اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، قم کے حوزۂ علمیہ کے استاد اور معاصر فقہ کے تحقیقی ادارے کے سربراہ سید مجتبیٰ نورمفیدی نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار اور تنقید کی جائز حدود، اور عوامی سلامتی کے خلاف اقدامات کے درمیان فرق، فقہِ سیاسی کے بنیادی اور اہم ترین سوالات میں سے ہے، جو آج بھی حکومتوں کی قانونی حیثیت جانچنے کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
حکومت میں امام علیؑ کی سیرت، ایک رہنما سیاسی نظریہ
استاد نورمفیدی نے موضوع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں حکمرانوں اور حکومتوں کو مخالفین کا سامنا رہتا ہے، اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے۔ مکتبِ اہل بیتؑ میں اس سوال کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اس کا جواب امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی سیرت میں ملتا ہے، کیونکہ آپؑ کی سیرت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والا سیاسی نظریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنینؑ نے مختلف نوعیت کے مخالفین کے ساتھ حالات کے مطابق مختلف طریقے اختیار کیے، کہیں برداشت اور مکالمہ، اور کہیں عدل و اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدام کیا۔
امام علیؑ کا سیاسی مخالفین سے برتاؤ کیسا تھا؟
اس موقع پر استاد نورمفیدی نے امیرالمؤمنینؑ کے دورِ حکومت میں مخالفین کی تین اقسام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فکری مخالفین وہ تھے جن کا اختلاف صرف نظریاتی نوعیت کا تھا، اور امامؑ نے ان کے ساتھ قائل کرنے اور دلیل کے ذریعے بات کی۔
سیاسی معترضین وہ تھے جو حکومتی فیصلوں پر اعتراض کرتے تھے، ان کے ساتھ منطق، تحمل اور برداشت کا رویہ اپنایا گیا۔
جبکہ تیسری قسم ایسے عناصر پر مشتمل تھی جو معاشرے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے، اور ان کے خلاف سخت اور واضح کارروائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ خوارج کے ساتھ امیرالمؤمنینؑ کا طرزِ عمل ان تینوں مراحل کی واضح مثال ہے، جہاں اختلاف فکری سطح سے شروع ہوا اور آخرکار نہروان میں مسلح بغاوت تک جا پہنچا۔
امیرالمؤمنینؑ کے سیاسی طرزِ عمل کے بنیادی اصول
استاد نورمفیدی نے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی حکمرانی کی بنیاد چار اہم اصولوں پر تھی: عدل و انصاف، اسلامی نظام کا تحفظ، عوامی مفاد کی پاسداری اور انسانی وقار کا احترام۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امام علیؑ نے اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی انسانی عزت و کرامت کا خیال رکھا اور کبھی انصاف کی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔
ان کے مطابق آج کی اسلامی حکومتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی نمونے کو بنیاد بنائیں تاکہ آزادی اور سلامتی کے درمیان توازن قائم رہے اور من مانے یا ذاتی نوعیت کے اقدامات سے بچا جا سکے۔
حکومتِ امیرالمؤمنینؑ کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت
گفتگو کے اختتام پر سید مجتبیٰ نورمفیدی نے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی حکومت کا بنیادی مقصد انسانوں کو سعادت اور قربِ الٰہی کی طرف رہنمائی کرنا تھا، اور یہی مقصد سیاسی، ثقافتی اور سماجی تمام طرزِ عمل میں نمایاں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب مخالفت اور خطرات کی نئی صورتیں سامنے آ رہی ہیں، امام علیؑ کی سیرت دینی نظاموں کے لیے ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے تاکہ وہ سلامتی اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اختلافات اور تنازعات کا مؤثر انداز میں حل کر سکیں۔
آپ کا تبصرہ