اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
بدھ

18 جنوری 2023

5:28:13 PM
1339402

ایک لاکھ افراد مقبوضہ فلسطین کی سڑکوں پر؛ صہیونی خود ہی خود کو تباہ کر رہے ہیں

نیتن یاہو کی کابینہ چند ہی روز قبل تشکیل پائی ہے، لیکن اس ریاست کے دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں، یہاں تک کہ 14 جنوری کو ایک لاکھ افراد نے مقتوضہ فلسطین کی سڑکوں پر موجودہ کابینہ کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نیتن یاہو کی کابینہ چند ہی روز قبل تشکیل پائی ہے، لیکن اس ریاست کے دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں، یہاں تک کہ 14 جنوری کو ایک لاکھ افراد نے مقتوضہ فلسطین کی سڑکوں پر موجودہ کابینہ کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ تل ابیب، مقبوضہ قدس شریف اور حیفا میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بڑی نفری تعینات تھی۔
ہزاروں احتجاجی تل ابیب، قدس شریف اور حیفا کی سڑکوں پر
عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے ہفتے کی شام کو اس بارے میں لکھا کہ تل ابیب کے "ہیما" نامی چوراہے میں 50000 افراد، حیفا میں 2000 افراد، قدس شریف میں صہیونی صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائشگاہ کے باہر تقریبا 1500 افراد اور وزیر قانون یاریو لیوین (Yariv Levin) کے گھر کے باہر سینکڑوں افراد احتجاجی مظاہرہ کر ررہے ہیں۔
اس رپورٹ کی رو سے، صہیونی پولیس کے اندازوں کے مناسب ہیما چوراہے پر تقریبا 80000 ہزار افراد جمع ہوئے ہونگے۔ لیکن صہیونی فوجی ریڈیو (گالگالاتز = Galgalatz) نے اعلان کیا کہ "تل ابیب میں نیتن یاہو کابینہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کی تعداد 100000 تک پہنچی ہے"۔
یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا جس کا - 29 دسمبر (2022ع‍) کو نیتن یاہو کے بر سر اقتدار آنے کے بعد - یہودی ریاست کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ یدیعوت آحارونوت نے کل رات تل ابیب کی سڑکوں اور شدید ٹریفک کی صورت حال کی طرف اشارہ کیا اور لکھا کہ موقع پر سیکورٹی اداروں کی 1000 نفری تعینات کی گئی تھی۔
احتجاجی مظاہرے میں سابق وزیر جنگ سمیت نمایاں صہیونی زعماء شریک تھے
سابق صہیونی وزیر جنگ اور موجودہ رکن پارلیمان بینی گانٹز، موجودہ رکن پارلیمان یائیر گولان، سابق وزیر اعظم ایہود بارک، سابق وزیر خارجہ زیپی لیونی اور کئی دوسرے سابق صہیونی اہلکار کل ہفتے کی شب کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے۔
تل ابیب کے ساتھ ساتھ، شہر حیفا کے چوراہے "حوریف" میں 1500 افراد نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا: "جرائم پیشہ کابینہ"، "اسرائیل آمریت میں تبدیل نہیں ہوگا"، وغیرہ۔
صہیونی پولیس نے مظاہروں کو کچل ڈالا

ادھر مظاہرے سے متعلق شائع ہونے والی تصاویر کے مطابق صہیونی پولیس نے احتجاج کرنے والے ایک فرد پر حملہ کیا جس نے فلسطین کا پرچم اٹھایا ہؤا تھا اور اس کو تفتیش کے لئے پولیس مرکز میں منتقل کیا گیا۔ عبرانی اخبار معاریو نے بھی خبر دی ہے کہ پولیس نے تل ابیب میں مظاہرے کی کال کی خبر وصول کرنے کے بعد، بھاری نفری اور مختلف قسم کے اوزار اور وسائل سے بھرے ٹرک مظاہرے کے مقام پر منتقل کر دیئے ہیں۔
صہیونی ٹی وی کے چینل 12 نے بھی ہفتے کی شام کو رپورٹ دی کہ اگر مظاہرین تل ابیب کی سڑکوں کو بند کریں تو پولیس طاقت کا استعمال کرے گی اور صہیونی ریاست کے پولیس چیف نے اپنی نفری سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ "احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ہم تخریب کاری کو برداشت نہیں کریں گے"۔
مقبوضہ حیفا اور مقبوضہ قدس شریف میں مظاہروں کا اہتمام "کالے پرچم" نامی تنظیم نے کیا تھا، جس نے اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی اور کہا: "نیتن یاہو کی بغاوت کامیاب نہیں ہو سکے گی اور اسرائیل کے عوام آمریت کا مقابلے کریں گے۔ جو بغاوتیں آج رات کو شروع ہوئیں، یہ ایک بے رحم انتھک عوامی جدوجہد ہے جو (مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان) تقسیم اختیارات، مساوات اور آزادی کی اقدار سے دستبردار نہیں ہوگی"۔
یہ احتجاجی مظاہرے 14 جنوری کو منعقد ہوئے جبکہ نیتن یاہو کی کابینہ نے صرف چند ہی دن قبل مورخہ دو جنوری کو حلف اٹھایا اور اپنے کام کا آغاز کیا۔
قبل ازیں امریکہ میں بھی 300 سے زائد یہودی خاخاموں (ربیوں) نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے خلاف ہیں اور وہ نیتن یاہو کی کابینہ میں شامل مذہبی صہیونی جماعتوں کے اراکین کو اپنے کنیسوں (Synagogues) میں تقریر کرنے سے منع کریں گے؛ حتی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ربیوں کی برادری میں داخل ہو جائیں۔
مقبوضہ سرزمینوں میں خانہ جنگی کی سرگوشیاں
صہیونی جماعتوں میں اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب نیتن یاہو کی سربراہی میں تل ابیب کی نئی کابینہ نے چار جنوری کو "عدالتی نظام کی اصلاح" کا بل پیش کیا۔ نیتن یاہو جو کئی سال قبل سے بدعنوانی، رشوت خوری اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے، اور وہ اب وزیر قانون کی مدد سے "عدالتی نظام کی اصلاح" کے بل کے ذریعے سے اپنے اوپر لگے الامات کو کالعدم کروانا چاہتا ہے۔
الجزیرہ اخباری چینل کی رپورٹ کے مطابق یہودی ریاست کے کے سپریم کورٹ کے سابق سربراہ "آہارون بارک" نے نئی کابینہ کے اس منصوبے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، مجوزہ تبدیلیوں کو سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کا موجب گردانا اور "تیسرے ہیکل (Third Temple) کے خاتمے کا آغاز" قرار دیا، اور یہ توریت کی عبارتوں کے مطابق صہیونی ریاست کے زوال کے معنی میں آیا ہے۔ جو منصوبہ نیتن یاہو کی حکومت نافذ کرنا چاہتی ہے، اس کے مطابق غاصب ریاست کی عدلیہ کے اختیارات گھٹ جائیں گے اور جعلی ریاست کے اندر انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات میں زبردست اضافہ ہوگا۔
اس بل کے مطابق، عدلیہ کے اختیارات کم ہونگے اور کابینہ اور سیاسی جماعتوں کو یہ امکان میسر ہوگا کہ وہ ججوں کے تعین کی کمیٹی کو سیاسی جماعتوں کے اراکین کے ذریعے اپنے قابو میں لے لیں اور اس کمیٹی میں ججوں کی رکنیت کو ممنوع قرار دیں۔
دوسری طرف سے، صہیونی ریاست کی کابینہ کے عدالتی مشیر کے اختیارات نیز مختلف وزارتوں کے عدالتی مشیران کے اختیارات چھین لئے جائیں گے اور وزیر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اپنے دفتر میں کسی بھی عدالتی مشیر کو معزول یا مقرر کرے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اس بل کا مقصد پارلیمان کا کنیسٹ کے جملہ اراکین، بشمول، وزیر اعظم اور کابینہ کے وزراء کے استثنیٰ کا قانون بدل جائے گا؛ اور ان سے رکنیت پارلیمان کے دوران تفتیش نہیں کی جاسکے گی اور ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔ نیتن یاہو کی کابینہ جن تبدیلیوں کے درپے ہے، اس کی رو سے فوجداری قانون اور سزاؤں کے ضوابط سے "دھوکا دہی اور امانت میں خیانت" کی شق ہٹا لی جائے گی، اور یوں سیاستدان اور کابینہ کے کارکنان قانون سے ما وراء ہو جائیں گے؛ اور اس شق کی منسوخی کے ساتھ، سرکاری اہلکاروں کے ذاتی مفادات عمومی اور ریاستی مفادات پر مقدم تصور کئے جائیں گے۔
الیکٹرانک اخبار "رأی الیوم" کے مطابق، اختلافات میں شدت آنے کے بعد، اب پہلی بار "خانہ جنگی"، "عوامی بھونچال" جیسے الفاظ پوری طاقت کے ساتھ مقبوضہ سرزمینوں سے سنائی دے رہے ہیں۔ صہیونی ریاست کی چوٹی پر صدر اسحاق ہرزوگ نے حال ہی میں بر اقتدار اتحاد اور اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: "یہ رائے عامہ میں ایک حساس اور دھماکہ خیز مرحلہ ہے"۔
صہیونی ریاست کے سابق وزیر جنگ نے بھی گذشتہ پیر کے دن اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس ریاست کی موجودہ کابینہ کی پالیسیاں جاری رہنے کی صورت میں، مقبوضہ سرزمین میں "خانہ جنگی" کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110