیار بنانے میں سب سے آگئے ہے اور بلاشبہ یہ عمل دشمنوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے، جبکہ دوسری طرف یہ ترقی ایران کے عوام اور ایران کے دوستوں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔

اگرچہ ذہین اور قابل ایرانی جنرل "حسن تہرانی مقدم" جنہیں ایران کا بابائے میزائل کہا جاتا ہے، نومبر 2010ء میں شہید ہو کر اپنے شہید ساتھیوں میں شامل ہوگئے، لیکن انہوں نے جس راستے کو شروع کیا، وہ اب بھی جاری ہے اور ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اب دشمن کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اب دشمن ایران کے جواب کے خوف سے ایران پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے امریکی ماہرین نے جو بائیڈن انتظامیہ سے بھی درخواست کی ہے کہ واشنگٹن اقتصادی پابندیوں کے بجائے ایران کے خلاف نئی حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرے، کیونکہ اسلامی جمہوریہ دفاعی، عسکری اور جوہری میدان میں بہت اعلیٰ طاقت اور پوائنٹ آف نو ریٹرن کے قریب پہنچ چکا ہے اور یہ بات مغرب کو اب قبول کرنا ہوگی۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اب نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران ایک میزائل پاور بن چکا ہے بلکہ مزاحمتی گروپس جیسے لبنان کی حزب اللہ، حماس، اسلامی جہاد اور یمن کی انصار اللہ بھی ایران کی اتحادی بن چکی ہیں، ان میں سے ہر ایک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا مالک بن چکا ہے۔